khinchaa khinchaa nazar aataa hai ham se har aanchal
sitaare toD ke laaein to laaein kis ke liye

Aleem Usmani
Aleem Usmani
Aleem Usmani
Popular Shayari
3 totalnahin hai koi hamein zindagi kaa shauq magar
ham apni jaan se jaaein to jaaein kis ke liye
khilaaf ham nahin akhtar-shumaariyon ke magar
savaal ye hai ki nindein ganvaaein kis ke liye
Ghazalغزل
میں ان کو کبھی حد سے گزرنے نہیں دوں گا اس ترک تعلق کو میں چلنے نہیں دوں گا تم لاکھ اچھالا کرو الفاظ کے شعلے فردوس محبت کو میں جلنے نہیں دوں گا کرنا ہی پڑے چاہے صبا سے مجھے سازش میں آپ کے گیسو کو سنورنے نہیں دوں گا مایوس نگاہوں سے تم آئینہ نہ دیکھو میں اپنی نگاہوں کو بدلنے نہیں دوں گا باریک سہی لاکھ کسی شوخ کا آنچل نظروں کو میں شیشے میں اترنے نہیں دوں گا جب اس کی بچھڑتے ہوئے بھر آئیں گی آنکھیں کس طرح میں ساون کو برسنے نہیں دوں گا وہ چاہے علیمؔ اب کبھی آئیں کہ نہ آئیں تا عمر میں پلکوں کو جھپکنے نہیں دوں گا
main un ko kabhi had se guzarne nahin dungaa
دیتی ہیں تھپکیاں تری پرچھائیاں مجھے رشک بہشت ہیں مری تنہائیاں مجھے میرے نصیب میں سہی آہ و فغاں مگر اب تو سنائی دیتی ہیں شہنائیاں مجھے کتنے عروج پر ہے مرے عشق کا وقار حاصل ہیں کوئے یار کی رسوائیاں مجھے مائل ہے چشم مست ادھر لگ رہا ہے اب آواز دیں گی جھیل کی گہرائیاں مجھے قائم ہے میرے درد کا اب تک وہی بھرم اب بھی سلام کرتی ہیں پروائیاں مجھے اس دور سرکشی کی کشاکش کے درمیاں لگتی ہے پر سکون جبیں سائیاں مجھے جو تھے خراب وہ تو بلندی پہ ہیں علیمؔ پستی میں لے گئیں مری اچھائیاں مجھے
deti hain thapkiyaan tiri parchhaaiyaan mujhe
چراغ شام سے آخر جلائیں کس کے لئے کوئی نہ آئے گا آنکھیں بچھائیں کس کے لئے کھنچا کھنچا نظر آتا ہے ہم سے ہر آنچل ستارے توڑ کے لائیں تو لائیں کس کے لئے نہیں ہے کوئی ہمیں زندگی کا شوق مگر ہم اپنی جان سے جائیں تو جائیں کس کے لئے ستم اٹھانے کا مقصد بھی کوئی ہوتا ہے ہم آسمان سے شرطیں لگائیں کس کے لئے خلاف ہم نہیں اختر شماریوں کے مگر سوال یہ ہے کہ نیندیں گنوائیں کس کے لئے وفا اک آگ ہے بچوں کا کوئی کھیل نہیں ہم اپنا مفت میں دامن جلائیں کس کے لئے شراب ہم پہ ہمیشہ سے ہے حرام علیمؔ پتہ نہیں یہ اٹھی ہیں گھٹائیں کس کے لئے
charaagh shaam se aakhir jalaaein kis ke liye
ترے چاند جیسے رخ پر یہ نشان درد کیوں ہیں ترے سرخ عارضوں کے یہ گلاب زرد کیوں ہیں تجھے کیا ہوا ہے آخر مجھے کم سے کم بتا تو تری سانس تیز کیوں ہے ترے ہاتھ سرد کیوں ہیں تجھے ناپسند جو تھے وہی بے وقار رہتے جو عزیز تھے تجھے وہ ترے در کی گرد کیوں ہیں وہ کتاب لاؤ جس میں ہے بیان شان قومی مرے دور کی یہ قومیں بہ گرفت فرد کیوں ہیں مجھے شک گزر رہا ہے تری چارہ سازیوں پر اے مسیح وقت بتلا یہ دلوں میں درد کیوں ہیں جنہیں یاد تھے فسانے بہت اپنے بازوؤں کے اے علیمؔ مضمحل سے وہ دم نبرد کیوں ہیں
tire chaand jaise rukh par ye nishaan-e-dard kyuun hain
بادہ خانے کی روایت کو نبھانا چاہئے جام اگر خالی بھی ہو گردش میں آنا چاہئے آج آنا ہے انہیں لیکن نہ آنا چاہئے وعدۂ فردا اصولاً بھول جانا چاہئے ترک کرنا چاہئے ہرگز نہ رسم انتظار منتظر کو عمر بھر شمعیں جلانا چاہئے جذب کر لیتے ہیں اچھی صورتوں کو آئنہ آئنوں سے کیا تمہیں آنکھیں ملانا چاہئے میرے اس کے بیچ جو حالات کی دیوار ہے مجھ کو اس دیوار میں اک در بنانا چاہئے پھر کرم آگیں تبسم میں ہے پوشیدہ ستم ہوش مندوں کو پہیلی بوجھ جانا چاہئے گردش حالات سے مایوس ہونا کفر ہے عمر بھر انساں کو قسمت آزمانا چاہئے میری غزلیں ہوں گی کل نا محرموں کے درمیاں اس کی خوشبو میری غزلوں میں نہ آنا چاہئے ہم تو قائل ہی نہیں محدود الفت کے علیمؔ ہم کو الفت کے لئے سارا زمانہ چاہئے
baada-khaane ki rivaayat ko nibhaanaa chaahiye
وقت آخر جو بالیں پر آجائیو یاد رکھیو بہت نیکیاں پائیو میرے لائق جو ہو مجھ کو بتلائیو جان حاضر ہے کچھ اور فرمائیو ایک ڈر مجھ کو عرض تمنا میں ہے تم پسینے پسینے نہ ہو جائیو ہم دعا امن کی مانگتے ہیں مگر آپ بھی اپنی پائل کو سمجھائیو ہم کو بھی کچھ لکیروں کی پہچان ہے آپ اپنی ہتھیلی ادھر لائیو حال دل ہم سناتے ہیں ہنستے ہو تم ہم نہیں بولتے تم سے اب جائیو میر کے رنگ میں لکھ کے غزلیں علیمؔ دھیرے دھیرے نہ تم میر بن جائیو
vaqt-e-aakhir jo baalin par aajaaiyo





