SHAWORDS
Alqama Shibli

Alqama Shibli

Alqama Shibli

Alqama Shibli

poet
4Sher
4Shayari
23Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

choT phulon ki chhaDi se bhi na kyon dil par lage

چوٹ پھولوں کی چھڑی سے بھی نہ کیوں دل پر لگے شہر میں ہر آدمی جب درد کا پیکر لگے کار گاہ زندگی گویا ہے دشت کربلا راستے میں جس طرف بھی جائیے ٹھوکر لگے اس دیار روشنی نے یوں کیا ہے خیرہ چشم زندگی جیسے یہاں شب سے بھی تیرہ تر لگے راستے ویران چہرے فق لبوں پر خامشی دوستو یہ شہر بھی اب مجھ کو اپنا گھر لگے وقت کا بے رحم سورج کیوں نہ ہو زہرہ گداز صبح کی ٹھنڈی ہوا بھی جب مجھے خنجر لگے منزلیں ایسی بھی آئی ہیں سفر میں ذات کے پھول بھی زیر قدم آئے تو وہ پتھر لگے زخم تنہائی کا شبلیؔ تھا نہ کچھ کم جاں گداز اور اس پر یہ ہوا کہ پے بہ پے نشتر لگے

غزل · Ghazal

mujh ko auron se koi shikva nahin

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوہ نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون‌ حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا بخشا نہیں اب ہے چہروں پر نقاب مصلحت کوئی چہرہ دل کا آئینہ نہیں کیوں نہ ہو شعلہ بدامن زندگی کس طرف اب آگ کا دریا نہیں پھول کی اک پنکھڑی کہیے اسے زندگی اک برگ آوارہ نہیں ذہن شبلیؔ میں ہے اس کی گونج بھی وقت کے ہونٹوں پہ جو نغمہ نہیں

غزل · Ghazal

main ne aaj ek tamaashaa dekhaa

میں نے آج ایک تماشا دیکھا ساغر چشم میں دریا دیکھا رات اک خواب نرالا دیکھا دوش پر اپنا جنازہ دیکھا پوچھئے کچھ نہیں کیا کیا دیکھا وقت نے جو بھی دکھایا دیکھا خون پتھر سے بھی رستا دیکھا زندگی تیرا سراپا دیکھا قید تھیں درد کی صدیاں جس میں میری قسمت نے وہ لمحہ دیکھا تشنگی ہی جیسے دریا سے ملی اس نے قطرے میں بھی دریا دیکھا حادثے وقت کے ہیں جس پہ رقم کیا کسی نے بھی وہ چہرہ دیکھا عمر بھر دھوپ میں یوں ہی تڑپو تم نے کیوں خواب سحر کا دیکھا سو گیا وقت بھی مہتاب کے ساتھ رات شبلیؔ کو بھی تنہا دیکھا

غزل · Ghazal

junun-e-shauq-e-mohabbat ki aagahi denaa

جنون شوق محبت کی آگہی دینا خودی بھی جس پہ ہو قرباں وہ بے خودی دینا نہ شور چاہئے دریا کی تند موجوں کا مرے لہو کو سمندر کی خامشی دینا تو دے نہ دے مرے لب کو شگفتگی گل کی جو دے سکے تو شگوفے کی بیکلی دینا شناخت جس سے زمانے میں آدمی کی ہے یہ التجا ہے کہ تو مجھ کو وہ خودی دینا جھکا سکے نہ مرا سر کوئی بھی قدموں پر جو ہو سکے تو مجھے تو وہ سرکشی دینا نقاب الٹ دے جو بڑھ کر رخ تمنا سے یہ آرزو ہے کہ مجھ کو وہ تشنگی دینا نئی جہات سے فن کو جو آشنا کر دے مرے قلم کو خدایا وہ کج روی دینا

غزل · Ghazal

mujh ko auron se koi shikvaa nahin

مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون‌ حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا بخشا نہیں اب ہے چہروں پر نقاب مصلحت کوئی چہرہ دل کا آئینہ نہیں کیوں نہ ہو شعلہ بدامن زندگی کس طرف اب آگ کا دریا نہیں پھول کی اک پنکھڑی کہئے اسے زندگی اک برگ آوارہ نہیں ذہن شبلیؔ میں ہے اس کی گونج بھی وقت کے ہونٹوں پہ جو نغمہ نہیں

غزل · Ghazal

ye kyaa ki faqat apni hi tasvir banaao

یہ کیا کہ فقط اپنی ہی تصویر بناؤ اے نقش گرو وسعت فن کچھ تو دکھاؤ کھلتا نہیں کیا لالہ و گل سوچ رہے ہیں کچھ تم ہی کہو فصل بہاراں کی ہواؤ چھا جائے نہ احساس پہ ظلمت شب غم کی یارو دل سوزاں کی نہ قندیل بجھاؤ ہر صبح مرے خواب سے گل گونہ طلب ہے ہر شام کو ضد ہے کہ مجھے غازہ لگاؤ رنگین ہے دامان سحر کس کے لہو سے خاموش ہو کیوں دار و رسن کچھ تو بتاؤ یہ فرش نشیں عرش نشیں تو نہیں شبلیؔ سر دل کی بلندی ہے نہ قدموں پہ جھکاؤ

Similar Poets