"ye kya ki faqat apni hi tasvir banao ai naqsh-garo vus.at-e-fan kuchh to dikhao"

Alqama Shibli
Alqama Shibli
Alqama Shibli
Sherشعر
ye kya ki faqat apni hi tasvir banao
یہ کیا کہ فقط اپنی ہی تصویر بناؤ اے نقش گرو وسعت فن کچھ تو دکھاؤ
us manzil-e-hayat men ab gamzan hai dil
اس منزل حیات میں اب گامزن ہے دل شبلیؔ! جہاں کسی کی بھی آواز پا نہیں
gum rahoge kab tak apni zaat hi men
گم رہوگے کب تک اپنی ذات ہی میں زندگی سے بھی کبھی آنکھیں ملاؤ
kyuun laghzish-e-pa meri malamat ka hadaf hai
کیوں لغزش پا میری ملامت کا ہدف ہے جینے کا سلیقہ مجھے بخشا ہے اسی نے
Popular Sher & Shayari
8 total"us manzil-e-hayat men ab gamzan hai dil 'shibli'! jahan kisi ki bhi avaz-e-pa nahin"
"gum rahoge kab tak apni zaat hi men zindagi se bhi kabhi ankhen milao"
"kyuun laghzish-e-pa meri malamat ka hadaf hai jiine ka saliqa mujhe bakhsha hai isi ne"
us manzil-e-hayaat mein ab gaamzan hai dil
'shibli'! jahaan kisi ki bhi aavaaz-e-paa nahin
gum rahoge kab tak apni zaat hi mein
zindagi se bhi kabhi aankhein milaao
ye kyaa ki faqat apni hi tasvir banaao
ai naqsh-garo vusat-e-fan kuchh to dikhaao
kyuun laghzish-e-paa meri malaamat kaa hadaf hai
jiine kaa saliqa mujhe bakhshaa hai isi ne
Ghazalغزل
choT phulon ki chhaDi se bhi na kyon dil par lage
چوٹ پھولوں کی چھڑی سے بھی نہ کیوں دل پر لگے شہر میں ہر آدمی جب درد کا پیکر لگے کار گاہ زندگی گویا ہے دشت کربلا راستے میں جس طرف بھی جائیے ٹھوکر لگے اس دیار روشنی نے یوں کیا ہے خیرہ چشم زندگی جیسے یہاں شب سے بھی تیرہ تر لگے راستے ویران چہرے فق لبوں پر خامشی دوستو یہ شہر بھی اب مجھ کو اپنا گھر لگے وقت کا بے رحم سورج کیوں نہ ہو زہرہ گداز صبح کی ٹھنڈی ہوا بھی جب مجھے خنجر لگے منزلیں ایسی بھی آئی ہیں سفر میں ذات کے پھول بھی زیر قدم آئے تو وہ پتھر لگے زخم تنہائی کا شبلیؔ تھا نہ کچھ کم جاں گداز اور اس پر یہ ہوا کہ پے بہ پے نشتر لگے
mujh ko auron se koi shikva nahin
مجھ کو اوروں سے کوئی شکوہ نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا بخشا نہیں اب ہے چہروں پر نقاب مصلحت کوئی چہرہ دل کا آئینہ نہیں کیوں نہ ہو شعلہ بدامن زندگی کس طرف اب آگ کا دریا نہیں پھول کی اک پنکھڑی کہیے اسے زندگی اک برگ آوارہ نہیں ذہن شبلیؔ میں ہے اس کی گونج بھی وقت کے ہونٹوں پہ جو نغمہ نہیں
main ne aaj ek tamaashaa dekhaa
میں نے آج ایک تماشا دیکھا ساغر چشم میں دریا دیکھا رات اک خواب نرالا دیکھا دوش پر اپنا جنازہ دیکھا پوچھئے کچھ نہیں کیا کیا دیکھا وقت نے جو بھی دکھایا دیکھا خون پتھر سے بھی رستا دیکھا زندگی تیرا سراپا دیکھا قید تھیں درد کی صدیاں جس میں میری قسمت نے وہ لمحہ دیکھا تشنگی ہی جیسے دریا سے ملی اس نے قطرے میں بھی دریا دیکھا حادثے وقت کے ہیں جس پہ رقم کیا کسی نے بھی وہ چہرہ دیکھا عمر بھر دھوپ میں یوں ہی تڑپو تم نے کیوں خواب سحر کا دیکھا سو گیا وقت بھی مہتاب کے ساتھ رات شبلیؔ کو بھی تنہا دیکھا
junun-e-shauq-e-mohabbat ki aagahi denaa
جنون شوق محبت کی آگہی دینا خودی بھی جس پہ ہو قرباں وہ بے خودی دینا نہ شور چاہئے دریا کی تند موجوں کا مرے لہو کو سمندر کی خامشی دینا تو دے نہ دے مرے لب کو شگفتگی گل کی جو دے سکے تو شگوفے کی بیکلی دینا شناخت جس سے زمانے میں آدمی کی ہے یہ التجا ہے کہ تو مجھ کو وہ خودی دینا جھکا سکے نہ مرا سر کوئی بھی قدموں پر جو ہو سکے تو مجھے تو وہ سرکشی دینا نقاب الٹ دے جو بڑھ کر رخ تمنا سے یہ آرزو ہے کہ مجھ کو وہ تشنگی دینا نئی جہات سے فن کو جو آشنا کر دے مرے قلم کو خدایا وہ کج روی دینا
mujh ko auron se koi shikvaa nahin
مجھ کو اوروں سے کوئی شکوا نہیں میں نے بھی تو خود کو پہچانا نہیں سر پہ آ پہنچا ہے سورج کرب کا ساتھ اپنے سایہ بھی اپنا نہیں شوق منزل ہی ہے میرا خضر راہ نقش پا ہر موڑ پر ملتا نہیں ہو گیا خون حیات اب یوں سفید جیسے میرا اس سے کچھ رشتہ نہیں ہے خیال خام وہ میں نے جسے پیرہن الفاظ کا بخشا نہیں اب ہے چہروں پر نقاب مصلحت کوئی چہرہ دل کا آئینہ نہیں کیوں نہ ہو شعلہ بدامن زندگی کس طرف اب آگ کا دریا نہیں پھول کی اک پنکھڑی کہئے اسے زندگی اک برگ آوارہ نہیں ذہن شبلیؔ میں ہے اس کی گونج بھی وقت کے ہونٹوں پہ جو نغمہ نہیں
ye kyaa ki faqat apni hi tasvir banaao
یہ کیا کہ فقط اپنی ہی تصویر بناؤ اے نقش گرو وسعت فن کچھ تو دکھاؤ کھلتا نہیں کیا لالہ و گل سوچ رہے ہیں کچھ تم ہی کہو فصل بہاراں کی ہواؤ چھا جائے نہ احساس پہ ظلمت شب غم کی یارو دل سوزاں کی نہ قندیل بجھاؤ ہر صبح مرے خواب سے گل گونہ طلب ہے ہر شام کو ضد ہے کہ مجھے غازہ لگاؤ رنگین ہے دامان سحر کس کے لہو سے خاموش ہو کیوں دار و رسن کچھ تو بتاؤ یہ فرش نشیں عرش نشیں تو نہیں شبلیؔ سر دل کی بلندی ہے نہ قدموں پہ جھکاؤ





