SHAWORDS
A

Ambar Kharbanda

Ambar Kharbanda

Ambar Kharbanda

poet
6Sher
6Shayari
4Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

har ik rishta bikhraa bikhraa kyuun lagtaa hai

ہر اک رشتہ بکھرا بکھرا کیوں لگتا ہے اس دنیا میں سب کچھ جھوٹا کیوں لگتا ہے میرا دل کیوں سمجھ نہ پایہ ان باتوں کو جو ویسا ہوتا ہے ایسا کیوں لگتا ہے جو یادیں اکثر تڑپاتی ہے اس دل کو ان یادوں کا دل میں میلا کیوں لگتا ہے اس کو فکر وہ سب سے بڑا کیسے ہو جائے میں سوچوں وہ اتنا چھوٹا کیوں لگتا ہے دنیاوی رشتے تو سچے کب تھے لیکن روحوں کا ملنا بھی جھوٹا کیوں لگتا ہے میرے حصے میں آئی مے کا ہر قطرہ اس کی آنکھوں ہی سے چھلکا کیوں لگتا ہے عنبرؔ جی تم شعر تو کہہ لیتے ہو لیکن ہر اک مصرعہ ٹوٹا پھوٹا کیوں لگتا ہے

غزل · Ghazal

zamaane-bhar se judaa aur baa-kamaal koi

زمانے بھر سے جدا اور با کمال کوئی مرے خیالوں میں رہتا ہے بے مثال کوئی نہ جانے کتنی ہی راتوں کا جاگنا ٹھہرا مرے وجود سے الجھا ہے جب خیال کوئی تمہیں بتاؤ کہ پھر گفتگو سے کیا حاصل جواب ہونے کی ضد کر لے جب سوال کوئی کرم کے بخش دیا تو نے مشکلوں کا پہاڑ اب اس پہاڑ سے رستہ مگر نکال کوئی گزارنے تھے یہی چار دن گزار دئے نہ کوئی رنج نہ شکوہ نہ اب ملال کوئی ہمارے ساتھ دعائیں بہت تھیں اپنوں کی کبھی سکون سے گزرا مگر نہ سال کوئی

غزل · Ghazal

jahaan mein har bashar majbur ho aisaa nahin hotaa

جہاں میں ہر بشر مجبور ہو ایسا نہیں ہوتا ہر اک راہی سے منزل دور ہو ایسا نہیں ہوتا تعلق ٹوٹنے کا غم کبھی ہم سے بھی پوچھو تم تمہارا زخم ہی ناسور ہو ایسا نہیں ہوتا گواہوں کو تو بک جانے کی مجبوری رہی ہوگی ہمیں بھی فیصلہ منظور ہو ایسا نہیں ہوتا محبت جرم ہے تو پھر سزا بھی ایک جیسی ہو کوئی رسوا کوئی مشہور ہو ایسا نہیں ہوتا کتابوں کی ہیں یہ باتیں کتابوں ہی میں رہنے دو کوئی مفلس کبھی مسرور ہو ایسا نہیں ہوتا کوئی مصرعہ اگر دل میں اتر جائے غنیمت ہے تغزل سے غزل بھرپور ہو ایسا نہیں ہوتا کبھی پیتا ہے عنبرؔ زندگی کے غم بھلانے کو وہ ہر شب ہی نشے میں چور ہو ایسا نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

mushkil ko samajhne kaa vasila nikal aataa

مشکل کو سمجھنے کا وسیلہ نکل آتا تم بات تو کرتے کوئی رستہ نکل آتا گھر سے جو مرے سونا یا پیسہ نکل آتا کس کس سے مرا خون کا رشتہ نکل آتا میرے لئے اے دوست بس اتنا ہی بہت تھا جیسا تجھے سوچا تھا تو ویسا نکل آتا میں جوڑ تو دیتا تری تصویر کے ٹکڑے مشکل تھا کہ وو پہلا سا چہرہ نکل آتا بس اور تو کیا ہونا تھا دکھ درد سنا کر یاروں کے لئے ایک تماشہ نکل آتا ایسا ہوں میں اس واسطے چبھتا ہوں نظر میں سوچو تو اگر میں کہیں ویسا نکل آتا اچھا ہوا پرکھا نہیں عنبرؔ کو کسی نے کیا جانیے کیا شخص تھا کیسا نکل آتا

Similar Poets