SHAWORDS
Amir Hamza Saqib

Amir Hamza Saqib

Amir Hamza Saqib

Amir Hamza Saqib

poet
13Sher
13Shayari
93Ghazal

Sherشعر

See all 13

Popular Sher & Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 93
غزل · Ghazal

gard-baad-e-sharaar hain ham log

گرد باد شرار ہیں ہم لوگ کس کے جی کا غبار ہیں ہم لوگ آ کہ حاصل ہو ناز عز و شرف آ تری رہ گزار ہیں ہم لوگ بے کجاوہ ہے ناقۂ دنیا اور زخمی سوار ہیں ہم لوگ جبر کے باب میں فروزاں ہیں حاصل اختیار ہیں ہم لوگ پھر بدن میں تھکن کی گرد لئے پھر لب جوئے بار ہیں ہم لوگ چشم نرگس مگر علیل بھی ہے کس لئے بے کنار ہیں ہم لوگ

غزل · Ghazal

pahra paani pe hai aur ju-e-sitam jaari hai

پہرہ پانی پہ ہے اور جو ستم جاری ہے زخم خوردہ ہیں مگر جنگ کہاں ہاری ہے مجھ سے پوچھا نہ کرو شغل جنوں کی بابت تم سے فرصت ہے مری جان سو بیکاری ہے تو ادھر کیسے نکل آئی ہے دنیاداری جذبۂ شوق کی اس سمت عمل داری ہے گردش شام و سحر سے بھی کوئی فرق پڑا دائرہ وار مجھے تیری ہی دیداری ہے لذتیں زہر بجھا تیر ہوئی جاتی ہیں کیا مری روح بدن جسم سے انکاری ہے آرزو ہوتی ہے رخصت کسی دلہن کی طرح جشن شادی بھی عجب رسم عزا داری ہے

غزل · Ghazal

barpaa kisi din mahfil-e-tanhaai kareinge

برپا کسی دن محفل تنہائی کریں گے آؤ تو شب ہجر کی بھرپائی کریں گے ہم وہ ترے ہشیار کہ آپ اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہی گلی اپنی ہی رسوائی کریں گے کیوں شعر سنانے پہ مری جان مصر ہو ہم لوگ تو زخموں کی پذیرائی کریں گے پانی پہ چلیں گے کبھی تیریں گے فضا میں ممکن نہیں جو کچھ ترے سودائی کریں گے نیزہ لیے نکلے ہیں تو کیوں خوف زدہ ہو سرکار بہ ہر حال مسیحائی کریں گے روئیں گے ہمیں شہر کے ہنگامے دوانو جنگل میں اگر انجمن آرائی کریں گے آ جاؤ کہ سینوں کے دیے بجھنے لگے ہیں آ جاؤ کہاں تک نفس آرائی کریں گے

غزل · Ghazal

ab kahaan kaa junun ki mar rahiye

اب کہاں کا جنوں کہ مر رہیے دشت و صحرا ہیں تنگ گھر رہیے مل ہی جائے گا غیرت فردوس اسم جاں پڑھیے راہ پر رہیے آگہی خون چوس لیتی ہے چھوڑیئے جو ہو باخبر رہیے اپنی گدڑی میں مست ہے یہ ملنگ داور زر میاں ادھر رہئے شہر خوبان سبز رنگ کہاں کس خرابے میں زیست کر رہیے کوئے جاناں میں کم سے کم ثاقبؔ آبرو رکھیے بیشتر رہیے

غزل · Ghazal

badan ke daf par lahu bahaa le de raft raftan thirak rahaa hai

بدن کے دف پر لہو بہا لے دے رفت رفتن تھرک رہا ہے یہ کون نداف اندر اندر تمام روئی دھنک رہا ہے ہم اپنے رویائے عشق سارے جلا کے خاشاک کر تو دیں گے مگر وہ اک خواب جو مسلسل ہماری آنکھوں کو تک رہا ہے فرشتے اجلے پروں سے سر سبز فصل رحمت بکھیرتے ہیں غریب دہقاں حکایتوں سے زمیں کے داغوں کو ڈھک رہا ہے میں اپنی تنہائیوں کے راگوں میں اپنی وحشت کو ڈھالتا ہوں یہ میری سانسوں کے زیر و بم میں تمہارا دل کیوں دھڑک رہا ہے ازل ابد ہست و بود میں تو سب اک اکائی میں ڈھل رہے ہیں نظر پہ تھا منظروں کا پردہ سو اب یہ پردہ سرک رہا ہے

غزل · Ghazal

koi mahtaab-e-digar hai mire andar tujh saa

کوئی مہتاب دگر ہے مرے اندر تجھ سا سو مرا داغ محبت ہے منور تجھ سا نیم کے پیڑ سے شہتوت کسے ملتا ہے سب کا ہوتا نہیں اے جان مقدر تجھ سا مصلحت بیں مرے لشکر کے جیالے سارے حوصلہ لائیں کہاں سے دل اصغر تجھ سا زہر پینا در نایاب لٹاتے رہنا ظرف کب مجھ کو میسر ہے سمندر تجھ سا عشق برتا ہی نہیں تو نے ابھی تک ثاقبؔ تس پہ دعویٰ ہے نہیں کوئی سخن ور تجھ سا

Similar Poets