ishq se baaz aate ham divaane kyaa
thi samajh ki baat ham samjhe nahin

Amir Mausavi
Amir Mausavi
Amir Mausavi
Popular Shayari
2 totalham khudaa bhi maan leinge aap ko
aap pahle ho to jaaein aadmi
Ghazalغزل
اعتبار شوق اک دھوکا سہی اعتبار شوق پر ہے زندگی سونی یادو تم سے پہلو ہے بسا سونی یادو تم سے کیا پہلو تہی دل ہوا چھلنی تو نغمے چھن پڑے بانس میں روزن پڑے تو بانسری بے کسی میں بھی بڑا کس بل ہے دوست موت کیا ہے زیست کو ٹھکرا کے جی ہم خدا بھی مان لیں گے آپ کو آپ پہلے ہو تو جائیں آدمی کیا ید بیضا سے کم ہے داغ دل معجزہ رکھتا ہوں عامرؔ موسوی
e'tibaar-e-shauq ik dhokaa sahi
ہم کنارا کئے کناروں سے کھیلا کرتے ہیں منجدھاروں سے ہم گزرتے ہیں کھیلتے ہنستے شعلہ زاروں سے خارزاروں سے نام پاتے ہیں ناصح بے نام ہم سے بدنام بادہ خواروں سے تف بہ مطلب براری یاراں اف یہ اطوار خاکساروں سے جن کے دل میں گلوں کی چاہت ہے پہلے وہ سرخ رو ہوں خاروں سے دل کی راہوں میں بو لیے کانٹے کر کے امید گلعذاروں سے یوں ہے جنبش میں پھول کی ڈالی وہ بلاتے ہیں جوں اشاروں سے یوں تو مہ وش ہزار دیکھے ہیں تم جدا ہو مگر ہزاروں سے بوالہوس ہے رقیب باطن میں طور ظاہر میں جاں نثاروں سے اک فسانہ کہ تھا دیار اپنا اک حقیقت کہ بے دیاروں سے تو نے اے دوست ساتھ کیا چھوڑا دل لرزتا ہے اب سہاروں سے گرم بازار ہے مرے فن کا داد پاتا ہوں نقد کاروں سے روٹھ جائیں نہ وہ کہیں عامرؔ شعر پڑھیے نہ یوں اشاروں سے
ham kinaaraa kiye kinaaron se
خاکساروں کے فن کرارے ہیں خاک اوڑھے ہوئے شرارے ہیں آدمی یہ بھی وہ بھی سارے ہیں نت نئے رنگ روپ دھارے ہیں کیوں نہ خودبیں ہوں ماہ پارے ہیں پیار کرتے نہیں جو پیارے ہیں مٹ گئے جو وفا کی راہوں میں کتنے انمٹ نشاں ابھارے ہیں کس سے شکوہ ہو بے وفائی کا ہم تو اپنی وفا کے مارے ہیں یاس ہی یاس تم ہمارے ہو آس ہی آس ہم تمہارے ہیں یاد تیری بڑا سہارا ہے تجھ کو بھولے تو بے سہارا ہیں یوں بجھے دل کی حسرتیں نہ کرید راکھ کے ڈھیر میں شرارے ہیں جن کی کوئی سحر نہ شام کوئی ہم نے ایسے بھی دن گزارے ہیں کتنے گزرے ہیں حادثے دل پر وہ جو پیارے تھے دل کو پیارے ہیں جان لیوا ہیں پیار کے رشتے ان پہ مرتے ہیں جن کے مارے ہیں غم میں ہنستا خوشی میں روتا ہے طور عامرؔ کے سب نیارے ہیں
khaaksaaron ke fan karaare hain
لٹ جائے چمن گل کا تبسم نہیں بکتا سو دام ہوں بلبل کا ترنم نہیں بکتا بک جاتا ہے زردار کی الفت کا تیقن نادار کی چاہت کا توہم نہیں بکتا بڑھتی ہے بڑھے گرمئ بازار ہوس کی لب بکتے ہیں اے دوست تبسم نہیں بکتا لب سی دو زباں کھینچ دو سولی پہ چڑھا دو حق گو کا زمانے میں تکلم نہیں بکتا حالات نے کر رکھا ہو محکوم بھی عامرؔ خوددار ارادوں کا تحکم نہیں بکتا
luT jaae chaman gul kaa tabassum nahin biktaa
یہ مانا کہ ہستی نہیں جاودانی محبت ہے لیکن مری غیر فانی زباں کھل نہ پائی تو دل کی کہانی سناتے رہے آنسوؤں کی زبانی مرے اشک دامن سے اپنے نہ پونچھو تھمے گی نہ اشکوں کی پھر یہ روانی شکایت نہیں ہے بھلا دے اگر تو نہ آ یاد مجھ کو بڑی مہربانی دل زار کی تو نے فریاد آخر نہ مانی مری بات تو نے نہ مانی گناہوں کے قابل نہ طفلی نہ پیری نہ توبہ پہ مائل ہے اپنی جوانی ملا ان کو جلوہ جو ہوش اپنے کھوئے ملی ہوشمندی کو بس لن ترانی نظر اٹھ رہی ہے ادھر گاہے گاہے زباں بن رہی ہے مری بے زبانی گنہ گار ہیں شیخ بچپن سے شاید گزرتی ہے توبہ میں ان کی جوانی کہانی کہیں بن گئی ہے حقیقت حقیقت کہیں بن گئی ہے کہانی مرے حال پر مہربانی نہ کیجے یہی آپ کی ہے بڑی مہربانی مرے نام پر ختم کر دی ہے عامرؔ وفاؤں کی چھیڑی ہے جس نے کہانی
ye maanaa ki hasti nahin jaavedaani
کوئی منجدھار نہ دھارا ہے خدا خیر کرے آج کیوں پاس کنارا ہے خدا خیر کرے پھر نشیمن کو سنوارا ہے خدا خیر کرے برق کی آنکھ کا تارا ہے خدا خیر کرے دیکھیں لوٹ آتی ہے آواز کہ ملتا ہے جواب دل نے پھر تجھ کو پکارا ہے خدا خیر کرے ہوش پانے کا نہیں دل کہ جو پانی مانگے زلف شب رنگ کا مارا ہے خدا خیر کرے ذہن اپنائے ہوئے فکر پہ وہ چھائے ہوئے گھر نہ سامان ہمارا ہے خدا خیر کرے ہو گیا درد سوا کیا ہوا بے درد کو آج شکوۂ درد گوارہ ہے خدا خیر کرے اب گریباں ہی سلامت ہے نہ دامن باقی پھر بہاروں نے پکارا ہے خدا خیر کرے اک فسوں کار ہے غارت گر ہوش و تمکیں جس نے شیشے میں اتارا ہے خدا خیر کرے خرمن ضبط و سکوں تیرا خدا حافظ ہے جلوۂ یار شرارہ ہے خدا خیر کرے دیکھیے کیا ہو کہ آمادۂ فریاد ہے دل اب نہ کچھ ضبط کا یارا ہے خدا خیر کرے کل جئیں یا نہ جئیں آج ترے جانے پر وقت مر مر کے گزارا ہے خدا خیر کرے کروٹیں وقت بدلتا ہے اٹھو چارہ گرو کب سے بے چارگی چارا ہے خدا خیر کرے کتنے عیسیٰ ہیں جو اس دور میں دیتے ہیں جواب پھر صلیبوں نے پکارا ہے خدا خیر کرے پھر کوئی بن کے مہرباں نہ کرے اس پہ نظر غم کو ہنس ہنس کے نکھارا ہے خدا خیر کرے زندگی یاد سے تیری نہ ہو غافل اے دوست اب یہی ایک سہارا ہے خدا خیر کرے کیا ملے دل کہ نظر بھی نہیں ملتی عامرؔ حسن خودبیں و خود آرا ہے خدا خیر کرے
koi manjdhaar na dhaaraa hai khudaa khair kare





