SHAWORDS
Amit Ahad

Amit Ahad

Amit Ahad

Amit Ahad

poet
5Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جب بھی برسی عذاب کی بارش راس آئی شراب کی بارش میں نے پوچھا کہ پیار ہے مجھ سے اس نے کر دی گلاب کی بارش میں نے تو اک سوال پوچھا تھا اس نے کر دی جواب کی بارش حسن والوں کے واسطے کر دے اے خدا تو حجاب کی بارش شاعری پر یقیں ہے برسے گی ایک دن تو خطاب کی بارش میں نے اک جام اور مانگا تھا اس نے کر دی حساب کی بارش دیر تک ساتھ بھیگے ہم اس کے ہم نے یوں کامیاب کی بارش پیار سے روک دی احدؔ میں نے آج اس کے عتاب کی بارش

jab bhi barsi azaab ki baarish

غزل · Ghazal

خدا کی کون سی ہے راہ بہتر جانتا ہے مزہ ہے نیکیوں میں کیا قلندر جانتا ہے بہت ہمدرد ہیں میرے مگر انجان ہیں سب مرے زخموں کی حالت کو رفوگر جانتا ہے کسی سے میں نہیں کہتا مگر میری غریبی مری دیواروں کا اکھڑا پلستر جانتا ہے کبھی مندر کبھی مسجد پہ ہے اس کا بسیرا دھرم انسانیت کا بس کبوتر جانتا ہے صنم تیری جدائی میں کٹا ہے وقت مشکل گنے دن ہجر میں کتنے کلنڈر جانتا ہے کہیں بھر پیٹ روٹی تو کہیں سے ہاتھ خالی کسی کی کیسی ہے نیت گداگر جانتا ہے میں پیاسا رہ کے بھی منت نہیں کرتا کسی کی بہت خوددار ہوں میں یہ سمندر جانتا ہے کسی بھی وقت یہ مظلوم کر دیں گے بغاوت ستم کی ہو چکی ہے حد ستم گر جانتا ہے رہیں ارتھی سے باہر ہاتھ اس کا قول ہے یہ نہ کچھ بھی ساتھ جائے گا سکندر جانتا ہے تمہاری یاد میں راتیں کٹی ہیں مشکلوں سے رہا ہوں کتنا میں بے چین بستر جانتا ہے نہ ہوگا دوسرا پیدا جہاں میں کوئی گاندھی بہت اچھی طرح سے پوربندر جانتا ہے یہاں ہے بھیڑ میں بھی کس قدر ہر شخص تنہا تمہارے شہر کا ہر ایک منظر جانتا ہے احدؔ جینے کو تو سب جی رہے ہیں اس جہاں میں مگر اس زیست کا مطلب سخنور جانتا ہے

khudaa ki kaun si hai raah behtar jaantaa hai

غزل · Ghazal

ساتھ کس کو چاہیے اب دھوپ کا ٹھنڈ میں لیں گے مزہ سب دھوپ کا بٹ گئے ہیں مذہبوں میں سب یہاں کوئی بتلائے تو مذہب دھوپ کا مشکلوں میں ساتھ کوئی بھی نہیں آج سمجھے ہم تو مطلب دھوپ کا گرم موسم سے پریشاں سب ہوئے جسم ٹھنڈا کر دے اے رب دھوپ کا چھانو گھر سے اوڑھ کر نکلا کرو کیا پتہ موسم ڈھلے کب دھوپ کا پڑھ کے آئیں پھر نیا کوئی سبق کھل گیا ہے دیکھو مطلب دھوپ کا چھانو تب حاصل ہوئی مجھ کو احدؔ طے کیا ہر دن سفر جب دھوپ کا

saath kis ko chaahiye ab dhuup kaa

غزل · Ghazal

بھلا برا وہ خدا کرے گا غریب تو بس دعا کرے گا تیری جدائی کو یاد کر کے کئی دفعہ دل بجھا کرے گا ملایا ہے جب خدا نے ہم کو تو کون ہم کو جدا کرے گا جئیں گے تیرے بغیر بھی ہم مگر بہت دل دکھا کرے گا کبھی ملو گے یہ سوچ کر دل ہزار سپنے بنا کرے گا یہ سانسیں تیرے بغیر چپ ہیں ترے بنا دم گھٹا کرے گا احدؔ وہ خود کو فریب دے گا جو وقت کو ان سنا کرے گا

bhalaa-buraa vo khudaa karegaa

غزل · Ghazal

جو عشق میں گزارہ لمحہ پسند آیا آنکھوں میں بس گیا جو چہرہ پسند آیا یوں تو سفر کیا ہے کتنے ہی راستوں پر لیکن ترے ہی گھر کا رستہ پسند آیا میری نگاہ میں ہے تیری تلاش باقی میری دیوانگی کو صحرا پسند آیا بے شک نبھا نہ پائے وعدہ کیا جو تم نے لیکن صنم تمہارا وعدہ پسند آیا اٹھتی ہے اس لیے بھی تیری طرف نگاہیں تیرے حسین رخ پر چشمہ پسند آیا غصے میں لگ رہی ہو تم اور خوبصورت دل کو بہت تمہارا نخرہ پسند آیا کچھ اور دیکھنے کی حسرت رہی نہ باقی جب سے صنم تمہارا چہرہ پسند آیا ہو جائے گی مکمل اب تو غزل یقیں ہے تیرے حسیں لبوں کا مصرعہ پسند آیا بے شک بہت شکایت تجھ کو ہے اس جہاں سے پھر بھی احدؔ یہ تیرا لہجہ پسند آیا

jo ishq mein guzaara lamha pasand aayaa

غزل · Ghazal

زندگی بیقرار کون کرے خواہشیں بے شمار کون کرے چھوڑ کر کام یہ محبت کا خود کو بے روزگار کون کرے جب وفا ہی نہیں زمانے میں عشق سر پر سوار کون کرے موت آئی ہے زیست کو لینے موت سے اب ادھار کون کرے حال جب پوچھتا نہیں کوئی درد کو اشتہار کون کرے تیرگی میں ادب کی دنیا ہے اب یہ روشن دیار کون کرے خار ہی خار ہیں احدؔ جس پر راہ وہ اختیار کون کرے

zindagi be-qaraar kaun kare

Similar Poets