SHAWORDS
Amritanshu Sharma

Amritanshu Sharma

Amritanshu Sharma

Amritanshu Sharma

poet
2Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

تو شب و روز سے ہلکان نظر آتا ہے چند ہی روز کا مہمان نظر آتا ہے خشک آنکھوں میں بسا درد کا صحرا دیکھو ہر کوئی چاک گریبان نظر آتا ہے اب تلک میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ گھر کس کے جانے پہ بیابان نظر آتا ہے ڈال رکھے ہیں محبت کے عریضے ہم نے کیوں یہ دریا تمہیں سنسان نظر آتا ہے چاہتا ہوں کہ کسی کام ہی آ جاؤں کہیں پر سبھی کو سفر آسان نظر آتا ہے

tu shab-o-roz se halkaan nazar aataa hai

غزل · Ghazal

دل کو تیرا گماں سا ہوتا ہے ایک جذبہ جواں سا ہوتا ہے شب کی تنہائیوں میں آنکھوں سے ایک دریا رواں سا ہوتا ہے درد کا آفتاب ڈھلنے پر آسماں خونچکاں سا ہوتا ہے تو نہیں ہے پہ تیرا غم میرا عادتاً ہم زباں سا ہوتا ہے تیری پرچھائیاں ابھرتی ہیں آنکھ میں جب دھواں سا ہوتا ہے نیند آتی ہے دشت میں اس دم عشق جب سائباں سا ہوتا ہے تو تو امرتؔ ہے پھر بھی موت کے وقت کیوں بھلا رائیگاں سا ہوتا ہے

dil ko teraa gumaan saa hotaa hai

غزل · Ghazal

ایسا نہیں ملے گا کہیں بے قرار دل آشفتگی کا مارا ہوا سوگوار دل بازار بھی ہے دیر و حرم بھی ہیں عشق بھی جھیلے تو جھیلے کتنا غم روزگار دل کچھ روز سے وہ خستہ تنی ہے کہ کیا کہوں سینہ رفو کیا تو ہوا تار تار دل تھا اک خیال اس کا سو وہ بھی چلا گیا کس سے نکالے جا کے بھلا اب غبار دل بس ایک سنگ در سے رہا رشتہ عمر بھر ایسا نہیں ملے گا عبادت گزار دل تیری ہی بے نیاز ادا کا اثر یہ ہے اب خود ہی ڈھونڈھنے لگا راہ فرار دل اس شہر رنگ و نور سے آگے نکل گیا اب جا چکا ہے عشق مجازی کے پار دل

aisaa nahin milegaa kahin be-qaraar dil

غزل · Ghazal

ملتے ہیں شہر یار میں منظر گلاب کے سب سائباں گلاب کے سب در گلاب کے جب آفتاب خوں میں نہایا زوال پر بادل لہو لہو تھے کہ لشکر گلاب کے سایا کسی کا صحن چمن پر بکھر گیا اور بن رہے ہیں باغ میں پیکر گلاب کے کوئی تو رنگ آتش لب کو بدل گیا پہلے تھے ان کے ہونٹ برابر گلاب کے یاقوت تھا شرر تھے لہو تھا کہ آب سرخ آنکھیں تھیں ان کی یا کہ تھے ساغر گلاب کے بھنوروں سے پوچھے کوئی بھلا رس کو چھوڑ کر کیا ڈھونڈتے ہیں جانے وہ اندر گلاب کے بلبل سے کوئی کہہ دے چمن میں کہ ان دنوں امرتؔ بھی ہو گئے ہیں سخنور گلاب کے

milte hain shahr-e-yaar mein manzar gulaab ke

غزل · Ghazal

قرار ڈھونڈ رہا ہوں مگر قرار نہیں کہ اک ذرا دل مضطر پہ اختیار نہیں دعائیں کرتا ہوں دیدار یار کی لیکن عجب یہ ہے کہ قیامت کا انتظار نہیں کبھی تو اس کے کہے پر ہی مان لیتا تھا اور اب یہ حال کہ آنکھوں پہ اعتبار نہیں کبھی اسے کبھی مجھ کو ہے ڈر بچھڑنے کا شب وصال کسی طور خوش گوار نہیں

qaraar DhunD rahaa huun magar qaraar nahin

غزل · Ghazal

بہت قیمتی ہیں یہ پیروں کے چھالے اندھیروں میں ہیں یہ سراپا اجالے چمکنے کی خاطر ہے بیتاب ہر شے کوئی روشنی ان اندھیروں پے ڈالے طبیعت سے قاتل ہیں پر لگ رہے ہیں بہت سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے جفا کرنے والے جفا کر رہے ہیں وفا کر رہے ہیں وفا کرنے والے ان آنکھوں کے دیپک بجھے جا رہے ہیں خدا کے لیے رخ سے پردا اٹھا لے پری رخ ہیں ہر سو تری انجمن میں کہاں تک کوئی اپنے دل کو سنبھالے جنہیں سن کے گلشن میں ہے شادمانی یہ نغمے ہیں امرتؔ کے بلبل کے نالے

bahut qimti hain ye pairon ke chhaale

Similar Poets