"tumhen to aa.egi bas 'mir' ki khumari pasand kahan 'amulya' ki ghazlen kahan tumhari pasand"

Amulya Mishra
Amulya Mishra
Amulya Mishra
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaltumhein to aaegi bas 'mir' ki khumaari pasand
kahaan 'amulya' ki ghazlein kahaan tumhaari pasand
Ghazalغزل
kisi ko laakh zamaana kahe vo achchhe the
کسی کو لاکھ زمانہ کہے وہ اچھے تھے جو لوگ آپ کو اچھے لگے وہ اچھے تھے جو پودے میں نے لگائے تھے اس میں پھول کھلے جو پھول تحفے میں مجھ کو ملے وہ اچھے تھے تھا نوک تیغ وفا کا سفر مگر جو لوگ ادھر ادھر سے گزرتے رہے وہ اچھے تھے وہ بعد وصل وفا کی امید کرنے لگا زکوٰۃ دے کے جو چلتے بنے وہ اچھے تھے جو شخص سب سے برا تھا یہاں پر اس کی بھی کچھ ایک غزلیں تھیں کچھ شعر تھے وہ اچھے تھے خموش رہ کے مراسم بچائے تو یہ کھلا جھگڑتے تھے جو بنا بات کے وہ اچھے تھے کہانی کار نے مقطع بدل دیا ورنہ غزل میں وصل کے جو شعر تھے وہ اچھے تھے
sinche gae jo zakhm davaa se nikhar gae
سینچے گئے جو زخم دوا سے نکھر گئے خالی ہمارے در سے سبھی چارہ گر گئے مشکل ہے میرے دل میں ترے غم کو ڈھونڈنا ساگر میں ایسے کتنے ہی دریا اتر گئے میں اس لیے بھی دوڑ میں آگے نکل گیا میرے حریف وقت سے پہلے ٹھہر گئے آئی خزاں تو عشق کے معنی پتا چلے پتوں کے ساتھ شاخوں سے کچھ پھول جھڑ گئے لڑکوں کو لگ رہی تھی محبت حسین شے میری مثال دی گئی سارے سدھر گئے جیسے ندی کا حشر سمندر میں گرنا ہے ویسے یہ سانحے سبھی مجھ پر گزر گئے تم ہی نہیں گئے ہو مجھے چھوڑ کر امولیہؔ جاؤ تمہارے جیسے کئی لوگ مر گئے
faqir piir sukhan-var tire murid rahe
فقیر پیر سخن ور ترے مرید رہے ذہین لوگ محبت میں اہل دید رہے مدد تو خوب کی اس نے مری پر ایسے کی سمجھ لو جیسے کسی تحفے پہ رسید رہے منانے روٹھنے کے سلسلے بھی ساتھ چلیں سفر طویل بھی ہو دھندھ بھی شدید رہے یہ سچ ہے عشق میں ملتے ہیں جان لیوا دکھ ہم ایسے واقعوں کے خود بھی چشم دید رہے تو جاتے جاتے مرے دوست کچھ تو ایسا بول کی تیرے لوٹ کے آنے کی کچھ امید رہے
khudaa uruuj hai mujh ko zavaal DhunDhnaa hai
خدا عروج ہے مجھ کو زوال ڈھونڈھنا ہے جواب مل گئے ہیں اب سوال ڈھونڈھنا ہے سزا کے طور پہ مجھ کو ملی ہے یہ دنیا ستم تو یہ ہے کہ اس میں کمال ڈھونڈھنا ہے پرانی یادوں کا البم نکالنا ہے مجھے تمہارے ساتھ جو گزرا تھا سال ڈھونڈھنا ہے ریکارڈ روم میں کچھ فائلیں تلاشنی ہیں غموں کے ڈھیر میں مجھ کو ملال ڈھونڈھنا ہے کھنگالنے ہیں مجھے اپنے سب سے اچھے شعر جو تجھ کو رنگ دے ایسا گلال ڈھونڈھنا ہے ہمارے دل میں بھرے ہیں تمام قیمتی غم غزل کے واسطے سستا سا مال ڈھونڈھنا ہے
vo jis ki marzi se aae hain is sadi mein ham
وہ جس کی مرضی سے آئے ہیں اس صدی میں ہم ملیں گے اس سے مگر آخری گھڑی میں ہم تمہاری یاد مجھے ایسے ڈھونڈھتی ہے دوست چراغ ڈھونڈھتے ہیں جیسے تیرگی میں ہم شریف لڑکیاں یک دم سے کھل نہیں پاتی سو دھیرے دھیرے سے اتریں گے اس ندی میں ہم وہ بات کرتا ہے اور مسکرا کے دیکھتا ہے سمٹ گئے ہیں فقط اتنی سی خوشی میں ہم تمہارے بعد بچھڑنے میں ڈر نہیں لگتا مفید کام کر آئے تھے بزدلی میں ہم خدا خطاب سیاست سے دور رکھنا ہمیں سکون چاہتے ہیں یار زندگی میں ہم
tamaam dost to aae the vaapsi ke liye
تمام دوست تو آئے تھے واپسی کے لیے میں اور بلب ہیں آخر میں روشنی کے لیے جسے میں جیتنے کی بات کر رہا ہوں دوست وہ کھیل ہے ہی نہیں عام آدمی کے لئے کسی کے گھر کا اگر شمس ڈوب جاتا ہے چراغ جلتے ہیں اس گھر کے روشنی کے لیے یہ پہلی رات ہے میں اس قدر ہوا ہوں غریب نہیں ہے مجھ پہ کوئی وجہ خودکشی کے لئے وہ میرے پاس تھی اتنے کہ سانس لگتی تھی ندی کے پاس میں تڑپا ہوں تشنگی کے لیے تمہیں تو اچھے برے وقت کی پڑی ہے یہاں ترس گئے ہیں کئی لوگ اک گھڑی کے لیے کسی کسی پہ یہ وحشت سوار ہوتی ہے کہ میرے شعر نہیں ہوتے ہر کسی کے لیے





