baahar jhuum rahaa thaa mausam phulon kaa
andar ruThi thi hariyaali karte kyaa
Anjum Azimabadi
Anjum Azimabadi
Anjum Azimabadi
Popular Shayari
3 totaltum havas-paraston ke sainkaDon khudaa Thahre
ek hai khudaa apnaa dusraa nahin rakhte
sar salaamat hai to rauzan bhi banaa lungaa main
habs tere dar-o-divaar se vaaqif main huun
Ghazalغزل
حور و غلماں کے طلب گار سے واقف میں ہوں صاحب جبہ و دستار سے واقف میں ہوں شہر میں آپ فرشتوں سے بھی بڑھ کر ٹھہرے ہاں مگر آپ کے کردار سے واقف میں ہوں حق نوائی کا سمجھتا ہوں اسے میں انعام قید و زنداں رسن و دار سے واقف میں ہوں وہ ہے مجبور طلب سے بھی سوا دینے پر خوبیٔ جرأت اظہار سے واقف میں ہوں منصفی چومتی رہتی ہے در اہل دل اے عدالت ترے کردار سے واقف میں ہوں سر سلامت ہے تو روزن بھی بنا لوں گا میں حبس تیرے در و دیوار سے واقف میں ہوں کبر و نخوت کا ہے الزام عبث انجمؔ پر اس کے اخلاص سے افکار سے واقف میں ہوں
hur-o-ghilmaan ke talabgaar se vaaqif main huun
دھوپ چھاؤں ذہنوں کا آسرا نہیں رکھتے ہم غرض کے بندوں سے واسطہ نہیں رکھتے زعم پارسائی میں کب خیال ہے ان کو طنز تو وہ کرتے ہیں آئنہ نہیں رکھتے سازشیں علامت تو پست ہمتی کی ہیں سازشیں جو کرتے ہیں حوصلہ نہیں رکھتے وہ غرور تقویٰ میں بس یہی سمجھتے ہیں جیسے ہے خدا ان کا ہم خدا نہیں رکھتے تم ہوس پرستوں کے سینکڑوں خدا ٹھہرے ایک ہے خدا اپنا دوسرا نہیں رکھتے کس طرح منور ہو خانۂ شعور انجمؔ ذہن کے دریچوں کو تم کھلا نہیں رکھتے
dhuup chhaanv zehnon kaa aasraa nahin rakhte
اپنی جیب تھی خالی خالی کرتے کیا خوش پوشی کی لاج نبھا لی کرتے کیا کرنا تھا کچھ کام جناب عالی کو ہم ٹھہرے رتبوں سے خالی کرتے کیا خود کو سمجھا سب سے بڑھ کر کار گزار تھی یہ اپنی خام خیالی کرتے کیا تم تو سایہ دار شجر تھے بانٹتے چھاؤں ہم ٹھہرے اک سوکھی ڈالی کرتے کیا ذرہ ہو کر جان لیا خود کو خورشید کرنوں سے تھا دامن خالی کرتے کیا باہر جھوم رہا تھا موسم پھولوں کا اندر روٹھی تھی ہریالی کرتے کیا گھر کے اثاثوں کا مالک تھا ساہوکار اپنے گھر کی ہم رکھوالی کرتے کیا
apni jeb thi khaali khaali karte kyaa





