SHAWORDS
A

Anjum Tarazi

Anjum Tarazi

Anjum Tarazi

poet
3Sher
3Shayari
2Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

har ghar ke makinon ne hi dar khole hue the

ہر گھر کے مکینوں نے ہی در کھولے ہوئے تھے سامان بندھا رکھا تھا پر کھولے ہوئے تھے کیا کرتے جو دو چار قدم تھا لب دریا جب حوصلے ہی رخت سفر کھولے ہوئے تھے اک اس کے بچھڑنے کا قلق سب کو ہوا تھا سر سبز درختوں نے بھی سر کھولے ہوئے تھے سچائی کی خوشبو کی رمق تک نہ تھی ان میں وہ لوگ جو بازار ہنر کھولے ہوئے تھے پہنچا تھا حقیقت کو کوئی ایک ہی انجمؔ آنکھیں تو کئی اہل نظر کھولے ہوئے تھے

غزل · Ghazal

lamha lamha apni zahrili baaton se Dastaa thaa

لمحہ لمحہ اپنی زہریلی باتوں سے ڈستا تھا وہ میرا دشمن ہو کر بھی میرے گھر میں بستا تھا باپ مرا تو بچے روٹی کے ٹکڑے کو ترس گئے ایک تنے سے کتنی شاخوں کا جیون وابستہ تھا افواہوں کے دھوئیں نے کوشش کی ہے کالک ملنے کی وہ بکنے کی شے ہوتا تو ہر قیمت پر سستا تھا اک منظر میں پیڑ تھے جن پر چند کبوتر بیٹھے تھے اک بچے کی لاش بھی تھی جس کے کندھے پر بستا تھا جس دن شہر جلا تھا اس دن دھوپ میں کتنی تیزی تھی ورنہ اس بستی پر انجمؔ بادل روز برستا تھا

Similar Poets