"insan na ban saka hai abhi tak jo aadmi hairan main dekh kar huun vo kaise khuda hua"

Anjuman Mansury Arzoo
Anjuman Mansury Arzoo
Anjuman Mansury Arzoo
Sherشعر
insan na ban saka hai abhi tak jo aadmi
انساں نہ بن سکا ہے ابھی تک جو آدمی حیراں میں دیکھ کر ہوں وہ کیسے خدا ہوا
baDe qarine se sab gham hue hain poshida
بڑے قرینے سے سب غم ہوئے ہیں پوشیدہ ملا ہے جب سے مرے دل کو شاعری کا لباس
phir aaj ek ghazal keh ke main mo'attar huun
پھر آج ایک غزل کہہ کے میں معطر ہوں پھر آج زخم کئے اپنے صندلی میں نے
har fikr sirf jagne vaale ka hai nasib
ہر فکر صرف جاگنے والے کا ہے نصیب جو سو رہا ہے بس وہی بندہ مزے میں ہے
uncha makan ban gaya jab se paDos men
اونچا مکان بن گیا جب سے پڑوس میں رخصت ہوئی ہے تب سے مرے بام و در سے دھوپ
taraqqi khuub ki ham ne magar ye bhi haqiqat hai
ترقی خوب کی ہم نے مگر یہ بھی حقیقت ہے ہمارا دائرہ گھربار سے آگے نہیں بڑھتا
Popular Sher & Shayari
12 total"baDe qarine se sab gham hue hain poshida mila hai jab se mire dil ko sha'iri ka libas"
"phir aaj ek ghazal keh ke main mo'attar huun phir aaj zakhm kiye apne sandali main ne"
"har fikr sirf jagne vaale ka hai nasib jo so raha hai bas vahi banda maze men hai"
"uncha makan ban gaya jab se paDos men rukhsat hui hai tab se mire bam-o-dar se dhuup"
"taraqqi khuub ki ham ne magar ye bhi haqiqat hai hamara da.era ghar-bar se aage nahin baDhta"
unchaa makaan ban gayaa jab se paDos mein
rukhsat hui hai tab se mire baam-o-dar se dhuup
har fikr sirf jaagne vaale kaa hai nasib
jo so rahaa hai bas vahi banda maze mein hai
phir aaj ek ghazal keh ke main mo'attar huun
phir aaj zakhm kiye apne sandali main ne
insaan na ban sakaa hai abhi tak jo aadmi
hairaan main dekh kar huun vo kaise khudaa huaa
taraqqi khuub ki ham ne magar ye bhi haqiqat hai
hamaaraa daaera ghar-baar se aage nahin baDhtaa
baDe qarine se sab gham hue hain poshida
milaa hai jab se mire dil ko shaa'iri kaa libaas
Ghazalغزل
ik zaraa si dil ki hasrat tum se ulfat aur tum
اک ذرا سی دل کی حسرت تم سے الفت اور تم بس ہے اتنی سی ضرورت تھوڑی راحت اور تم مدتوں سے مختلف ہیں میری قسمت اور تم کیوں مقدر میں نہیں تم سے محبت اور تم ہو بہت مصروف تم یا ہے کوئی ناراضگی ساتھ میں ملتے نہیں اب تھوڑی فرصت اور تم تم بچھڑ کر بھی نہ مجھ سے ہو سکے پل بھر جدا مجھ میں باقی ہے تمہاری ہر اک عادت اور تم اپنے آنگن سے نہیں کچھ دوریوں سے ہی سہی ہے مجھے حاصل تمہارے گل کی نکہت اور تم ہوں بڑی مشکل میں اپنے دل مکاں کو دیکھ کر ساتھ کیسے رہ سکیں گے اس میں وحدت اور تم منحصر تم پر ہے میرے دل کی ہر اک آرزو ایک منت ایک جنت ایک فرحت اور تم
yahaan dariyaa to aksar bolte hain
یہاں دریا تو اکثر بولتے ہیں مگر کم ہی سمندر بولتے ہیں ستم سہہ کر کوئی خاموش ہے اور ستم کر کے ستمگر بولتے ہیں ترے ایمان کی سچائی ہے رب کہ مٹھی میں بھی کنکر بولتے ہیں ادیبو امن کے نغمے سناؤ قلم چپ ہو تو خنجر بولتے ہیں بنا ماں کے کہاں اس میں ہے رونق وہ اک شے جس کو سب گھر بولتے ہیں کہے جب ماں پہ کچھ اشعار میں نے لگا جیسے منورؔ بولتے ہیں جہاں سچ کے مخالف ہو زمانہ وہاں جھوٹوں کو بہتر بولتے ہیں
ek dariyaa saa musalsal hai ravaan jaante hain
ایک دریا سا مسلسل ہے رواں جانتے ہیں ہم زمانے سے زمانے کو یہاں جانتے ہیں راہ حق پر ہمیں رکھنا ہیں اکیلے ہی قدم ساتھ دے گا نہ ہمارا یہ جہاں جانتے ہیں ہم نے جو بات کہی وہ بھی نہ سمجھی تم نے دوست تو دوست کی خاموش زباں جانتے ہیں لاکھ آرائشیں مل جائیں مگر ان کے بغیر گھر نہ ہو پائے گا ہم سے یہ مکاں جانتے ہیں دعویٰ کرتے ہیں خدا کو بھی سمجھنے کا مگر ہم یہاں ٹھیک سے خود کو بھی کہاں جانتے ہیں جسم کے زخم تو سب بھر گئے کب کے لیکن روح پر اب بھی جو ہیں ہم وہ نشاں جانتے ہیں آرزوؔ کیوں ہو ہمیں عمر درازی کی جب زندگی ہم ترے سب سود و زیاں جانتے ہیں
ek do hi nahin sabhi chehre
ایک دو ہی نہیں سبھی چہرے ہوں گے تبدیل موسمی چہرے بد نظر تاکہ چھو سکے نہ انہیں اوڑھ لیتے ہیں بے رخی چہرے آگ کتنی جگر میں رکھتے ہیں بھولے بھالے سے شبنمی چہرے بول دیتے ہیں بن کہے سب کچھ دل کی کرتے ہیں مخبری چہرے زندگی کے سبق سکھاتے ہیں سخت لہجے میں مخملی چہرے ایک پہچان کے لیے جگ میں کتنے رکھتا ہے آدمی چہرے
jhulas rahaa hai jahaan ab to aab de jaao
جھلس رہا ہے جہاں اب تو آب دے جاؤ زمیں کی تشنہ لبی کو سحاب دے جاؤ چلے جنون میں جس سے بنا تھکے ہر پل ندی کو کوئی سمندر کا خواب دے جاؤ تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ میری آنکھوں میں بچھڑتے وقت ہزاروں چناب دے جاؤ یہ خوب رسم ہے اے زندگی کہ تحفے میں خوشی کے نام پہ غم بے حساب دے جاؤ بنا تمہارے بھی میں جس پہ گنگناؤں پیار مری غزل کو اک ایسا رباب دے جاؤ وہ جس نے شب کی سیاہی کو نور بخشا ہے اب اس چراغ کو اک آفتاب دے جاؤ تمام عمر معطر ہو جس کی خوشبو سے تم آرزوؔ کو وہی اک گلاب دے جاؤ
fan hai udaas aur tamaashaa maze mein hai
فن ہے اداس اور تماشا مزے میں ہے موسیقی گم ہے شور شرابہ مزے میں ہے ہے سچ کی راہ چل کے پریشان کوئی اور لفاظی کر کے جھوٹ کا پتلا مزے میں ہے ہر فکر صرف جاگنے والے کا ہے نصیب جو سو رہا ہے بس وہی بندہ مزے میں ہے لمبے سفر کے بعد بھی پہچان کھو گئی ساگر سے مل کے کون سا دریا مزے میں ہے ہے آرزوؔ کہ غم میں رہوں یا خوشی میں میں ہوتا رہے یہ لوگوں میں چرچا مزے میں ہے





