SHAWORDS
Ankit Dixit Arz

Ankit Dixit Arz

Ankit Dixit Arz

Ankit Dixit Arz

poet
4Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چاند جب میری ہتھیلی پہ ہوا کرتا تھا میں ستاروں کے سمندر میں رہا کرتا تھا چاندنی ابر سے چھپتی ہوئی شرماتی تھی حسن چلمن سے رہائی کی دعا کرتا تھا حال دل لکھ کے چھپاتے تھے چراتے سب سے میرا دل ایک لفافے میں بسا کرتا تھا اس کی ہر چال سے پہلے ہی میں واقف ہو کر اس کی ہر چال میں پیہم ہی پھنسا کرتا تھا ہجر کی بات تھی یا تیر چلایا اس نے زخم بن کے مرے سینے میں دکھا کرتا تھا ہر محبت کی کہانی سے یہی سیکھ ملی جان سے ہاتھ گنواتا جو وفا کرتا تھا

chaand jab meri hatheli pe huaa kartaa thaa

غزل · Ghazal

طوفاں میں پھنس گیا کوئی چارہ نہیں ملا کشتی اگر ملی تو کنارا نہیں ملا اس نے اٹھا کے ہاتھ بلایا تو تھا مگر میں ڈھونڈھنے گیا تو بیچارہ نہیں ملا لاکھوں غموں کے ہم پہ تو صندوق کھل پڑے قسمت جو کھول دے وہ پٹارا نہیں ملا ہم کیا کریں کسی سے حقیقت کی بات جب خوابوں میں بھی جسے تھا پکارا نہیں ملا ہم کو تو اس گناہ کی بھی مل گئی سزا جس میں کوئی قصور ہمارا نہیں ملا ہمت کو باندھ خود ہی وہ آگے نکل پڑا جب عرضؔ کو کوئی بھی سہارا نہیں ملا

tufaan mein phans gayaa koi chaara nahin milaa

غزل · Ghazal

راتوں کو اٹھ اٹھ کے رونا بند کرو عاشق ہو دیوانے ہونا بند کرو سچ کہتا ہوں راتیں اچھی گزریں گی تم بھی اس کو سوچ کے سونا بند کرو ٹوٹے گھر میں کوئی نہ آنا چاہے گا اس دل کا اب کونا کونا بند کرو بیت چکی جو اس کو سوچے جاتے ہو آج کے اس لمحے کو کھونا بند کرو حال دل لوگوں کو اپنا بتلا کے سب کے دل میں کانٹے بونا بند کرو عرضؔ تمہیں جن لوگوں نے ٹھکرایا ہے تم بھی ان لوگوں کا ہونا بند کرو

raaton ko uTh uTh ke ronaa band karo

غزل · Ghazal

دل یہ سمجھو کہ کھویا تو پل بھر میں تھا پر وہ لمحہ تو سالوں سے منظر میں تھا ایک دریا نے چھوڑا تھا تنہا جسے اب وہ قطرہ کہیں اک سمندر میں تھا میں نہیں کہہ رہا اس کا پتھر ہے دل پر یہ ممکن ہیں دل اس کا پتھر میں تھا جس کے خاطر ہی سورج جلا عمر بھر چاند وہ رات کے بس مقدر میں تھا ساتھ اس کے کہیں میں پہاڑوں میں ہوں نیند ٹوٹی تو دیکھا کہ بستر میں تھا میں تو مرتا ہوا بھی دعا دے گیا خون دیکھا جو اس کے ہی خنجر میں تھا

dil ye samjho ki khoyaa to pal bhar mein thaa

غزل · Ghazal

جیتے جی لیتا رہا میں نام اس کا مرتے دم آیا نہیں پیغام اس کا عمر بھر خود کو بتاتا رہ گیا میں پاس جا پھر ہاتھ پھٹ سے تھام اس کا اف یہ بے چینی یہ میری چھٹ پٹاہٹ کر نہ پائی آج تک اک کام اس کا اور میری زندگی میں کیا ملے گا درد آنسو جو بھی ہے انعام اس کا آج سب کچھ ہار کر کے سوچتا ہوں چل پڑوں میں جس طرف ہے دھام اس کا

jiite ji letaa rahaa main naam us kaa

Similar Poets