"jo bhi hai dil men aap ke khul kar bata.iye hamen kahte hain aap Thiik hain rahte hain be-qarar se"

Aqib Sabir
Aqib Sabir
Aqib Sabir
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"phir vahi khvab vahi zid nahin 'aqib-sabir' ham usulon se baghavat nahin karne vaale"
jo bhi hai dil mein aap ke khul kar bataaiye hamein
kahte hain aap Thiik hain rahte hain be-qaraar se
phir vahi khvaab vahi zid nahin 'aaqib-saabir'
ham usulon se baghaavat nahin karne vaale
Ghazalغزل
hai itni dhuup ki tanhaaiyaan ujaalti hai
ہے اتنی دھوپ کہ تنہائیاں اجالتی ہے نگاہ آٹھ پہر آئنہ کھنگالتی ہے میں غور و فکر کی گہرائیوں میں ہوتا ہوں ترے خیال کی ندی مجھے اچھالتی ہے ہر ایک لمحہ ہوں میں خودکشی پہ آمادہ کسی طرح مجھے مصروفیت سنبھالتی ہے وہاں سے پہلے کہیں جستجو نہ مر جائے جہاں امید کوئی راستہ نکالتی ہے سنو کہ دل میں ادا ہو رہی ہے آپ سے آپ وہ ایک بات جو کہنے میں دم نکالتی ہے
agar ye raah pahle hi se Thahraai nahin hoti
اگر یہ راہ پہلے ہی سے ٹھہرائی نہیں ہوتی سفر ہوتا پر ایسی آبلہ پائی نہیں ہوتی دکھائی کچھ نہیں دیتا سوائے تنگ نظری کے بصیرت کی ضمانت صرف بینائی نہیں ہوتی تجھے تو علم ہے قاصد پر ان سے مختصر کہنا زیادہ بولنے والوں میں گہرائی نہیں ہوتی کوئی انسان اپنے آپ میں تنہا نہیں ہوتا کسی کی دسترس میں اتنی تنہائی نہیں ہوتی بہت سے ربط اک طرفہ بھی ہوتے ہیں تعلق میں برابر عشق کے پھندے میں گیرائی نہیں ہوتی اکیلے میں مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے نہ جانے کتنے جذبوں سے شناسائی نہیں ہوتی
tumhaare paas aane kaa ishaara ho gayaa hai
تمہارے پاس آنے کا اشارہ ہو گیا ہے ہر اک لمحہ تمہارا استعارہ ہو گیا ہے یہ میں ہی ہوں جو اتنے آئنوں میں آ گیا ہوں کہ زعم آشنائی پارہ پارہ ہو گیا ہے تمہاری چاہ اک ٹھہراؤ لے آئی ہے اس میں یہ دل دریا تھا پہلے اب کنارہ ہو گیا ہے تری شمشیر تک کانٹوں پہ چل کر آ رہے تھے ہر اک نیزے پہ اک گل آشکارہ ہو گیا ہے مرے چاروں طرف بس روشنی ہی روشنی ہے کہ اک شعلہ مری آنکھوں کا تارہ ہو گیا ہے
nafas nafas zindagi ke ho kar ajal ki tashhir kar rahe hain
نفس نفس زندگی کے ہو کر اجل کی تشہیر کر رہے ہیں یہ کس جتن میں لگے ہیں ہم سب کسے جہانگیر کر رہے ہیں کہاں پتہ تھا تری شفق ہی پس غبار زوال ہوگی تجھی کو مسمار کر دیا تھا تری ہی تعمیر کر رہے ہیں رہ شہادت پہ سر کے ہم راہ اک آسیب چل رہا ہے ہمیں نہ نکلیں یزید دوراں کہ خود کو شبیر کر رہے ہیں صدائیں دیتی ہوئی خلائیں کہیں زمینوں تک آ نہ جائیں یہ خواب کاری پر تکلف برائے تعبیر کر رہے ہیں اگرچہ پہلے یقین کم تھا پر اب تو تصدیق ہو چکی ہے نہ جانے رد عمل میں کیوں ہم مزید تاخیر کر رہے ہیں ہمارے سارے گناہ واعظ مقالۂ افتتاحیہ ہیں ابھی تو ہم نامۂ عمل کا مقدمہ تحریر کر رہے ہیں
miraa vajud shumaar-e-nafas mein aayaa naiin
مرا وجود شمار نفس میں آیا نئیں تمام عمر میں سانسوں کے بس میں آیا نئیں نقوش لمس حقیقت مٹانے والا تھا مگر وہ خواب مری دسترس میں آیا نئیں سوال یہ ہے کہ دشت بدن کا کیا ہوگا اگر جنوں کا پرندہ قفس میں آیا نئیں عجب نہیں کہ یہ باہیں کچل کے رکھ دیتیں بھلا ہوا وہ حصار ہوس میں آیہ نئیں یہ کون ہے جو ہمیں طول دیتا رہتا ہے یہ کون ہے جو زد پیش وپس میں آیا نئیں
tishna-kaami mein ri'aayat nahin karne vaale
تشنہ کامی میں رعایت نہیں کرنے والے ہم امانت میں خیانت نہیں کرنے والے روشنی ہم پہ عنایت نہیں کرنے والی ہم چراغوں سے شکایت نہیں کرنے والے ہم سے یہ کار مسافت نہیں ہونے والا زندگی تیری قیادت نہیں کرنے والے ہم سے ایام کی گردش نہیں دیکھی جاتی خیر ہم اس کی وضاحت نہیں کرنے والے حسب مقدور ہمیں خاک اڑانی ہے سو ہم جسم خستہ کی مرمت نہیں کرنے والے پھر وہی خواب وہی ضد نہیں عاقب صابرؔ ہم اصولوں سے بغاوت نہیں کرنے والے





