SHAWORDS
Ashfaque Anjum

Ashfaque Anjum

Ashfaque Anjum

Ashfaque Anjum

poet
1Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

اب زرد لبادے بھی نہیں خشک شجر پر جس سمت نظر اٹھتی ہے بے رنگ ہے منظر اترے ہیں مری آنکھوں میں جلوؤں کے صحیفے خوابوں کا فرشتہ ہوں میں غزلوں کا پیمبر بیتے ہوئے لمحوں سے ملاقات اگر ہو لے آنا ہواؤ ذرا اک بار مرے گھر اتراؤ نہ مستی میں جواں سال پرندو پروائی کے جھونکوں سے بھی کٹ جاتے ہیں شہ پر آ جاتے ہیں جب بھی تری خوشبو کے بلاوے پیچیدہ سوالات کیا کرتا ہے بستر

ab zard libaade bhi nahin khushk shajar par

1 views

غزل · Ghazal

میں چپ ہوں اور دنیا سن رہی ہے خموشی داستانیں بن رہی ہے تعجب ہے کہ اک سونے کی چڑیا بیابانوں میں تنکے چن رہی ہے کہاں نیکی گناہوں سے ہی بچ لیں ہمیں تو بس یہی اک دھن رہی ہے تجھے محسوس کرتے بھی تو کیسے چھٹی حس بھی ہماری سن رہی ہے میں اس بستی کا باشندہ تھا یا رب جہاں سچائی بھی اوگن رہی ہے یہاں گردش میں ہیں دن رات انجمؔ وہاں بس اک صدائے کن رہی ہے

main chup huun aur duniyaa sun rahi hai

غزل · Ghazal

زرد پتوں پہ مرا نام لکھا ہے اس نے سبز خوابوں کا یہ انجام لکھا ہے اس نے کوئی ملتا نہیں جو پڑھ کے سنا دے مجھ کو برگ گل پر کوئی پیغام لکھا ہے اس نے سچ ہے تنہائی میں انسان سنک جاتا ہے روز روشن کو سیہ فام لکھا ہے اس نے مہر و مہ دیپ ہوا ابر سمندر خوشبو کس کی تقدیر میں آرام لکھا ہے اس نے سر اچھلتے ہیں زباں کٹتی ہے جس میں انجمؔ میرے ذمے وہی اک کام لکھا ہے اس نے

zard patton pe miraa naam likhaa hai us ne

غزل · Ghazal

کیا خبر تھی یہ دن بھی دیکھیں گے خون بوئیں گے صبر کاٹیں گے کس کو منصف کہیں کسے قاتل بچ رہے کل تلک تو سوچیں گے میں اگر یوں ہی سر اٹھاتا رہا لوگ اپنے ہی بت کو پوجیں گے آپ اپنا بھی جائزہ لے لیں ہم تو اپنی سزا کو پہنچیں گے قوم مذہب زمین رنگ زباں یوں ہی کب تک لکیریں کھینچیں گے کیا تمہیں بھی گمان تھا انجمؔ ہم خود اپنے بدن کو نوچیں‌ گے

kyaa khabar thi ye din bhi dekheinge

غزل · Ghazal

میں سوچتا تو ہوں لیکن یہ بات کس سے کہوں وہ آئنہ میں جو اترے تو میں سنور جاؤں خود اپنے آپ سے وحشت سی ہو رہی ہے مجھے بچھڑ کے تجھ سے میں اک مستقل عذاب میں ہوں ہر ایک لمحہ بھنور ہے ہر ایک پل طوفاں کہاں تک اور میں ساحل کی جستجو میں بڑھوں مرے وجود نے کیا کیا لباس بدلے ہیں کہیں چراغ کہیں راستے کا پتھر ہوں ہوا کے دوش پہ ہوں مثل برگ آوارہ اب اور کیا کہوں انجمؔ میں اپنا حال زبوں

main sochtaa to huun lekin ye baat kis se kahun

غزل · Ghazal

نہ ہوتا دہر سے جو بے نیاز کیا کرتا کھلا تھا مجھ پہ کچھ ایسا ہی راز کیا کرتا مریض کشمکش جبر و اختیار میں تھا علاج جذب و کشش چارہ ساز کیا کرتا ترے کرم نے تو دنیا ہی سونپ دی تھی مجھے بچا کے کچھ نہ رکھا حرص و آز کیا کرتا بگڑ گیا مرا حلیہ تو برہمی کیسی تھے رہ گزر میں نشیب و فراز کیا کرتا مجھے خبر تھی کہ میں بھی ترے سبب سے ہوں پھر اپنی ذات پہ میں فخر و ناز کیا کرتا تمام عمر رہے پہرے دار کاندھوں پر ترے خلاف اے انجمؔ نواز کیا کرتا

na hotaa dahr se jo be-niyaaz kyaa kartaa

Similar Poets