"daryaft kar liya hai basaya nahin mujhe saman rakh diya hai sajaya nahin mujhe"

Asifa Nishat
Asifa Nishat
Asifa Nishat
Sherشعر
daryaft kar liya hai basaya nahin mujhe
دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے سامان رکھ دیا ہے سجایا نہیں مجھے
ba.az chehre bahut hasin sahi
بعض چہرے بہت حسین سہی پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے
vo mere khvab le ke sirhane khaDa raha
وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے
Popular Sher & Shayari
6 total"ba.az chehre bahut hasin sahi phir bhi kitnon se dosti ki jaa.e"
"vo mere khvab le ke sirhane khaDa raha main so rahi thi us ne jagaya nahin mujhe"
vo mere khvaab le ke sirhaane khaDaa rahaa
main so rahi thi us ne jagaayaa nahin mujhe
baaz chehre bahut hasin sahi
phir bhi kitnon se dosti ki jaae
daryaaft kar liyaa hai basaayaa nahin mujhe
saamaan rakh diyaa hai sajaayaa nahin mujhe
Ghazalغزل
daryaaft kar liyaa hai basaayaa nahin mujhe
دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھے سامان رکھ دیا ہے سجایا نہیں مجھے کیسا عجیب شخص ہے اٹھ کر چلا گیا برباد ہو گیا تو بتایا نہیں مجھے وہ میرے خواب لے کے سرہانے کھڑا رہا میں سو رہی تھی اس نے جگایا نہیں مجھے بازی تو اس کے ہاتھ تھی پھر بھی نہ جانے کیوں مہرہ سمجھ کے اس نے بڑھایا نہیں مجھے اس نے ہزار عہد محبت کے باوجود جو راز پوچھتی ہوں بتایا نہیں مجھے وہ انتہائے شوق تھی یا انتہائے ضبط تنہائی میں بھی ہاتھ لگایا نہیں مجھے
apnaa ghar baazaar mein kyuun rakh diyaa
اپنا گھر بازار میں کیوں رکھ دیا واقعہ اخبار میں کیوں رکھ دیا خواب کی اپنی بھی اک توقیر ہے دیدۂ بے دار میں کیوں رکھ دیا کھیل میں خانہ بدلنے کے لئے اپنا مہرہ ہار میں کیوں رکھ دیا سر بچانے تک تو شاید ٹھیک ہو خوف یہ دستار میں کیوں رکھ دیا نیند نہ آنا یہ راتوں کو نشاطؔ دل کو اس آزار میں کیوں رکھ دیا
kyaa bataaun ki kis gumaan mein huun
کیا بتاؤں کہ کس گمان میں ہوں مستقل ایک امتحان میں ہوں آبلہ پا ہوں اور سفر میں ہوں پر بریدہ ہوں اور اڑان میں ہوں خود سری رکھ کے شاہزادی سی کچھ کنیزوں کے درمیان میں ہوں تو کہ طوفاں مجھے سمجھ بیٹھا غور سے دیکھ بادبان میں ہوں آپ نے خط نہیں لکھا ورنہ میں تو اب بھی اسی مکان میں ہوں اس کی آنکھوں میں ڈوب کر میں نشاطؔ خوبصورت سے اک جہان میں ہوں
kyaa zaruri hai shaaeri ki jaae
کیا ضروری ہے شاعری کی جائے دل جلا کر ہی روشنی کی جائے بعض چہرے بہت حسین سہی پھر بھی کتنوں سے دوستی کی جائے اک مسلسل شکست کا احساس ایسی خواہش نہ پھر کبھی کی جائے یہ محبت کے جو تقاضے ہیں ان تقاضوں میں کچھ کمی کی جائے اب بھی کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں زہر پی کر ہی خود کشی کی جائے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے نشاطؔ فیصلوں میں بھی اب کمی کی جائے
hamaare beach ghazab kaa mukaalima huaa thaa
ہمارے بیچ غضب کا مکالمہ ہوا تھا پھر اس کے بعد یہ سوچا گیا کہ کیا ہوا تھا نہ صرف تلخ بہت تھا وہ نیلگوں بھی تھا مجھے تو شک ہے سمندر میں کچھ ملا ہوا تھا وہ خط جو پڑھنے سے پہلے ہی میں نے پھاڑ دیا اگرچہ نام تھا میرے مگر کھلا ہوا تھا مجھے کہانی میں کردار کچھ ملا ایسا تھے جس کے ہاتھ تو آزاد منہ بندھا ہوا تھا اکیلی رہ گئی دونوں ہی مر گئے جن میں مرے حصول کی خاطر مقابلہ ہوا تھا ذرا قریب جو آیا اسے ڈبو دیں گے سمندروں کا کسی سے معاہدہ ہوا تھا چلو وہ دور رہے گا تو بھول جائے گا ذرا سی دیر مجھے یہ مغالطہ ہوا تھا جب اپنی قوت گویائی کھو چکی ہے نشاطؔ تو کوئی اور بتا دے کہ اس کو کیا ہوا تھا
hamein taabir pahle di gai phir khvaab utre
ہمیں تعبیر پہلے دی گئی پھر خواب اترے کتاب زندگی کے اس طرح کچھ باب اترے مری آنکھوں سے لے لے روشنی اور نور کر دے کسی قیمت پہ مالک منظر شب تاب اترے کھلے برتن اٹھا کر رکھ دئے جو بارشوں میں یہاں وہ رہ گئے خالی وہاں سیلاب اترے تحائف کی جنہیں امید تھی وہ منتظر ہیں مسافر آ چکا ہے اب ذرا اسباب اترے بہت آنسو بہائے چاہتوں کی ابتدا میں بڑی مشکل سے ہم پر عشق کے آداب اترے سمندر نے کہانی مختصر کر کے کہا بس بہت گرداب اترے اور بس گرداب اترے خزاں سے نسبتیں اتنی پرانی اور پھر بھی انہی لوگوں پہ لہجے اس قدر شاداب اترے





