SHAWORDS
Aslam Gurdaspuri

Aslam Gurdaspuri

Aslam Gurdaspuri

Aslam Gurdaspuri

poet
1Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے مرض یہ کیا ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ہر ایک کا سر جھکا ہوا ہے وہ آسمانوں پہ جانے والے وہ چاند سے مٹی لانے والے نہ جانے اب وہ کہاں گئے ہیں ہر ایک گھر میں چھپا ہوا ہے وہ سب میزائل یہ سارے ایٹم بس اک کرونا کی مار نکلے اب ایسے عالم میں دیکھ لیں سب کہ چین کیسے ڈٹا ہوا ہے یہ واعظوں کے تمام خطبے ہماری مشکل کا حل نہیں ہیں اب اس کو خود ہم ہی حل کریں گے یہ مسئلہ جو بنا ہوا ہے نہ کوئی بھی ہم پہ پہرہ زن ہے کہ ہم کہیں آئیں اور نہ جائیں ہر ایک انسان اپنے گھر میں خود اپنا قیدی بنا ہوا ہے کوئی بڑا ہو کہ یا ہو چھوٹا کوئی گدا ہو کہ بادشہ ہو اس ابتلا کا کمال یہ ہے کہ سب کو یکساں کیا ہوا ہے سوائے خاموش چاند تاروں کے ان خلاؤں میں کچھ نہیں ہے یہ زندگی کی ہی رونقیں ہیں کہ جن سے میلہ سجا ہوا ہے یہ کیا غضب ہے کہ مدتوں سے خزاں ہی گلشن میں خیمہ زن ہے جو موسم گل کا کارواں تھا وہ کارواں کیوں رکا ہوا ہے ہمارا ذوق سخن ہے جاری اسے کسی شے کا ڈر نہیں ہے نہ حسن ہم سے الگ ہوا ہے نہ عشق ہم سے جدا ہوا ہے خدا تو ان سے خفا ہے اسلمؔ جو اس کے قانون توڑتے ہیں وگرنہ ہم ایسے بے بسوں سے خدا بھلا کب خفا ہوا ہے

sabhi yahaan hain darida-daaman sabhi kaa ab haal ek saa hai

غزل · Ghazal

سبھی یہاں ہیں دریدہ‌ دامن سبھی کا اب حال ایک سا ہے اب ایسی صورت میں کس سے پوچھیں یہ کیا بنا ہے یہ کیا ہوا ہے کچھ اس طرح سے کبھی ہوا تھا سکوت دار و رسن کا عالم نہ کوئی دیوانہ سر بکف ہے نہ کوئی وحشی ڈٹا ہوا ہے یہ کیا مرض ہے کہ جس کے ڈر سے تمام دنیا لرز رہی ہے یہ کیا وبا ہے کہ جس کے آگے ہر ایک کا سر جھکا ہوا ہے وہ آسمانوں پہ جانے والے وہ چاند سے مٹی لانے والے نہ جانے اب وہ کہاں گئے ہیں ہر ایک گھر میں چھپا ہوا ہے وہ سب میزائل یہ سارے ایٹم بس اک کرونا کی مار نکلے اب ایسے عالم میں دیکھ لیں سب کہ چین کیسے ڈٹا ہوا ہے یہ واعظوں کے تمام خطبے ہماری مشکل کا حل نہیں ہیں اب اس کو خود ہم ہی حل کریں گے یہ مسئلہ جو بنا ہوا ہے نہ کوئی بھی ہم پہ پہرہ زن ہے کہ ہم کہیں آئیں اور نہ جائیں ہر ایک انسان اپنے گھر میں خود اپنا قیدی بنا ہوا ہے کوئی بڑا ہو کہ یا ہو چھوٹا کوئی گدا ہو کہ بادشاہ ہو اس ابتلا کا کمال یہ ہے کہ سب کو یکساں کیا ہوا ہے سوائے خاموش چاند تاروں کے ان خلاؤں میں کچھ نہیں ہے یہ زندگی کی ہی رونقیں ہیں کہ جن سے میلہ سجا ہوا ہے یہ کیا غضب ہے کہ مدتوں سے خزاں ہی گلشن میں خیمہ زن ہے جو موسم گل کا کارواں تھا وہ کارواں کیوں رکا ہوا ہے ہمارا ذوق سخن ہے جاری اسے کسی شے کا ڈر نہیں ہے نہ حسن ہم سے الگ ہوا ہے نہ عشق ہم سے جدا ہوا ہے خدا تو ان سے خفا ہے اسلمؔ جو اس کے قانون توڑتے ہیں وگرنہ ہم ایسے بے بسوں سے خدا بھلا کب خفا ہوا ہے

sabhi yahaan hain darida-daaman sabhi kaa ab haal ek saa hai

غزل · Ghazal

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارا کر لیں آسمانوں پہ تو انسان نہیں رہ سکتے جیسے ممکن ہو زمیں پر ہی گزارا کر لیں اب تو بیمار محبت کی ہے حالت نازک چارہ سازوں سے کہو وہ کوئی چارا کر لیں جس کے ایماں میں ہی انساں سے ہو نفرت شامل کس طرح ایسے ستم گر سے گزارا کر لیں اب تو اس شہر میں ایسا کوئی انسان نہیں جس سے مل کر ہی کبھی ذکر تمہارا کر لیں ڈوب جاتے ہیں گھڑی پل میں ستارے اسلمؔ کس توقع پہ اسے آنکھ کا تارا کر لیں

apni surat kaa hi didaar dobaara kar lein

غزل · Ghazal

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لئے عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے کیا جواں مردی ہے طوفاں سے کنارہ کر لیں آسمانوں پہ تو انسان نہیں رہ سکتے جیسے ممکن ہو زمیں پر ہی گزارا کر لیں اب تو بیمار محبت کی ہے حالت نازک چارہ سازوں سے کہو وہ کوئی چارا کر لیں جس کے ایماں میں ہی انساں سے ہو نفرت شامل کس طرح ایسے ستم گر سے گزارہ کر لیں اب تو اس شہر میں ایسا کوئی انسان نہیں جس سے مل کر ہی کبھی ذکر تمہارا کر لیں ڈوب جاتے ہیں گھڑی پل میں ستارے اسلمؔ کس توقع پہ اسے آنکھ کا تارہ کر لیں

apni surat kaa hi didaar dobaara kar lein

Similar Poets