zarurat Dhal gai rishte mein varna
yahaan koi kisi kaa apnaa kab hai

Ata Abidi
Ata Abidi
Ata Abidi
Popular Shayari
8 totalsabr ki had bhi to kuchh hoti hai
kitnaa palkon pe sambhaalun paani
aaj bhi 'prem' ke aur 'krishn' ke afsaane hain
aaj bhi vaqt ki jamhuri zabaan hai urdu
adab hi zindagi mein jab na aayaa
adab mein itni mehnat kis liye hai
sab khvaab puraane hain har chand fasaane hain
ham roz basaate hain aankhon mein nai duniyaa
kisi ke jism-o-jaan chhalni kisi ke baal-o-par TuuTe
jali shaakhon pe yuun laTke kabutar dekh aayaa huun
khvaab hi khvaab ki taabir huaa to jaanaa
zindagi kyuun kisi aankhon ke asar mein aai
koi bhi khush nahin hai is khabar se
ki duniyaa jald lauTegi safar se
Ghazalغزل
کوئی بھی خوش نہیں ہے اس خبر سے کہ دنیا جلد لوٹے گی سفر سے میں صحرا میں سفینہ دیکھتا ہوں سمندر کوئی گزرا ہے ادھر سے سنبھالو اپنا حرف داد و تحسیں میں کب ہوں مطمئن عرض ہنر سے خطا ہے یہ جواز اپنی خطا کا خطائیں ہوتی رہتی ہیں بشر سے سبھوں میں خامیاں ہی دیکھتا ہے وہ ہے محروم کیا حسن نظر سے غضب کا آئے گا سیلاب یارو کہ گزرا ہے بہت سا پانی سر سے بلندی اتنی بھی اچھی نہیں ہے اتارو اب عطاؔ کو دار پر سے
koi bhi khush nahin hai is khabar se
سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا پہلے بھی تنہا تھا لیکن اس قدر تنہا نہ تھا وہ تو یہ کہیے غم دوراں نے رکھ لی آبرو ورنہ دل کی بات تھی کچھ کھیل بچوں کا نہ تھا بچ کے طوفاں سے نکل آیا تو حیرانی ہے کیوں گو سفینہ ڈوبتا تھا حوصلہ ٹوٹا نہ تھا آپ آئے تو یقیں کرنا پڑا ورنہ یہاں رات کو سورج کبھی افلاک پر نکلا نہ تھا شہر دلی آئینہ خانہ ہے لیکن اے عطاؔ جال تو خوش فہمیوں کا آپ کو بننا نہ تھا
sar pe suraj ho magar saaya na ho aisaa na thaa
یوں تماشے رت جگے کے کو بہ کو ہوتے رہے سر پہ سورج آن پہنچا اور ہم سوتے رہے شاعری پیغمبری کا ایک حصہ تھی مگر لوگ اس کو صرف شہرت کے لئے ڈھوتے رہے موت سے آنکھیں ملانے کی سزا مل کر رہی زندگی بھر زندگی کے واسطے روتے رہے روشنی کی کاشت تھی مطلوب ہم سے اور ہم تیرگی کے شہر میں دانشوری بوتے رہے کاش عبرت کوئی پکڑے اے جناب عابدیؔ وقت جیسی چیز ہم پاتے رہے کھوتے رہے
yuun tamaashe ratjage ke ku-ba-ku hote rahe
نشاط کار سے محروم ہی سہی ہم بھی ہوس سے زیست کی پھر بھی نہیں تہی ہم بھی ہمیں بھی زعم ہے دانشورانہ منصب کا ہیں مبتلائے فریب خود آگہی ہم بھی ہیں مٹھیوں میں سبھی رہنما خطوط اگر اٹھائے پھرتے ہیں کیوں بار گمرہی ہم بھی ہے زیست نام تغیر کا یہ سنا تو ہے وہی ہو تم بھی وہی غم بھی اور وہی ہم بھی اگر ہے دعویٔ الفت تو کیوں اٹھائے پھریں مثال منشی و تاجر عطاؔ بہی ہم بھی
nashaat-e-kaar se mahrum hi sahi ham bhi
تیرگی شمع بنی راہ گزر میں آئی ساعت اک ایسی بھی کل اپنے سفر میں آئی جس جگہ چہرہ ہی معیار وفا ٹھہرا ہے خاک ہی خاک وہاں دست ہنر میں آئی تیری نظروں میں تھی دنیا تو یہی کیا کم تھا حشر یہ ہے کہ تو دنیا کی نظر میں آئی بارہا یاروں نے ساحل سے کہا تھا ہم ہیں بارہا ناؤ مگر اپنی بھنور میں آئی زندگی سمجھوں اسے یا کہ اسے موت کہوں وہ جو مہمان کی صورت مرے گھر میں آئی یوں بھی تاریخ کی تاریخ رقم ہوتی ہے نکلی تاریخ محل سے تو کھنڈر میں آئی خواب ہی خواب کی تعبیر ہوا تو جانا زندگی کیوں کسی آنکھوں کے اثر میں آئی شمع جلتے ہی بجھی اور دھواں ایسا اٹھا لذت شام یہاں خواب سحر میں آئی زندگی کچھ ہے عطاؔ شعر و ادب ہے کچھ اور یہ دو رنگی کی وبا کیسی ہنر میں آئی
tirgi shama bani raahguzar mein aai
کسی کی مہربانی ہو گئی ہے عیاں دل کی کہانی ہو گئی ہے ہرے موسم کی پہلی خواہشیں اف خوشی غم کی دوانی ہو گئی ہے سبھی افراد گھر کے سو گئے ہیں بہت لمبی کہانی ہو گئی ہے روایت کا ہے اب بھی سحر قائم ہر اک جدت پرانی ہو گئی ہے پس چہرہ ملا اک اور چہرہ عقیدت پانی پانی ہو گئی ہے
kisi ki mehrbaani ho gai hai





