ye aas bahut hai ki tire dast sitam se
jitne bhi mile ghaav hain bhar jaaeinge ik din

Azeez Adil
Azeez Adil
Azeez Adil
Popular Shayari
3 totalkaam karne ko ji nahin kartaa
tang aayaa huun shaairi tum se
vasl par dil hi kisi kaa na ho maail jab tak
hijr ki puuri zarurat nahin ki jaa sakti
Ghazalغزل
جب تک در ایوان جلایا نہیں جاتا تب تک کسی حاکم کو جگایا نہیں جاتا ظالم کے ستم سے ہو اگر خلق خدا تنگ دنیا اسے کیا مار گرایا نہیں جاتا پیران عجم کیجیے تدبیر ابھی آپ دل سے تو مرے کرب کا سایا نہیں جاتا مقدور اگر ہو تو وہ پہنچانا سہولت جمہور کو انگلی پہ نچایا نہیں جاتا حالات بدل سکتے ہیں کروٹ کسی لمحے ہو جنگ تو گھوڑے کو سدھایا نہیں جاتا عادلؔ جو کمایا ہوا ہے داغ محبت یہ داغ زمانے کو دکھایا نہیں جاتا
jab tak dar-e-aivaan jalaayaa nahin jaataa
الم زندگی میں کما کر تو دیکھو نظر آنسوؤں سے سجا کر تو دیکھو کھڑے ہوں گے شانہ بہ شانہ تمہارے ہمیں تم کبھی آزما کر تو دیکھو تمہاری گلی میں لگی رونقیں ہیں سر بام اک بار آ کر تو دیکھو تمہیں بھی جواباً محبت ملے گی محبت سے دل میں سما کر تو دیکھو میں آئینہ ہوں سچ کہوں گا ہمیشہ مجھے میری رہ سے ہٹا کر تو دیکھو مجھے روشنی کا سہارا بہت ہے مجھے ظلمتو تم مٹا کر تو دیکھو پہن لی ہے عادلؔ نے دستار الفت ذرا ہاتھ اس کو لگا کر تو دیکھو
alam zindagi mein kamaa kar to dekho
تم کبھی آبلے پیروں پہ سجا کر دیکھو آگہی ملتی ہے صحراؤں میں جا کر دیکھو عرصۂ خواب کے اسرار کھلیں گے تم پر اپنی آواز میں کچھ سوز رچا کر دیکھو شاخ در شاخ قیامت کا فغاں اٹھے گا پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اڑا کر دیکھو کس قدر ہوتا ہے تاراج سکون گلشن پھول سے تو ذرا تتلی کو گرا کر دیکھو رد نہیں ہوتی کبھی سنتے یہی آئے ہیں چاندنی رات میں ملنے کی دعا کر دیکھو منتظر کون کھڑا کون پڑا ہے در پر تم لٹکتی ہوئی چلمن کو ہٹا کر دیکھو بن بھی سکتا ہے محبت کا فسانہ عادلؔ تم اسے رکھنا سدا دل میں چھپا کر دیکھو
tum kabhi aable pairon pe sajaa kar dekho
دست ساقی شراب ہوتا ہے رخ جاناں گلاب ہوتا ہے جیسے ہوتا ہے ایک کار گناہ ویسے کار ثواب ہوتا ہے جب وہ دیتا ہے دوستی میں فریب دل مرا آب آب ہوتا ہے کسی دریائے موجزن کی طرح آنکھ میں بھی چناب ہوتا ہے کون اس پر ہزار جاں سے فدا میں ہی میرا جواب ہوتا ہے عکس انگڑائی لے بھی سکتا ہے آئنہ محو خواب ہوتا ہے چرخ روشن کے نور سے عادلؔ بند ظلمت کا باب ہوتا ہے
dast-e-saaqi sharaab hotaa hai
سکھ کی بہتات ہے زندگی زخم دے میرا دکھ بانٹ کر پھر کوئی زخم دے جستجو پھر کوئی دل میں رستہ بنا پھر سے ناکامیوں کا وہی زخم دے روشنی ہو نظر در نظر روشنی اک کمی ہے کمی در کمی زخم دے گم شدہ چاہتوں کا وظیفہ پڑھا بولتے منظروں کی گلی زخم دے تو مجھے زندگی کا قرینہ سکھا مجھ پہ احسان کر دل لگی زخم دے درد کا ذائقہ بھول بیٹھا ہوں میں ایسا کر تو مجھے اس گھڑی زخم دے نطق عادلؔ کی شیرینی کم ہو ذرا تلخیٔ ہجر کی بیکلی زخم دے
sukh ki bohtaat hai zindagi zakhm de
بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے فلک معصوم لوگوں کو بہت آنسو رلاتا ہے میں دل کی لاش پر نوحہ کناں ہوں اور تو ظالم بلا کر شہر داروں کو مرا چہرہ دکھاتا ہے ارے حد ہو چکی بس بے حسی یہ اہل مسند کی سر بازار لاشوں کی کوئی بولی لگاتا ہے یہاں چلتا ہے میرے شہر میں قانون جنگل کا یہاں ہر میمنہ کوئی درندہ کاٹ کھاتا ہے تجھے معلوم بھی ہے یہ نگر ہے ظلم زادوں کا ہے عنقا عدل یاں زنجیر کس خاطر ہلاتا ہے اسے آتی فقط ہے مسند جاں پر خود آرائی وہ فارغ بیٹھ کر بس خالی تقریریں بناتا ہے مرے مولا مرے بچوں کو رکھ اپنے اماں میں تو کہ عادلؔ وقت کا حالت پہ میری مسکراتا ہے
banaa kar saaneha koi tamaashaa ye karaataa hai





