jaada jaada chhoD jaao apni yaadon ke nuqush
aane vaale kaarvaan ke rahnumaa ban kar chalo
Azeez Baghravi
Azeez Baghravi
Azeez Baghravi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
خار ہے خار نہ گل ہے گل تر کی صورت عندلیبان چمن کیا ہے یہ گھر کی صورت نور کے سامنے جلتا نہیں ظلمت کا چراغ عرصۂ شب میں تم آؤ تو سحر کی صورت فیض کیا ہم سے اٹھائے گا مسافر کوئی ہم نہ دیوار کی صورت نہ شجر کی صورت باریاب نگۂ ناز کوئی ہوتا ہے اشک سب ہوتے نہیں لعل و گہر کی صورت ہوش دامن کا انہیں ہے نہ گریباں کا خیال کیا سے کیا ہو گئی ارباب نظر کی صورت راستے بند ہر اک موڑ پہ رہزن ہی سہی حوصلہ ہو تو نکلتی ہے سفر کی صورت کل مرے نقش تھے اس بزم جہاں کی زینت آج پڑھتے ہیں مجھے لوگ خبر کی صورت مضطرب کیوں ہیں اندھیروں کے پرستار عزیزؔ کیا نظر آ گئی قندیل سحر کی صورت
khaar hai khaar na gul hai gul-e-tar ki surat
2 views
خنجر بہ دست ہے نہ جہاں سر بکف کوئی آثار زندگی کے نہیں اس طرف کوئی آپس کی کشمکش میں ادھر مبتلا ہو تم میدان زندگی میں ادھر صف بہ صف کوئی اہل ہوس نے یاد کیا ہے اسے بہت جب صاحب ضمیر ہوا ہے تلف کوئی عزت ہر ایک سیپ کی قسمت میں ہے کہاں ہوتا ہے سرفراز دہان صدف کوئی دل میں نہیں ہے جس کا کوئی پاس و احترام لے کر اسی کا نام اٹھائے حلف کوئی ٹھکرا کے موتیوں کو جواہر کو چھوڑ کر دامن میں بھر کے لے گیا خشت و خزف کوئی پرواز اپنی اپنی نظر کی جدا جدا شائستۂ سلف کوئی ننگ سلف کوئی ہم وارثان لوح و قلم کو بھی ہو عطا یارب جہاد حرف و قلم کا شرف کوئی قاتل ہے تیرا طرز تخاطب بھی اے عزیزؔ روئے سخن کسی کی طرف ہے ہدف کوئی
khanjar-ba-dast hai na jahaan sar-ba-kaf koi
1 views
نوک خنجر پہ سجے سر نہیں دیکھے جاتے خوں چکاں روز کے منظر نہیں دیکھے جاتے ظلم والوں کے مکاں ہوں کہ وہ مظلوموں کے ہم سے بستی کے جلے گھر نہیں دیکھے جاتے مصلحت کوش نہیں حق کے طرفدار ہیں ہم فرض کے سامنے پتھر نہیں دیکھے جاتے حد سے بڑھ جائے اگر نشۂ بیداد گری اپنے بیگانوں کے پھر سر نہیں دیکھے جاتے ہو کھلا ہاتھ نظر آئیں لکیریں اس کی بند مٹھی میں مقدر نہیں دیکھے جاتے رنگ تصویر کے اندر ہی بھلے لگتے ہیں رنگ تصویر کے باہر نہیں دیکھے جاتے اب فقط چہروں پہ رہتی ہے زمانے کی نظر اب کسی شخص کے جوہر نہیں دیکھے جاتے حرف حق آج بھی ہے اہل وفا کے لب پر آج وہ دار و رسن پر نہیں دیکھے جاتے دامن اہل ہنر میں نہیں کیا چیز عزیزؔ فکر و احساس کے گوہر نہیں دیکھے جاتے
nok-e-khanjar pe saje sar nahin dekhe jaate
1 views
منظر حیات سوزی کا دیکھا نہ جائے گا ہم سے تو گھر میں چین سے بیٹھا نہ جائے گا کٹ جائے سر بلا سے جھکایا نہ جائے گا ظالم کو بے گناہ تو لکھا نہ جائے گا طوفان سر اٹھائے کہ بجلی کوئی گرے گل کی ہنسی کلی کا چٹکنا نہ جائے گا مقتل سجاؤ تم کہ صلیبیں کھڑی کرو یہ انقلاب وقت ہے روکا نہ جائے گا اچھا ہوا کہ فکر نشیمن سے بچ گئے احسان بجلیوں کا بھلایا نہ جائے گا اب بے قراریوں ہی سے شاید سکوں ملے آسودگی میں دل کا تڑپنا نہ جائے گا دل کی جہاں ہے قدر نہ قیمت ضمیر کی اس انجمن میں ہم سے تو جایا نہ جائے گا کرنا ہے تشنگی کا مداوا ہمیں عزیزؔ چل کر کسی کے پاس تو دریا نہ جائے گا
manzar hayaat-sozi kaa dekhaa na jaaegaa
عذاب دل سے کبھی کرب جاں سے گزرے گا جو سچ کہے گا غم بے کراں سے گزرے گا ابھی نہ بند کرو مقتلوں کے دروازے ابھی اک اور مسیحا یہاں سے گزرے گا چمن چمن میں کھڑے ہیں خزاں کے پہرے دار جلوس فصل بہاراں کہاں سے گزرے گا یہ انقلاب کا پہلو بھی کس نے سوچا تھا خزاں کے بعد گلستاں خزاں سے گزرے گا کوئی بھی فتنہ ہو یارو کہیں بھی برپا ہو ہمارے شہر ہمارے مکاں سے گزرے گا مقام سود و زیاں ہو کہ ارض دار و رسن گزرنے والا ہر اک امتحاں سے گزرے گا روش روش پہ سجا دو گلوں کی قندیلیں کہ آج جان چمن گلستاں سے گزرے گا جبین وقت کے تیور بتا رہے ہیں عزیزؔ کہ فرد فرد ابھی امتحاں سے گزرے گا
'azaab-e-dil se kabhi karb-e-jaan se guzregaa
شعلۂ درد لیے دیدۂ تر میں آئے چارہ گر آگ لگانے مرے گھر میں آئے چند تنکے ہی سہی اپنے نشیمن کی بساط کچھ تو ہیں جو نگہہ برق و شرر میں آئے اب جو پھرتے ہیں سکوں ڈھونڈتے مقتل مقتل تجھ سے بھاگے تو ترے دام اثر میں آئے کوئی دروازہ نہ روزن نہ دریچہ کوئی روشنی آئے تو کس راہ سے گھر میں آئے ان کو منزل ہی نہیں عظمت منزل بھی ملی لے کے جو توشۂ جاں راہ گزر میں آئے زخم دل مہکے تو ان کو نہ ملی داد کوئی پھول مہکے تو زمانہ کی نظر میں آئے ہو ترے فن میں عزیزؔ اس کے سخن کی خوشبو رنگ اس کا ترے انداز ہنر میں آئے
sho’la-e-dard liye dida-e-tar mein aae





