SHAWORDS
Azhar Inayati

Azhar Inayati

Azhar Inayati

Azhar Inayati

poet
47Sher
47Shayari
44Ghazal

Sherشعر

See all 47

Popular Sher & Shayari

94 total

Ghazalغزل

See all 44
غزل · Ghazal

qayaamat aaegi maanaa ye haadisa hogaa

قیامت آئے گی مانا یہ حادثہ ہوگا مگر چھپا ہوا منظر تو رونما ہوگا مصاحبوں میں گھرے ہوں گے ظل سبحانی غنیم شہر کو تاراج کر رہا ہوگا ابھی فضا میں تھی اک تیز روشنی کی لکیر نہ جانے ٹوٹ کے تارا کہاں گرا ہوگا عزیز مجھ سے تھا انعام میرے سر کا اسے رئیس ایک ہی شب میں وہ ہو گیا ہوگا ہوئی جو بات تو وہ عام آدمی نکلا گمان تھا کہ نئے رخ سے سوچتا ہوگا رہے گا سامنے کب تک یہ نیلگوں منظر یہ آسمان کہیں ختم تو ہوا ہوگا عجب سفر ہے مجھے بھی پتا نہیں اظہرؔ کہ اگلے موڑ پہ کردار میرا کیا ہوگا

غزل · Ghazal

kitaabein jab koi paDhtaa nahin thaa

کتابیں جب کوئی پڑھتا نہیں تھا فضا میں شور بھی اتنا نہیں تھا عجب سنجیدگی تھی شہر بھر میں کہ پاگل بھی کوئی ہنستا نہیں تھا بڑی معصوم سی اپنائیت تھی وہ مجھ سے روز جب ملتا نہیں تھا جوانوں میں تصادم کیسے رکتا قبیلے میں کوئی بوڑھا نہیں تھا پرانے عہد میں بھی دشمنی تھی مگر ماحول زہریلا نہیں تھا سبھی کچھ تھا غزل میں اس کی اظہرؔ بس اک لہجہ مرے جیسا نہیں تھا

غزل · Ghazal

abhi bichhDaa hai vo kuchh roz to yaad aaegaa

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا نقش روشن ہے مگر نقش ہے دھندلائے گا گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا میری قسمت تو یہی ہے کہ بھٹکنا ہے مجھے راستے تو مرے ہم راہ کدھر جائے گا اپنے ذہنوں میں رچا لیجیے اس دور کا رنگ کوئی تصویر بنے گی تو یہ کام آئے گا اتنے دن ہو گئے بچھڑے ہوئے اس سے اظہرؔ مل بھی جائے گا تو پہچان نہیں پائے گا

غزل · Ghazal

kyaa kyaa navaah-e-chashm ki raanaaiyaan gaiin

کیا کیا نواح چشم کی رعنائیاں گئیں موسم گیا گلاب گئے تتلیاں گئیں جھوٹی سیاہیوں سے ہیں شجرے لکھے ہوئے اب کے حسب نسب کی بھی سچائیاں گئیں کس ذہن سے یہ سارے محاذوں پہ جنگ تھی کیا فتح ہو گیا کہ صف آرائیاں گئیں کرنے کو روشنی کے تعاقب کا تجربہ کچھ دور میرے ساتھ بھی پرچھائیاں گئیں آگے تو بے چراغ گھروں کا ہے سلسلہ میرے یہاں سے جانے کہاں آندھیاں گئیں اظہرؔ مری غزل کے سبب اب کے شہر میں کتنی نئی پرانی شناسائیاں گئیں

غزل · Ghazal

diyon se aag jo lagti rahi makaanon ko

دیوں سے آگ جو لگتی رہی مکانوں کو مہ و نجوم جلا دیں نہ آسمانوں کو مرے قبیلے میں کیا شہر بھر سے مل دیکھو کوئی بھی تیر نہیں دیتا بے کمانوں کو شکستگی نے گرا دیں سروں پہ دیواریں مخاصمت تھی مکینوں سے کیا مکانوں کو یہ سوچتا ہوں وہ کیا حسن کار تیشہ تھا جو ایسے نقش عطا کر گیا چٹانوں کو یہی کرے گی کسی سمت کا تعین بھی اسی ہوا نے تو کھولا ہے بادبانوں کو جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو

غزل · Ghazal

is bulandi pe kahaan the pahle

اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے اب ہر اک شخص ہے اعزاز طلب شہر میں چند مکاں تھے پہلے آج شہروں میں ہیں جتنے خطرے جنگلوں میں بھی کہاں تھے پہلے لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے ٹوٹ کر ہم بھی ملا کرتے تھے بے وفا تم بھی کہاں تھے پہلے

Similar Poets