"ye maskharon ko vazife yunhi nahin milte ra.iis khud nahin hanste hansana paDta hai"

Azhar Inayati
Azhar Inayati
Azhar Inayati
Sherشعر
See all 47 →ye maskharon ko vazife yunhi nahin milte
یہ مسخروں کو وظیفے یوں ہی نہیں ملتے رئیس خود نہیں ہنستے ہنسانا پڑتا ہے
jahan ziden kiya karta tha bachpana mera
جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو
apne anchal men chhupa kar mire aansu le ja
اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا یاد رکھنے کو ملاقات کے جگنو لے جا
javan ho ga.i ik nasl sunte sunte ghazal
جوان ہو گئی اک نسل سنتے سنتے غزل ہم اور ہو گئے بوڑھے غزل سناتے ہوئے
ghazal ka sher to hota hai bas kisi ke liye
غزل کا شعر تو ہوتا ہے بس کسی کے لیے مگر ستم ہے کہ سب کو سنانا پڑتا ہے
kya rah gaya hai shahr men khanDarat ke siva
کیا رہ گیا ہے شہر میں کھنڈرات کے سوا کیا دیکھنے کو اب یہاں آئے ہوئے ہیں لوگ
Popular Sher & Shayari
94 total"jahan ziden kiya karta tha bachpana mera kahan se la.un khilaunon ki un dukanon ko"
"apne anchal men chhupa kar mire aansu le ja yaad rakhne ko mulaqat ke jugnu le ja"
"javan ho ga.i ik nasl sunte sunte ghazal ham aur ho ga.e buDhe ghazal sunate hue"
"ghazal ka sher to hota hai bas kisi ke liye magar sitam hai ki sab ko sunana paDta hai"
"kya rah gaya hai shahr men khanDarat ke siva kya dekhne ko ab yahan aa.e hue hain log"
har ek raat ko mahtaab dekhne ke liye
main jaagtaa huun tiraa khvaab dekhne ke liye
sambhal ke chalne kaa saaraa ghurur TuuT gayaa
ik aisi baat kahi us ne laDkhaDaate hue
ye aur baat ki aandhi hamaare bas mein nahin
magar charaagh jalaanaa to ikhtiyaar mein hai
apni tasvir banaaoge to hogaa ehsaas
kitnaa dushvaar hai khud ko koi chehraa denaa
ghazal kaa sher to hotaa hai bas kisi ke liye
magar sitam hai ki sab ko sunaanaa paDtaa hai
nayaa khuun ragon mein ravaan kar diyaa
ghazal ham ne tujh ko javaan kar diyaa
Ghazalغزل
qayaamat aaegi maanaa ye haadisa hogaa
قیامت آئے گی مانا یہ حادثہ ہوگا مگر چھپا ہوا منظر تو رونما ہوگا مصاحبوں میں گھرے ہوں گے ظل سبحانی غنیم شہر کو تاراج کر رہا ہوگا ابھی فضا میں تھی اک تیز روشنی کی لکیر نہ جانے ٹوٹ کے تارا کہاں گرا ہوگا عزیز مجھ سے تھا انعام میرے سر کا اسے رئیس ایک ہی شب میں وہ ہو گیا ہوگا ہوئی جو بات تو وہ عام آدمی نکلا گمان تھا کہ نئے رخ سے سوچتا ہوگا رہے گا سامنے کب تک یہ نیلگوں منظر یہ آسمان کہیں ختم تو ہوا ہوگا عجب سفر ہے مجھے بھی پتا نہیں اظہرؔ کہ اگلے موڑ پہ کردار میرا کیا ہوگا
kitaabein jab koi paDhtaa nahin thaa
کتابیں جب کوئی پڑھتا نہیں تھا فضا میں شور بھی اتنا نہیں تھا عجب سنجیدگی تھی شہر بھر میں کہ پاگل بھی کوئی ہنستا نہیں تھا بڑی معصوم سی اپنائیت تھی وہ مجھ سے روز جب ملتا نہیں تھا جوانوں میں تصادم کیسے رکتا قبیلے میں کوئی بوڑھا نہیں تھا پرانے عہد میں بھی دشمنی تھی مگر ماحول زہریلا نہیں تھا سبھی کچھ تھا غزل میں اس کی اظہرؔ بس اک لہجہ مرے جیسا نہیں تھا
abhi bichhDaa hai vo kuchh roz to yaad aaegaa
ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا نقش روشن ہے مگر نقش ہے دھندلائے گا گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا میری قسمت تو یہی ہے کہ بھٹکنا ہے مجھے راستے تو مرے ہم راہ کدھر جائے گا اپنے ذہنوں میں رچا لیجیے اس دور کا رنگ کوئی تصویر بنے گی تو یہ کام آئے گا اتنے دن ہو گئے بچھڑے ہوئے اس سے اظہرؔ مل بھی جائے گا تو پہچان نہیں پائے گا
kyaa kyaa navaah-e-chashm ki raanaaiyaan gaiin
کیا کیا نواح چشم کی رعنائیاں گئیں موسم گیا گلاب گئے تتلیاں گئیں جھوٹی سیاہیوں سے ہیں شجرے لکھے ہوئے اب کے حسب نسب کی بھی سچائیاں گئیں کس ذہن سے یہ سارے محاذوں پہ جنگ تھی کیا فتح ہو گیا کہ صف آرائیاں گئیں کرنے کو روشنی کے تعاقب کا تجربہ کچھ دور میرے ساتھ بھی پرچھائیاں گئیں آگے تو بے چراغ گھروں کا ہے سلسلہ میرے یہاں سے جانے کہاں آندھیاں گئیں اظہرؔ مری غزل کے سبب اب کے شہر میں کتنی نئی پرانی شناسائیاں گئیں
diyon se aag jo lagti rahi makaanon ko
دیوں سے آگ جو لگتی رہی مکانوں کو مہ و نجوم جلا دیں نہ آسمانوں کو مرے قبیلے میں کیا شہر بھر سے مل دیکھو کوئی بھی تیر نہیں دیتا بے کمانوں کو شکستگی نے گرا دیں سروں پہ دیواریں مخاصمت تھی مکینوں سے کیا مکانوں کو یہ سوچتا ہوں وہ کیا حسن کار تیشہ تھا جو ایسے نقش عطا کر گیا چٹانوں کو یہی کرے گی کسی سمت کا تعین بھی اسی ہوا نے تو کھولا ہے بادبانوں کو جہاں ضدیں کیا کرتا تھا بچپنا میرا کہاں سے لاؤں کھلونوں کی ان دکانوں کو
is bulandi pe kahaan the pahle
اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے اب ہر اک شخص ہے اعزاز طلب شہر میں چند مکاں تھے پہلے آج شہروں میں ہیں جتنے خطرے جنگلوں میں بھی کہاں تھے پہلے لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے ٹوٹ کر ہم بھی ملا کرتے تھے بے وفا تم بھی کہاں تھے پہلے





