"sab dost maslahat ke dukanon men bik ga.e dushman to pur-khulus adavat men ab bhi hai"

Baqi Ahmad Puri
Baqi Ahmad Puri
Baqi Ahmad Puri
Sherشعر
sab dost maslahat ke dukanon men bik ga.e
سب دوست مصلحت کے دکانوں میں بک گئے دشمن تو پرخلوص عداوت میں اب بھی ہے
dost naraz ho ga.e kitne
دوست ناراض ہو گئے کتنے اک ذرا آئنہ دکھانے میں
saari basti men faqat mera hi ghar hai be-charagh
ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بے چراغ تیرگی سے آپ کو میرا پتا مل جائے گا
Popular Sher & Shayari
6 total"dost naraz ho ga.e kitne ik zara aa.ina dikhane men"
"saari basti men faqat mera hi ghar hai be-charagh tirgi se aap ko mera pata mil ja.ega"
sab dost maslahat ke dukaanon mein bik gae
dushman to pur-khulus adaavat mein ab bhi hai
dost naaraaz ho gae kitne
ik zaraa aaina dikhaane mein
saari basti mein faqat meraa hi ghar hai be-charaagh
tirgi se aap ko meraa pataa mil jaaegaa
Ghazalغزل
udaas baam hai dar kaaTne ko aataa hai
اداس بام ہے در کاٹنے کو آتا ہے ترے بغیر یہ گھر کاٹنے کو آتا ہے خیال موسم گل بھی نہیں ستم گر کو بہار میں بھی شجر کاٹنے کو آتا ہے فقیہ شہر سے انصاف کون مانگے گا فقیہ شہر تو سر کاٹنے کو آتا ہے اسی لیے تو کسانوں نے کھیت چھوڑ دئیے کہ کوئی اور ثمر کاٹنے کو آتا ہے ترے خیال کا آہو کہیں بھی دن میں رہے مگر وہ رات ادھر کاٹنے کو آتا ہے کہا تو تھا کہ ہمیں اس قدر بھی ڈھیل نہ دے اب اڑ رہے ہیں تو پر کاٹنے کو آتا ہے یہ کام کرتے تھے پہلے سگان آوارہ بشر کو آج بشر کاٹنے کا آتا ہے یہ اس کی راہ نہیں ہے مگر یوں ہی باقیؔ وہ میرے ساتھ سفر کاٹنے کو آتا ہے
dasht-o-dariyaa ke ye us paar kahaan tak jaati
دشت و دریا کے یہ اس پار کہاں تک جاتی گھر کی دیوار تھی دیوار کہاں تک جاتی مٹ گئی حسرت دیدار بھی رفتہ رفتہ ہجر میں حسرت دیدار کہاں تک جاتی تھک گئے ہونٹ ترا نام بھی لیتے لیتے ایک ہی لفظ کی تکرار کہاں تک جاتی لاج رکھنا تھی مسیحائی کی ہم کو ورنہ دیکھتے لذت آزار کہاں تک جاتی راہبر اس کو سرابوں میں لیے پھرتے تھے خلقت شہر تھی بیمار کہاں تک جاتی ہر طرف حسن کے بازار لگے تھے باقیؔ ہر طرف چشم خریدار کہاں تک جاتی
yuun sitamgar nahin hote jaanaan
یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں پھول پتھر نہیں ہوتے جاناں کیوں مرے دل سے کہیں جاتے ہو گھر سے بے گھر نہیں ہوتے جاناں وصل کی شب جو کرم تم نے کیے کیوں مکرر نہیں ہوتے جاناں ہم تمہیں بت کی طرح پوجتے ہیں پھر بھی کافر نہیں ہوتے جاناں غم کے دیپک نہیں جلتے جب تک دل منور نہیں ہوتے جاناں ہم تو رہتے ہیں تمہاری حد میں حد سے باہر نہیں ہوتے جاناں ایک جیسے ہیں خوشی کے لمحے دکھ برابر نہیں ہوتے جاناں اس قدر خوں نہ بہانا دل کا دل سمندر نہیں ہوتے جاناں
saamne sab ke na boleinge hamaaraa kyaa hai
سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے چھپ کے تنہائی میں رو لیں گے ہمارا کیا ہے گلشن عشق میں ہر پھول تمہارا ہی سہی ہم کوئی خار چبھو لیں گے ہمارا کیا ہے عمر بھر کون رہے ابر کرم کا محتاج داغ دل اشکوں سے دھو لیں گے ہمارا کیا ہے ہاتھ آیا نہ اگر دست حنائی تیرا انگلیاں خوں میں ڈبو لیں گے ہمارا کیا ہے تم نے محلوں کے علاوہ نہیں دیکھا کچھ بھی ہم تو فٹ پاتھ پہ سو لیں گے ہمارا کیا ہے اپنی منزل تو سرابوں کا سفر ہے باقیؔ ہم کسی راہ پہ ہو لیں گے ہمارا کیا ہے
mujh se bichhaD ke vo bhi pareshaan thaa bahut
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت سوچا تو بے خلوص تھیں سب اس کی قربتیں جس کے بغیر گھر مرا ویران تھا بہت بے خواب سرخ آنکھوں نے سب کچھ بتا دیا کل رات دل میں درد کا طوفان تھا بہت یہ کیا کیا کہ پیار کا اظہار کر دیا میں اپنی اس شکست پہ حیران تھا بہت وحشت میں کیوں کسی کے گریباں کو دیکھتا میرے لیے تو اپنا گریبان تھا بہت اب تو کوئی تمنا ہی باقیؔ نہیں رہی یہ شہر آرزو کبھی گنجان تھا بہت
bahut jaldi thi ghar jaane ki lekin
بہت جلدی تھی گھر جانے کی لیکن مجھے پھر شام رستے میں پڑی ہے نصاب زندگی جس میں لکھا ہے کتاب دل وہ بستے میں پڑی ہے نہیں ارزاں متاع رائیگانی مگر مجھ کو یہ سستے میں پڑی ہے وہ ایسے ڈھونڈنے نکلے ہیں باقیؔ محبت جیسے رستے میں پڑی ہے





