shaam Dhalte hi ye aalam hai to kyaa jaane bashir
haal apnaa subh tak be-rabt nabzein kyaa karein

Basheer Ahmad Basheer
Basheer Ahmad Basheer
Basheer Ahmad Basheer
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
آہ بھرنے کے لیے زخم جگر بھی چاہئے نالہ و فریاد میں تو چشم تر بھی چاہئے کھیل یہ جینا نہیں ہوتا ہے میرے دوستو اس کی خاطر حوصلہ بھی دل جگر بھی چاہئے کیوں رہیں بن کر زمانے کی لکیروں کے فقیر اپنے جینے کا تو انداز دگر بھی چاہئے مفلسوں کے واسطے جینا بہت دشوار ہے زرپرستوں سے اگر بچنا ہو زر بھی چاہئے ظاہری سج دھج کی دیوانی ہے یہ دنیا بہت فیشنیبل خود ہو تو ایسا ہی گھر بھی چاہئے شاعری کا تو نہیں مقصد کہ ہو بس شاعری اس کا تعمیری کوئی نقطۂ نظر بھی چاہئے تیرہ بختی کا بجز اس کے نہیں کوئی علاج شام غم آئے تو امید سحر بھی چاہئے یوں علاج درد دل کا فائدہ کیا اے طبیب کوئی نسخہ اس کی خاطر کارگر بھی چاہئے دہر میں انسانیت کی سربلندی کے لیے پہلے اپنے آپ میں اس کا اثر بھی چاہئے دوستی کے واسطے میری فقط اک شرط ہے دوست دل کا صاف ہو جو بے ضرر بھی چاہئے روٹی کپڑا اور مکاں ہی حاجت انساں نہیں دوسروں کا پیار اس کو عمر بھر بھی چاہئے خود شناسی زندگی ہے خود پسندی موت ہے اے بشیرؔ اس بات کی تجھ کو خبر بھی چاہئے
aah bharne ke liye zakhm-e-jigar bhi chaahiye
1 views
ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سے ڈھل چکی ہے شام وادی میں اترنا دھیان سے جامد و ساکت سہی دیوار و در بہرے نہیں گھر کی تنہائی ہو پھر بھی بات کرنا دھیان سے کان مت دھرنا کسی آواز پر کیسی بھی ہو کوئی روکے بھی تو رستے میں ٹھہرنا دھیان سے دیکھنا سایہ کہیں کوئی تعاقب میں نہ ہو شہر کی ویران گلیوں سے گزرنا دھیان سے راہ میں دیکھو کوئی منظر تو رکھنا ذہن میں پھر کہیں فرصت ملے تو رنگ بھرنا دھیان سے کتنے سورج تم سے پہلے اس سفر میں جل بجھے اس جہان تیرہ خاطر پر ابھرنا دھیان سے وقت کے ساتھ اپنے اندازے غلط نکلے بشیرؔ کس قدر مشکل ہے پیاروں کا اترنا دھیان سے
in chaTakhte pattharon par paanv dharnaa dhyaan se
1 views
ہر گام پہ آوارگی و در بدری میں اک دھیان کا سایہ ہے مری ہم سفری میں تا حد نظر پگھلی ہوئی ریت کا دریا کس سمت نکل آئے ہیں یہ بے خبری میں کس کی طرب انداز نظر گھول رہی ہے اندوہ و غم و سوز مزاج بشری میں کیا کوئی کہیں کنج خیابان سکوں ہے اے دشت غم زیست تری بے شجری میں اے قریۂ دل دیکھ گزرتی ہے اسی طور ہر شہر پہ بربادی و زیر و زبری میں اہل طلب و شوق زمانوں سے پڑے ہیں عرصہ گہہ خود سوزی و حیراں نظری میں لہرائے نہ لہرائے وہ اب برق خد و خال اب ہم نہیں خار خس آشفتہ سری میں اک ہمدم دیرینہ کی یادوں کی کسک ہے خوشبوئے خوش انفاسئی باد سحری میں نگراں مری جانب نگہ خوش ہنراں ہے کچھ تو ہنر آخر ہے مری بے ہنری میں اک تیشۂ صد پارہ کی صورت ہیں بشیرؔ اب حاصل ید تولہ تھا جنہیں شیشہ گری میں
har gaam pe aavaargi-o-dar-ba-dari mein
1 views
گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوں عذاب عرصہ گہہ جبر و اختیار میں ہوں خیال ہے تو ابھی ڈھونڈ پھر ملوں نہ ملوں ابھی میں تیرے اڑائے ہوئے غبار میں ہوں بھڑک رہا ہے بدن روح کو خبر بھی نہیں یہ کیا مقام ہے یہ کیسے شعلہ زار میں ہوں میں کون ہوں ترے نزدیک یہ سوال نہیں حباب ہوں کہ صدف بحر بے کنار میں ہوں خود اپنے آپ سے ہر دم ہوں برسر پیکار میں اپنی ذات کے میدان کارزار میں ہوں میں بھید کیا تجھے دوں بے کراں خلاؤں کے کہ میں ازل سے اسی حلقۂ مدار میں ہوں تلاش کس کی ہے مجھ کو ابھی یہ کیا سوچوں بشیرؔ ابھی تو میں اپنے ہی انتظار میں ہوں
giraft-e-zist mein huun qaid-e-be-hisaar mein huun
1 views
کل خود مجھے رسوا سر بازار کرو گے تم صبح سے پہلے مرا انکار کرو گے خیر اب تو ہوئے مسخ روایت کے کھرے دام کیا کل بھی یہی جھوٹ کا بیوپار کرو گے طوفان تو امڈا چلا آتا ہے سروں پر پھر شہر کو کس لمحے خبردار کرو گے آخر کو تو مٹی ہیں یہ مٹی کے گھروندے تعمیر کہاں تک در و دیوار کرو گے لو گے نہ خبر دل کے خرابے کی مگر ہاں زیبائش ہر کوچہ و بازار کرو گے میں اب تو کھٹکتا ہوں مگر دور نہیں وقت باتیں مری پرکھو گے مجھے پیار کرو گے ہے اپنے لیے شہر بشیرؔ اپنا یہی دشت کیا جا کے بھلا شہر مرے یار کرو گے
kal khud mujhe rusvaa sar-e-baazaar karoge
1 views
وجہ خلش ہے باعث آسودگی بھی ہے یہ بعد جس میں لذت ہمسائیگی بھی ہے کچھ دشت کے بگولے بھی ہیں باعث فشار کچھ خود مزاج خاک میں آوارگی بھی ہے بستی کوئی عجیب ہے یہ اس جگہ کے لوگ خندہ بہ لب ہیں چہروں پہ آزردگی بھی ہے ویسے بھی کچھ یہاں سے طبیعت ہے اب اچاٹ یوں دل کو اس دیار سے وابستگی بھی ہے اس اپنی گوشہ گیری کے ہیں اور بھی سبب اک وجہ پست ہمتوں کی خواجگی بھی ہے وہ آتشیں کرہ ہے یہ دل جس کے ہر طرف تاریکیٔ خلا بھی ہے یخ بستگی بھی ہے پھر مجھ سے قوم کرتی ہے کیوں معجزے طلب جب طعن سحر و تہمت دیوانگی بھی ہے موجودگی تری متعین نہ ہو سکی اے تو کہ ہر جگہ تری موجودگی بھی ہے کیا کیجئے بشیرؔ شعور انا کے ساتھ حکم سجود و عاجزی و بندگی بھی ہے
vajh-e-khalish hai baa’is-e-aasudgi bhi hai
1 views





