SHAWORDS
B

Bayan Ahsanullah Khan

Bayan Ahsanullah Khan

Bayan Ahsanullah Khan

poet
5Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

جادو تھی سحر تھی بلا تھی ظالم یہ تری نگاہ کیا تھی کیدھر ہے کہاں ہے خوش دلی تو ہم سے بھی کبھو تو آشنا تھی شیریں بھی تجھی سی تھی ستم گر لیلیٰ بھی اگرچہ بے وفا تھی فرہاد پہ اس قدر نہ تھا ظلم مجنوں پہ نہ یہ غضب جفا تھی مارا ہے بیاںؔ کو جن نے اے شوخ کیا جانیے کون سی ادا تھی

jaadu thi sehr thi balaa thi

غزل · Ghazal

پوچھتا کون ہے ڈرتا ہے تو اے یار عبث قتل کرنے سے مرے ہے تجھے انکار عبث کیا مری آنکھ عدم بیچ لگی تھی اے چرخ کیا اس خواب سے تو نے مجھے بیدار عبث وصل ہی اس کا دوا ہے مری بیماری کو اور کچھ کرتے ہیں تدبیر یہ غم خوار عبث یار تنہا ہے پھر ایسا نہیں ملنے کا وقت شرم ہوتی ہے میری مانع گفتار عبث اور بھی ان نے بیاںؔ ظلم کچھ افزود کیا کیا اس شوخ سے تیں عشق کا اظہار عبث

puchhtaa kaun hai Dartaa hai tu ai yaar abas

غزل · Ghazal

شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروں یا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروں وہ کہ اک مدت تلک جس کو بھلا کہتا رہا آہ اب کس منہ سے ذکر اس کی برائی کا کروں آب زمزم سے میں دھو لوں اپنی پیشانی کے تئیں در پہ تب اس کے ارادہ جبہہ سائی کا کروں خوب سی تنبیہ کرنا اے جدائی تو مجھے گر کسی سے پھر کبھی قصد آشنائی کا کروں گر مسخر ہووے وہ خورشید رو میرا بیاںؔ بادشاہی کیا کہ میں دعویٰ خدائی کا کروں

shikva apne taaleon ki naa-rasaai kaa karun

غزل · Ghazal

یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہو جا کر نجف میں خاک در بو تراب ہو سایہ کرے وہ لطف سے سایہ جسے نہ تھا جس وقت روز حشر میں گرم آفتاب ہو حاصل ہو اس نفس کو صفت مطمئنہ کی پیش اس سے ارجعی کا ادھر سے خطاب ہو جب چشم بستگی ہو مجھے اس جہان میں آنکھوں کے سامنے وہی عالی جناب ہو اے یار یاں تو منہ نہ دکھایا کبھو ہمیں ایسا نہ ہو کہ واں بھی بیاںؔ سے حجاب ہو

yaa rab na hind hi mein ye maaTi kharaab ho

غزل · Ghazal

میں ترے ڈر سے رو نہیں سکتا گرد غم دل سے دھو نہیں سکتا اشک یوں تھم رہے ہیں مژگاں پر کوئی موتی پرو نہیں سکتا شب مرا شور گریہ سن کے کہا میں تو اس غل میں سو نہیں سکتا مصلحت ترک عشق ہے ناصح لیک یہ ہم سے ہو نہیں سکتا کچھ بیاںؔ تخم دوستی کے سوا مزرع دل میں بو نہیں سکتا

main tire Dar se ro nahin saktaa

غزل · Ghazal

جو زمیں پر فراغ رکھتے ہیں آسماں پر دماغ رکھتے ہیں ساقی بھر بھر انہیں کو دے ہے شراب جو کہ لبریز ایاغ رکھتے ہیں تیرے داغوں کی دولت اے گل رو ہم بھی سینے میں باغ رکھتے ہیں حاجت شمع کیا ہے تربت پر ہم کہ دل سا چراغ رکھتے ہیں آپ کو ہم نے کھو دیا ہے بیاںؔ آہ کس کا سراغ رکھتے ہیں

jo zamin par faraagh rakhte hain

Similar Poets