nafrat se bachaa kar tu ulfat ko sajaa dil mein
paighaam mohabbat kaa har baar diye jaanaa

Bubbles Hora Saba
Bubbles Hora Saba
Bubbles Hora Saba
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
بے قراری دل مضطر کی بڑھائی ہم نے آج پھر تم سے کوئی آس لگائی ہم نے مشکلیں راہ وفا میں بھی بنائیں آساں رسم الفت تو بہ ہر طور نبھائی ہم نے شاید آ جاؤ کسی روز کبھی لوٹ کے تم بس اسی آس میں ہر راہ سجائی ہم نے تم کبھی تھے نہ ہمارے نہ کبھی ہو گے صنم یہ سمجھنے میں بہت دیر لگائی ہم نے ہائے دلکش وہ ادائیں وہ دل آویز نظر جن میں الجھے رہے اور عمر گنوائی ہم نے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے تم سے اپنے ہی ہاتھ سے ہستی بھی مٹائی ہم نے رہنے والے ہیں صباؔ عرش بریں کے وہ تو کہکشاں پھر بھی سر فرش بچھائی ہم نے
be-qaraari dil-e-muztar ki baDhaai ham ne
سنگ کو چھوڑ کے تو نے کبھی سوچا ہی نہیں اپنی ہستی میں خدا کو کبھی ڈھونڈا ہی نہیں الجھا الجھا سا ہے کیوں اپنے بھرم میں ہر دم تو نے خود اپنے گریبان میں جھانکا ہی نہیں تیرے ہونے سے کرم اس کا نظر آتا ہے تجھ سے بڑھ کر کوئی شاہد وہ دکھاتا ہی نہیں اس کے بندوں میں اسے ڈھونڈ اگر ہے خواہش وہ صنم خانوں کے در پر کبھی دکھتا ہی نہیں لمحہ لمحہ وہ سمایا ہے رگ و پے میں صباؔ حد سے آگے کبھی احساس نے چھوڑا ہی نہیں
sang ko chhoD ke tu ne kabhi sochaa hi nahin
جس نے جانا جہاں تماشا ہے اس کی ٹھوکر میں یہ زمانہ ہے بے غرض ہار جیت سے جو ہو زندگی اس کی فاتحانہ ہے فکر جو خود گرفت میں رکھے اس کا انداز شاعرانہ ہے گرم رکھتا ہے جو خودی اپنی بے نیازی سے وہ شناسا ہے دو ہی پل کا ہے کھیل سارا صباؔ بعد میں خاک سب کو ہونا ہے
jis ne jaanaa jahaan tamaashaa hai
بے رخی نے اس کی کیسا یہ اشارا کر دیا وقت سے پہلے قیامت کا نظارا کر دیا لاکھ کہنے پر بھی اس نے رخ پہ رکھا تھا نقاب اک جھلک کی آرزو کو ناگوارا کر دیا چل پڑے دامن جھٹک کر ہم کو پیچھے چھوڑ کر تنہا آغاز سفر پر کیوں دوبارہ کر دیا خود ہی لو امید کی اس نے جگائی اور پھر توڑ کر امید خود ہی بے کنارہ کر دیا کیسی بے دردی سے توڑا اس نے ناطہ پیار کا کیوں جہاں میں پھر صباؔ کو بے سہارا کر دیا
be-rukhi ne us ki kaisaa ye ishaaraa kar diyaa
مری زندگی ہے تنہا تمہیں کچھ اثر تو ہوتا کوئی دوست تم سا ہوتا کوئی ہم سفر تو ہوتا یہ تمام سائے اپنے چلوں کب تلک سمیٹے کوئی ہم نشیں تو ہوتا کوئی چارہ گر تو ہوتا کبھی کچھ گمان ہوتا مجھے منزلوں کا اپنی جسے اپنا ہم نے سمجھا وہی راہبر تو ہوتا میں کہاں سے لاؤں قسمت جو بنوں تمہارے قابل کہ تمہارے گھر کے آگے مرا کوئی گھر تو ہوتا ہے عجیب کشمکش میں یہ صباؔ کی بندگی بھی کبھی ان کے در کے لائق کبھی میرا سر تو ہوتا
miri zindagi hai tanhaa tumhein kuchh asar to hotaa
پاس ہونے کا اشارا مل گیا اب تو جینے کا سہارا مل گیا ڈھل گیا سورج تو کچھ ایسا لگا صبح نو کا اک نظارا مل گیا تم ملے تو مل گئی ہے زندگی مرتے مرتے بھی سہارا مل گیا نا امیدی کو ملی امید اک اک سہارا جب تمہارا مل گیا ڈوبنے والی تھی کشتی جان کی اب تو ساحل کا کنارا مل گیا یہ زمین و آسماں کیا ہیں صباؔ جب جہان عشق سارا مل گیا
paas hone kaa ishaaraa mil gayaa





