ye duniyaa nafraton ke aakhri stage pe hai
ilaaj is kaa mohabbat ke sivaa kuchh bhi nahin hai

Charan Singh Bashar
Charan Singh Bashar
Charan Singh Bashar
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے سیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتے زمانہ وہ بھی تھا جب حادثے کا ڈر ستاتا تھا مگر اب حادثے لوگوں کو ڈرنے ہی نہیں دیتے کچھ ہم نے خواب ایسے پال رکھے ہیں کہ جو ہم کو حقیقت کی زمیں پر پاؤں رکھنے ہی نہیں دیتے یہ مانا عشق سے بنتی ہے جنت زندگی لیکن مسائل زندگی سے عشق کرنے ہی نہیں دیتے گزر گاہوں کے آگے منزلیں آواز دیتی ہیں مگر ٹھہرے ہوئے لمحے گزرنے ہی نہیں دیتے بشرؔ بے رحم ہیں یہ پربتوں جیسے اصول اپنے کسی کے دل کی وادی میں اترنے ہی نہیں دیتے
fazaa-e-aadmiyyat ko sanvarne hi nahin dete
اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہے تو جس طرف چلی ہے ادھر میرا گھر بھی ہے دستار مجھ سے مانگنے والے نظر اٹھا دستار ہی نہیں مرے شانے پہ سر بھی ہے ظاہر میں ٹھیک ٹھاک ہے ہر ایک آدمی انداز گفتگو میں بکھرنے کا ڈر بھی ہے تیری ہی خوشبوؤں سے مہکتی ہے رہ گزر تیری طرف سفر بھی تو ہی ہم سفر بھی ہے دنیا تری عجیب ہے میرے خدا جہاں جینے کی آرزو بھی ہے مرنے کا ڈر بھی ہے اللہ سے بشرؔ نہیں چھپتا کسی کا حال کیا ہے ہمارے دل میں اسے یہ خبر بھی ہے
ai sar-phiri havaa tujhe is ki khabar bhi hai
کسی گم کردۂ منزل نے ہی پہرے پہ رکھی ہے وہ اک زندہ لہو کی بوند جو کانٹے پہ رکھی ہے جو قاتل ہیں وہ سب محفوظ ہیں اپنے ٹھکانوں میں مگر اک بے سہارا لاش چوراہے پہ رکھی ہے مرے زخموں کو مرہم کی تمنا تم سے کیا ہوگی کہ تم نے پیار کی بنیاد ہی بدلے میں رکھی ہے گھروں کی آگ ہم سے بجھ نہیں سکتی مگر خوش ہیں کہ ہم نے ساری ذمہ داری ہمسائے پہ رکھی ہے
kisi gum-karda-e-manzil ne hi pahre pe rakkhi hai
میں اندھیرا ایک شب کا ترا شمع سا زمانہ بھلا کیسے ہوگا ممکن کوئی مل کے گھر بسانا ابھی آگ سے لپٹنے کا ہنر ہے مجھ میں زندہ ابھی گردش زمانہ مرے سامنے نہ آنا جہاں بے ضمیر اندھیروں نے کیا ہے خیر مقدم اسی راہ پر چراغوں کو جلا کے چھوڑ جانا مرا دل ہے مضطرب سا ترا دل ہے مطمئن سا نہ ترا یہاں ٹھکانا نہ مرا یہاں ٹھکانا میں سفر پہ لوٹ جانے کا ارادہ جب کروں ہوں کوئی اے بشرؔ کہے ہے مرے شہر سے نہ جانا
main andheraa ek shab kaa tiraa sham' saa zamaana
کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہے ہے کتنی دور اور سحر دیکھنا یہ ہے ہر اک قدم پہ وقت بدل جائے ہے یہاں کس طرح طے کرو گے سفر دیکھنا یہ ہے بوڑھا درخت تیز ہواؤں کے سامنے کب تک رہے گا سینہ سپر دیکھنا یہ ہے ہونٹوں پہ کھل رہے ہیں صداقت کے چند پھول نیزے پہ کب بلند ہو سر دیکھنا یہ ہے دنگے میں تو ہلاک ہوئے بے شمار لوگ کل کس طرح چھپے گی خبر دیکھنا یہ ہے انسانیت کے نام پہ کب تک لڑیں گے ہم کب تک بہے گا خون بشرؔ دیکھنا یہ ہے
kab tak rahegaa shab kaa safar dekhnaa ye hai
فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتے سیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتے زمانہ وہ بھی تھا جب حادثے کا ڈر ستاتا تھا مگر اب حادثے لوگوں کو ڈرنے ہی نہیں دیتے کچھ ایسے خواب ہم نے پال رکھے ہیں کہ جو ہم کو حقیقت کی زمیں پر پاؤں دھرنے ہی نہیں دیتے یہ مانا عشق سے بنتی ہے جنت زندگی لیکن مسائل زندگی کے عشق کرنے ہی نہیں دیتے گزر گاہوں کے آگے منزلیں آواز دیتی ہیں مگر ٹھہرے ہوئے لمحے گزرنے ہی نہیں دیتے بشرؔ بے رحم ہیں یہ پربتوں جیسے اصول اپنے کسی کے دل کی وادی میں اترنے ہی نہیں دیتے
fazaa-e-aadmiyyat ko sanvarne hi nahin dete





