SHAWORDS
Dr. Azam

Dr. Azam

Dr. Azam

Dr. Azam

poet
1Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

امید پر ہماری یہ دنیا کھری نہیں پھر بھی تو اس کو پانے کی خواہش مری نہیں بے وجہ گل رخوں سے مری بے رخی کہاں میرے جنون شوق کے قابل پری نہیں تسکیں ملے بھی دیدۂ حیراں کو کس طرح شیشہ گری نہیں کہیں جلوہ گری نہیں بد رنگ سی بہار ہے فصل بہار میں بشاش دل نہیں ہے طبیعت ہری نہیں لگتا ہے آج شہر کے حالات ٹھیک ہیں مسجد وگرنہ کل کی طرح کیوں بھری نہیں حالانکہ میرے جرم پہ پردے پڑے رہے دل کی ملامتوں سے مگر میں بری نہیں دھرتی پہ دکھ رہے ہیں گناہوں کے اب اثر اعظمؔ کہیں تو خشکی کہیں پر تری نہیں

ummid par hamaari ye duniyaa khari nahin

غزل · Ghazal

عقل کتنی شعور کتنا ہے پھر بھی تجھ کو غرور کتنا ہے ہر کوئی تجھ سے دور کتنا ہے اس میں تیرا قصور کتنا ہے میٹھی میٹھی تمہاری باتوں کے پس پردہ فتور کتنا ہے ہم کو توفیق ہی نہیں ہوتی گھر ترا ورنہ دور کتنا ہے یہ تو اہل جنوں ہی جانتے ہیں ہوش تحت شعور کتنا ہے سطر در سطر پڑھنے والے دیکھ قصہ بین السطور کتنا ہے داغ ہے ماتھے پر مگر اعظمؔ اس کے چہرے پہ نور کتنا ہے

aql kitni shuur kitnaa hai

غزل · Ghazal

جھریوں کی قطار دیکھو تو عمر سے اپنی ہار دیکھو تو ہوک بے اختیار اٹھتی ہے اپنے جب اختیار دیکھو تو جھیل کہتے ہو تم جن آنکھوں کو ان میں ہیں آبشار دیکھو تو جانے کیا کیا نظر وہ آتا ہے جب اسے بار بار دیکھو تو غیر ممکن ہے اتحاد میاں قوم میں انتشار دیکھو تو وصل سے آپ ہی گریزاں ہوں لذت انتظار دیکھو تو دو ہی مصرعوں میں ہے مکمل نظم وسعت اختیار دیکھو تو

jhurriyon ki qataar dekho to

غزل · Ghazal

پر لطف سکوں بخش ہوائیں بھی بہت تھیں گلشن میں تعصب کی وبائیں بھی بہت تھیں خود میں نے ہی رکھا نہ خیال اپنا کبھی بھی غیروں کی کچھ اپنوں کی جفائیں بھی بہت تھیں صورت پہ اجالے تھے اگر شمس و قمر کے زلفوں کی سیاہی میں گھٹائیں بھی بہت تھیں تھی عہد جوانی میں محبت ہی محبت ناکردہ گناہوں کی سزائیں بھی بہت تھیں مبہوت تھے مسحور تھے سب دیکھ کے اس کو شفاف سراپا تھا ادائیں بھی بہت تھیں ہر وقت مرے ساتھ تھے اسباب تباہی قسمت تھی خراب اپنی خطائیں بھی بہت تھیں اک روز قضا لے گئی بیمار کو اعظمؔ تھے جب کہ مسیحا بھی دوائیں بھی بہت تھیں

pur-lutf sukun-bakhsh havaaein bhi bahut thiin

غزل · Ghazal

شوق باقی نہیں باقی نہیں اب جوش و خروش دن وہ پر کیف تھے جب ہم تھے سراسر مدہوش مصلحت جوش بغاوت کو دبا دیتی ہے دل دھڑکتا ہے مگر دل کی صدائیں خاموش اب کوئی صورت گفتار نظر آتی نہیں وہ بھی خاموش مرا رد عمل بھی خاموش تیری رفتار لگاتار ہو کچھوئے کی طرح ورنہ رہ جائے گا تو راہ میں مثل خرگوش زیست کی راہ پہ تنہا نہ کبھی چل پایا غم جاناں غم دوراں بھی رہے دوش بدوش سامنا دہر کا تنہا اسے اب کرنے دے پاؤں میں بیٹے کے آنے لگے تیری پاپوش بزم اردو سے ہوئی دیر بہت آئے ہوئے اب تلک سانس میں خوشبو ہے معطر ہیں گوش اب تو گھر بار میں لگتا ہی نہیں دل اعظمؔ ایسا لگتا ہے کہ ہو جائیں گے ہم خانہ بدوش

shauq baaqi nahin baaqi nahin ab josh-o-kharosh

غزل · Ghazal

دل مرا چیخ رہا تھا شاید ضبط سے درد سوا تھا شاید ایک الجھن سی رہی آفس میں گھر پہ کچھ چھوٹ گیا تھا شاید دکھتی رگ کو ہی بنایا تھا ہدف وار اپنوں نے کیا تھا شاید رخ مرا اس کی طرف رہتا تھا وہ مرا قبلہ نما تھا شاید میں نے پوچھا تھا محبت ہے تمہیں اس نے دھیرے سے کہا تھا شاید میں نے کچھ اور کہا تھا اعظمؔ اس نے کچھ اور سنا تھا شاید

dil miraa chikh rahaa thaa shaayad

Similar Poets