aa hi jaate ho khvaab mein har shab
tum miraa kitnaa dhyaan rakhte ho

Ehya Bhojpuri
Ehya Bhojpuri
Ehya Bhojpuri
Popular Shayari
20 totaldil ke andar bhi chaar khaane hain
koi kaise na bad-gumaan hogaa
miraa ghar jalaane vaale mujhe fikr hai tiri bhi
ki havaa kaa rukh jo badlaa tiraa ghar bhi jal na jaae
yuun to laDaai-jhagDe ki aadat nahin mujhe
phir bhi ghalat kiyaa thaa garebaan chhoD kar
milaa hai takht jo jamhuriyat mein bandar ko
to un se kyaa sabhi jangal ke sher Dar jaaein
sab hifaazat kar rahein hain mustaqil divaar ki
jab ki hamla ho rahaa hai mustaqil buniyaad par
khud par kisi ko hansne kaa mauqa nahin diyaa
puchhaa kisi ne haal to cigarette jalaa liyaa
bachchon ko bhuke peT sulaane ke baad ham
kaise ghazal ke sher sunaaein jahaan-panaah
kaam kuchh to kijiye apni baqaa k vaaste
inqilaabi naam se to inqalaab aataa nahin
jalaae meri hi cigarette miri ayaadat par
ye meraa dost bhi hai kaaiyaan ajib-o-gharib
nazar utaarti hain vaqt vaqt par meri
mili hain maaon ko binaaiyaan ajib-o-gharib
ye kyaa ki har vaqt ji-huzuri mein sar jhukaae khaDe ho 'ahyaa'
agar baghaavat kaa par tumhaaraa bhi phaDphaDaae to sar uThaao
Ghazalغزل
مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیا اک سرا جب ملا دوسرا رہ گیا امتحاں کے لئے اور کیا رہ گیا اے خدا بس ترا آسرا رہ گیا ایسے رکھا گیا مجھ کو تصویر میں زندگی بھر مرا سر جھکا رہ گیا خود بھی شامل رہا ڈھونڈنے میں اسے عمر بھر جس کو میں ڈھونڈھتا رہ گیا وقت کی دھوپ میں مٹ گئے سب نشاں دل کے کاغذ پہ بس نام کا رہ گیا منہ چھپائے ہوا دیکھتی رہ گئی حوصلہ جس میں تھا وہ دیا رہ گیا جس شجر سے اچانک پرندے اڑے وہ شجر دیر تک کانپتا رہ گیا جب مصیبت کبھی خود پہ احیاؔ پڑی فلسفہ سب دھرا کا دھرا رہ گیا
maqsad-e-zindagi DhunDhtaa rah gayaa
ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کر ورنہ نہ جاؤ تم کبھی میدان چھوڑ کر یوں تو لڑائی جھگڑے کی عادت نہیں مجھے پھر بھی غلط کیا تھا گریبان چھوڑ کر اب کوئی ملنے جلنے کو آتا نہیں ہے گھر میں بھی ہوں بند کمرے میں دالان چھوڑ کر اچھے برے سے پاک یہاں کوئی شے نہیں تم فائدہ گنا کرو نقصان چھوڑ کر خوشبو بکھیرنا مری فطرت ہے دوستو خوشبو بکھیرتا ہوں میں گلدان چھوڑ کر
hijrat karo to rishta-o-saamaan chhoD kar
ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیں ہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں مٹتی نہیں تاریخ سے کوئی بھی عبارت تاریخ لکھے گی کہ لکھا کاٹ رہے ہیں ہے آج کی فصلوں میں عداوت ہی عداوت کیا بویا تھا ہم نے یہاں کیا کاٹ رہے ہیں ہم پھول ہیں مہکیں گے جدھر جائیں گے لیکن اس باغ میں رہنے کی سزا کاٹ رہے ہیں گاتے تھے کبھی وہ بھی محبت کے ترانے موقع جو ملا ہے تو گلا کاٹ رہے ہیں آسان بنانا ہے محبت کی ڈگر کو چن چن کے سو ہم لفظ وفا کاٹ رہے ہیں
haathon ki lakiron kaa likhaa kaaT rahe hain
جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا یا پھر ہوا ملال تو سگریٹ جلا لیا خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیا پوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیا سوکھے گلے سے لفظ کو لانا تھا ذہن تک جب آ گیا خیال تو سگریٹ جلا لیا غصے میں خوں کے گھونٹ تو پیتا رہا مگر آنکھیں ہوئیں جو لال تو سگریٹ جلا لیا اچھی نہیں ہے شے مگر احیاؔ میں کیا کروں کرنا ہے شکر حال تو سگریٹ جلا لیا
jab ho gayaa kamaal to cigarette jalaa liyaa
تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پر فیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پر بات تیری مل ملا کر ٹھیک ہے نقاد پر شعر اچھا یا برا ہے منحصر ہے داد پر سب حفاظت کر رہیں ہیں مستقل دیوار کی جب کہ حملہ ہو رہا ہے مستقل بنیاد پر کیسے نکلو گے بھلا اپنے گنہ کے جال سے تم نے تو الزام سارا رکھ دیا صیاد پر در بدر پھرنا پڑے گا عاشقوں کو عمر بھر ظلم سہنا لازمی ہے وارث فرہاد پر ماں کے پیروں کے تلے جنت کی نعمت ہے مگر باپ کا سایہ بھی احیاؔ چاہئے اولاد پر
tabsira kyon kar rahe ho baarhaa ajdaad par
کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہے گھر میں آیا ہوا مہمان برا لگتا ہے میں نے ہونٹوں پہ تبسم تو سجا رکھا ہے غم بھلانے میں مگر وقت بڑا لگتا ہے آپ بیکار مجھے شجرہ دکھانے آئے آپ جو بھی ہیں وہ لہجے سے پتا لگتا ہے جب ملاتا ہوں نظر تو نہیں ملتی نظریں جب ہٹاتا ہوں نظر اس کو برا لگتا ہے تتلیاں بن گئیں پھر آج وفادار کئی باغ میں کوئی نیا پھول کھلا لگتا ہے یوں غم ہجر کو دنیا سے چھپاتا ہوں مگر کتنا کمزور ہوں آنکھوں سے پتا لگتا ہے
kitnaa kamzor hai imaan pataa lagtaa hai





