jahaan faizaan-e-aabaadi bahut hai
vahaan par bhi ghane jangal rahe the

Faizan Arif
Faizan Arif
Faizan Arif
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
دعاؤں کے دیے جب جل رہے تھے مرے غم آنسوؤں میں ڈھل رہے تھے کسی نیکی کا سایہ تھا سروں پر جو لمحے آفتوں کے ٹل رہے تھے ہوا احساس یہ آدھی صدی بعد یہاں پر صرف رستے چل رہے تھے وطن کی عظمتوں کو ڈسنے والے وطن کی آستیں میں پل رہے تھے بہت نزدیک تھی منزل ہماری مگر سب راستے دلدل رہے تھے نہیں بدلے ابھی منصف یہاں کے وہی ہیں فیصلے جو کل رہے تھے جہاں فیضان آبادی بہت ہے وہاں پر بھی گھنے جنگل رہے تھے
duaaon ke diye jab jal rahe the
2 views
کچھ اہتمام سفر کا ضرور کرنا ہے کہ اس کے شہر سے ہو کر مجھے گزرنا ہے میں چپ نہیں ہوں کسی مصلحت کے پیش نظر میں جانتا ہوں کہاں اختلاف کرنا ہے ہمارے جسم سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مگر سمندروں کی تہوں سے ہمیں ابھرنا ہے پھسل رہی ہے جوانی کی ریت مٹھی سے گزر رہے ہیں مرے دن انہیں گزرنا ہے یہ کائنات کی تصویر نا مکمل ہے ابھی تو اس میں بہت رنگ اس نے بھرنا ہے مرا مزاج نہیں ہے مگر مجھے فیضانؔ کسی کے واسطے اک عہد سے مکرنا ہے
kuchh ehtimaam safar kaa zarur karnaa hai
1 views
جذبات میں جو میرے مقابل کھڑے ہوئے احساس تب ہوا مرے بچے بڑے ہوئے دشمن کی زد سے اس کو بچا تو لیا مگر سینے میں میرے تیر ہیں اب تک گڑے ہوئے نایاب کس قدر ہیں تمہیں کچھ خبر نہیں ہم مل گئے جو راہ میں تم کو پڑے ہوئے اک عشق کو تو تاج محل سے ملا دوام اک عشق کی مثال وہ کچے گھڑے ہوئے تقدیر کا اصول ہے اے دوست صبر کر روزے رکھے غریب نے تو دن بڑے ہوئے وہ کیا گیا کہ اب تو سبھی کچھ بدل گیا پہلے تو شب ہی تھی سو اب دن بھی کڑے ہوئے فیضانؔ ایسے دل میں بسی ہے کسی کی یاد جیسے انگوٹھیوں میں نگینے جڑے ہوئے
jazbaat mein jo mere muqaabil khaDe hue
1 views
نئے شہروں کی جب بنیاد رکھنا پرانے شہر بھی آباد رکھنا پڑی ہو پاؤں میں زنجیر پھر بھی ہمیشہ ذہن کو آزاد رکھنا کسی کی یاد جب شدت سے آئے بہت مشکل ہے خود کو یاد رکھنا دکھوں نے جڑ پکڑ لی میرے اندر ضروری تھا کوئی ہم زاد رکھنا خدایا شاخ پر کلیاں کھلانا کوئی پودا نہ بے اولاد رکھنا پڑھاؤ ڈالنے والو ہمیشہ گزشتہ ہجرتوں کو یاد رکھنا کہیں بھی گھر بسا لینا جہاں میں مگر اپنے وطن کو یاد رکھنا
nae shahron ki jab buniyaad rakhnaa
1 views
مرے گمان کی حد سے نکلنے والا تھا وہ مجھ سے پہلے ہی رستہ بدلنے والا تھا تجھے ہی جانے کی عجلت تھی اے مسافر من وگرنہ میں بھی ترے ساتھ چلنے والا تھا جہاں پہ قافلۂ سالار تھک کے بیٹھ گیا وہیں سے اک نیا رستہ نکلنے والا تھا نہیں تھی مجھ کو ضرورت کسی سہارے کی کہ میں تو آپ ہی گر کر سنبھلنے والا تھا میں لوٹ آیا سمندر سے ڈر کے جب فیضانؔ اسی گھڑی وہ خزانہ اگلنے والا تھا
mire gumaan ki had se nikalne vaalaa thaa
حال دل صرف تمہیں ہم نے سنانے کے لیے کتنے الفاظ لکھے سارے زمانے کے لیے کھول رکھے ہیں دریچے اسی امید کے ساتھ لوٹ آئے گی ہوا دیپ جلانے کے لیے اس کا ملنا ہی مقدر میں نہیں تھا ورنہ ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا اسے پانے کے لیے جانے کب آئے گا وہ میری محبت کا سفیر میرے ہر خواب کی تعبیر بتانے کے لیے آندھیاں برسر پیکار نظر آتی ہیں میری خواہش کے چراغوں کو بجھانے کے لیے پھول سے لوگ بڑی دور سے آئے فیضانؔ تاج کانٹوں کا مرے سر پہ سجانے کے لیے
haal-e-dil sirf tumhein ham ne sunaane ke liye





