"sardi hai ki is jism se phir bhi nahin jaati suraj hai ki muddat se mire sar par khaDa hai"

Fakhr Zaman
Fakhr Zaman
Fakhr Zaman
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"ab tak tire honTon pe tabassum ka guman hai ham ko to hai mahbub yahi adh-khila phuul"
sardi hai ki is jism se phir bhi nahin jaati
suraj hai ki muddat se mire sar par khaDaa hai
ab tak tire honTon pe tabassum kaa gumaan hai
ham ko to hai mahbub yahi aadh-khilaa phuul
Ghazalغزل
ham log to aakaas ki belon mein ghire hain
ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں خوش بخت ہیں جو گلشن ہستی میں کھلے ہیں اس دھوپ کی شدت سے نہیں کوئی مفر اب دیوار کے سائے میں بڑے لوگ کھڑے ہیں کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ ہر موڑ پہ کشکول لئے لوگ کھڑے ہیں اک روز ہمیں ہوں گے اجالے کے پیمبر ہم لوگ کہ مدت سے اندھیرے میں پڑے ہیں یہ زیست کچھ ایسے ہے کہ الجھے ہوئے دھاگے ٹوٹے ہوئے نکلیں جنہیں سمجھیں کہ سرے ہیں ہر روز کوئی ٹانکا ادھڑ جاتا ہے پھر سے ہم وقت کی سوزن سے کئی بار سلے ہیں جب وقت پڑا دیکھنا دے جائیں گے دھوکا یہ دوست نہیں فخرؔ سبھی کچے گھڑے ہیں
ai ham-safaro kyuun na nayaa shahr basaa lein
اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں جن لوگوں نے اب تک مرے ہونٹوں کو سیا ہے سوزن سے مری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں برفوں پہ الاؤ نہیں لگتے ہیں تو یارو بجھتی ہوئی قندیل سے قندیل جلا لیں کہنے کو تو بازار کی ہم جنس گراں ہیں لیکن ہمیں کوڑی پہ خریدار اٹھا لیں بوجھ اپنا بھی ہم سے تو اٹھایا نہیں جاتا اور آپ مصر آپ کا بھی بوجھ اٹھا لیں
mashhur ho gayaa vo miraa pairahan liye
مشہور ہو گیا وہ مرا پیرہن لیے میں پھر رہا ہوں شہر میں ننگا بدن لیے میں تو کبھی کا مر چکا اور لوگ رو چکے یہ کون پھر سے آ گیا میرا کفن لیے ذروں میں جب سے جسم مرا منقسم ہوا سر پر کھڑا ہے ہاتھ میں سورج کرن لیے میں نے تو اپنے ہاتھ سے کھودی ہے اپنی قبر آیا ہے لے کے کیسی طلب گورکن لیے پھر راستے کی دھول میں سارا بدن اٹا پھر چل پڑا ہے فخرؔ ارادے کٹھن لیے
achchhaa jise kahte hain vo lagtaa hai buraa bhi
اچھا جسے کہتے ہیں وہ لگتا ہے برا بھی انسان ہوں انسان سے ہوتی ہے خطا بھی اس شہر میں انصاف کی تعریف الگ ہے جو جرم کرائے وہی دیتا ہے سزا بھی دستور یہ کیسا ہے تری بزم کا اے دوست جو زخم لگائے وہی دیتا ہے دوا بھی حالات کی آندھی نے مرا کچھ نہ بگاڑا میں جلنے لگا اور کئی بار بجھا بھی یہ برہمی اچھی نہیں چھوڑو بھی یہ باتیں جب کوئی تعلق ہو تو ہوتا ہے گلہ بھی
jo raazdaar the pahle vo dushman-e-jaan hain
جو رازدار تھے پہلے وہ دشمن جاں ہیں مگر جو دشمن جاں تھے وہ رازدار ہوئے گناہ خود ہی کیا خود کو پھر سزا دے لی ہم اپنے ہاتھوں کئی بار سنگسار ہوئے کبھی فسانہ سنا کر بھی آنکھ نم نہ ہوئی تمہارے ذکر پہ ہی آج اشک بار ہوئے ہر ایک چیز کی اس دور میں صفت بدلی پہاڑ شہر بنے شہر کوہسار ہوئے وہ پودے جن کے سراپے بڑے ملائم تھے ہمارے دیکھتے لمحوں میں خار دار ہوئے گریباں جن پہ بھروسہ تھا ہم فقیروں کو جنوں کی آنچ سے پل بھر میں تار تار ہوئے بڑھائیں ان کی طرف دست دوستی کیوں کر جو گل صفت تھے کبھی فخرؔ اب وہ خار ہوئے
jaaeinge kahaan sar pe jab aa jaaegaa suraj
جائیں گے کہاں سر پہ جب آ جائے گا سورج وہ لوگ جو دیوار کے سائے میں کھڑے ہیں اللہ یہ لمحہ تو قیامت کی گھڑی ہے انسان سے انسان کے سائے بھی بڑے ہیں ہر موڑ پہ ہیں سر بہ فلک قصر نمایاں ہر موڑ پہ کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں اس درجہ گرانی ہے کہ پتھر نہیں ملتے قبروں پہ صلیبیں نہیں انسان گڑے ہیں





