"gulab kaghaz men gum hain aise hasin manzar sarab men gum"
Farooq Ahmad Batt
Farooq Ahmad Batt
Farooq Ahmad Batt
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalgulaab kaaghaz mein gum hain aise
hasin manzar saraab mein gum
Ghazalغزل
mere hone na hone mein na thaa kuchh bhi magar phir bhi
میرے ہونے نہ ہونے میں نہ تھا کچھ بھی مگر پھر بھی نہ جانے کیوں ہوا تخلیق بے قیمت بشر پھر بھی ہوا کی پشت پہ تاروں بھری وسعت میں ہو آیا مگر اک قلب کی گہرائیوں سے بے خبر پھر بھی دھماکوں کی صدا سے گونجتی ہے یہ زمیں ہر پل قلم کی نیم بسمل آہ شب ہے بے اثر پھر بھی اگرچہ خاک مستقبل کا ہر امکان رکھتی ہے چراغوں کے مقدر میں نہیں ہوتی سحر پھر بھی ہماری دوستی کا بج رہا ہے شہر میں ڈنکا مرا دل آبلہ پھر بھی تری ضد نیشتر پھر بھی
dil-shikan andaaz dilbar dil-navaazi kyaa kare
دل شکن انداز دلبر دل نوازی کیا کرے بت تراشی کا ہنر آئینہ سازی کیا کرے درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو درد مندی سے بشر پھر بے نیازی کیا کرے خوبیٔ جوہر سے پاتی ہے ہر اک شے امتیاز کوہ کے بے فیض پتھر کی فرازی کیا کرے دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں شیشۂ حسرت میں کوئی رخ طرازی کیا کرے
sitaaron kaa dilkash samaan chhu liyaa thaa
ستاروں کا دل کش سماں چھو لیا تھا زمیں چھوڑ کر آسماں چھو لیا تھا نشاں بھی نہیں شیشۂ منتشر پر اسے تم نے جانے کہاں چھو لیا تھا مری آرزوئیں جواں ہو گئیں تھی محبت کا جب آستاں چھو لیا تھا جہاں زندگی تھی ترے آسرے پر وہیں مرحلے کا نشاں چھو لیا تھا تری نا خدائی مجھے راس آئی سمندر نے تو بادباں چھو لیا تھا فداؔ آندھیاں کیوں نہ لے جائیں حسرت پری رو نے میرا مکاں چھو لیا تھا
hamaare haath se qudrat ne kyaa jauhar dikhaae hain
ہمارے ہاتھ سے قدرت نے کیا جوہر دکھائے ہیں جو نقطے خود نہیں سمجھے وہ اوروں کو سکھائے ہیں اجالے کی سحر لانا نہیں سب کے مقدر میں فلک پہ رات نے یوں تو کئی سورج اگائے ہیں حقیقت کے سمندر میں دھلے سب رنگ ہستی کے سحر کی روشنی نے نیند سے سپنے بھگائے ہیں تقدس ان کے چہروں کا بیاں کرتا ہے آئینہ یہاں کردار جو اشک ندامت سے نہائے ہیں بڑی مشکل سے آیا قلب کے جذبات پر قابو یہ بچے رات کے پچھلے پہر ہم نے سلائے ہیں فداؔ کیسے بیاں کر لوں میں اپنے شہر کا قصہ یہاں اہل وفا نے کس طرح آنسو چھپائے ہیں
vatan ki hai agar pahchaan sarhad
وطن کی ہے اگر پہچان سرحد لڑائی بے وجہ امکان سرحد چھپائے جنگ کا سامان سرحد ہے لاشوں کا بھی قبرستان سرحد اگر دو بھائیوں کے بیچ ابھرے بنائے ہند و پاکستان سرحد لگا دونوں طرف دونوں طرف کو عجب خطرے پہ ہے حیران سرحد بٹے ہیں باڑھ سے جذبات ورنہ محبت سے نہیں انجان سرحد فداؔ انسان کو دے کر تحفظ کرے انسان کو قربان سرحد
hai dam apnaa apnaa adam apnaa apnaa
ہے دم اپنا اپنا عدم اپنا اپنا یہاں ہر کسی کو ہے ہے غم اپنا اپنا نہیں کوئی تقلید اب خود سری ہے سبھی کا ہے نقش قدم اپنا اپنا کہاں کوئی بندہ کہاں بندگی ہے مگر چاہتے ہیں حرم اپنا اپنا ہر اک شخص کا اک الگ فلسفہ ہے صنم دین دوزخ ارم اپنا اپنا تری بزم کی ہے یہ راحت گھڑی بھر چلیں گے سبھی لے کے غم اپنا اپنا فداؔ کس مصنف کی تصنیف کیا ہے سمجھ اپنی اپنی قلم اپنا اپنا





