SHAWORDS
Farooq Anjum

Farooq Anjum

Farooq Anjum

Farooq Anjum

poet
1Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

میں معتبر ہوں عشق مرا معتبر نہیں آنکھوں میں اشک غم نہیں نیزے پہ سر نہیں کچھ نقش رہ گئے ہیں بزرگوں کی شان کے اب شہر آرزو میں کسی کا بھی گھر نہیں ہم راہ چاند کے تو ستاروں کا ہے ہجوم سورج کے ساتھ کوئی شریک سفر نہیں بدلی ہوئی فضا ہے غزل کے مکان کی چنگیز خاں کے شہر میں غالبؔ کا گھر نہیں چھت آسمان ہے تو بچھونا زمین ہے اپنے مکان میں کہیں دیوار و در نہیں ناکامیوں پہ نیم چبانے لگے ہیں لوگ انجمؔ یہ زندگانی ہے خوابوں کا گھر نہیں

main mo'atabar huun ishq miraa mo'atabar nahin

2 views

غزل · Ghazal

نہ جانے کتنے لہجے اور کتنے رنگ بدلے گا وہ اپنے حق میں ہی سارے اصول جنگ بدلے گا خلا میں تیرتے مسکن رہائش کے لیے ہوں گے یہ مستقبل مرا تہذیب خشت و سنگ بدلے گا در و دیوار کیا جانیں کھلا پن آسمانوں کا کشادہ دل وہی ہوگا جو ذہن تنگ بدلے گا بڑھائے گا وہ اپنے قد کو بانسوں پر کھڑے ہو کر کبھی تاریخ بدلے گا کبھی فرہنگ بدلے گا امیر شہر نے ہم کو سگان شہر سمجھا ہے وہ اپنا کام روکے گا نہ اپنا ڈھنگ بدلے گا بہت چھوٹا سہی یہ دل مگر انجمؔ یہ ممکن ہے توازن عشق کا اب تو یہی پاسنگ بدلے گا

na-jaane kitne lahje aur kitne rang badlegaa

1 views

غزل · Ghazal

خالی نہیں ہے کوئی یہاں پر عذاب سے دنیا سے مل کے دیکھ لے اپنے حساب سے اس دن اندھیری گلیوں میں ہوگا طلوع دن جس روز دھوپ چھنیو گے تم آفتاب سے پی لوں ذرا سی آگ تخیل انڈیل کر کچھ دھوپ چھاننا ہے غزل کے نقاب سے خوشبو نے تیری رنگ کثافت اڑا دیا راحت ملی ہوا کو ذرا اس عذاب سے دل توڑنے کا کھیل نہیں تم پہ ہی تمام ہم بھی چکائیں گے یہ ادھاری حساب سے انساں سے دور نو نے مروت بھی چھین لی بارش نے سر ورق بھی اتارا کتاب سے دل کا شجر ہرا تھا تو پت جھڑ کا غم نہ تھا اجڑا ہے دل تو کون بچائے عذاب سے

khaali nahin hai koi yahaan par azaab se

1 views

غزل · Ghazal

جنگ میں جائے گا اب میرا ہی سر جان گیا اور ہوگا نہ کوئی سینہ سپر جان گیا مجھ شناور کو ڈبو سکتے نہیں دونوں حریف میں بھی طوفان کا دریا کا ہنر جان گیا اونچی پرواز کی ہمت بھی تو کر لے کرگس لاکھ شاہین کا انداز سفر جان گیا آج تلوار ہوئی جاتی ہیں شاخیں اس کی جنگ ہونی ہے ہواؤں سے شجر جان گیا اس کے آنگن میں بھی مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں چاند کے گھر میں جو پہنچا تو بشر جان گیا

jang mein jaaegaa ab meraa hi sar jaan gayaa

غزل · Ghazal

پرندے کھیت میں اب تک پڑاؤ ڈالے ہیں شکاری آج تماشہ دکھانے والے ہیں ہوائیں تیز ہیں آندھی نے پر نکالے ہیں بہت اداس پتنگیں اڑانے والے ہیں کمند پھینک نہ دینا زمیں کی وسعت پر نئے جزیرے سمندر نے پھر اچھالے ہیں چلو کے دیکھ لیں غالبؔ کے گھر کی دیواریں نئی رتوں نے بیاباں میں ڈیرے ڈالے ہیں گلی گلی میں چمکتی ہے درد کی خوشبو ہمارے زخم مہکتے ہوئے اجالے ہیں اب اپنے آپ سے ملنے کی جستجو کیا ہو تمہارے شہر کے سب آئنے تو کالے ہیں جو لوگ واقعی منصف مزاج ہیں انجمؔ سنا ہے آج وہ چہرے بدلنے والے ہیں

parinde khet mein ab tak paDaav Daale hain

غزل · Ghazal

سبز موسم کی رفاقت اس کا کاروبار ہے پیڑ کب سوکھے ہوئے پتوں کا حصے دار ہے پھر مہاجن بانٹ لیں گے اپنی ساری کھیتیاں قرض کی فصلوں پہ جینا کس قدر دشوار ہے احتیاط و خوف والے ڈوبتے ہیں بیشتر جن کو ہے خود پر بھروسہ وہ ندی کے پار ہے مطمئن بیٹھے ہو تم نے یہ بھی سوچا ہے کبھی جس کا سایہ سر پہ ہے وہ ریت کی دیوار ہے آگ کا لشکر ہے صف باندھے ہمارے سامنے کیا کریں ہم ہاتھ میں تو موم کی تلوار ہے پتھروں کو شہر کے رہتی ہے موقع کی تلاش کانچ کے پیکر میں رہنا کس قدر دشوار ہے

sabz mausam ki rifaaqat us kaa kaarobaar hai

Similar Poets