ab to mazhab koi aisaa bhi chalaayaa jaae
jis mein insaan ko insaan banaayaa jaae

Gopaldas Neeraj
Gopaldas Neeraj
Gopaldas Neeraj
Popular Shayari
3 totaltamaam umr main ik ajnabi ke ghar mein rahaa
safar na karte hue bhi kisi safar mein rahaa
ab ke saavan mein sharaarat ye mire saath hui
meraa ghar chhoD ke kul shahr mein barsaat hui
Ghazalغزل
ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے جس طرح سے بھی ہو یہ موسم بدلنا چاہیے روز جو چہرے بدلتے ہیں لباسوں کی طرح اب جنازہ زور سے ان کا نکلنا چاہیے اب بھی کچھ لوگو نے بیچی ہے نہ اپنی آتما یہ پتن کا سلسلہ کچھ اور چلنا چاہیے پھول بن کر جو جیا ہے وہ یہاں مسلا گیا زیست کو فولاد کے سانچے میں ڈھلنا چاہیے چھینتا ہو جب تمہارا حق کوئی اوس وقت تو آنکھ سے آنسو نہیں شعلہ نکلنا چاہیے دل جواں سپنے جواں موسم جواں شب بھی جواں تجھ کو مجھ سے اس سمے سونے میں ملنا چاہیے
hai bahut andhiyaar ab suraj nikalnaa chaahiye
بدن پہ جس کے شرافت کا پیرہن دیکھا وہ آدمی بھی یہاں ہم نے بد چلن دیکھا خریدنے کو جسے کم تھی دولت دنیا کسی کبیر کی مٹھی میں وہ رتن دیکھا مجھے ملا ہے وہاں اپنا ہی بدن زخمی کہیں جو تیر سے گھائل کوئی ہرن دیکھا بڑا نہ چھوٹا کوئی فرق بس نظر کا ہے سبھی پہ چلتے سمے ایک سا کفن دیکھا زباں ہے اور بیاں اور اس کا مطلب اور عجیب آج کی دنیا کا ویاکرن دیکھا لٹیرے ڈاکو بھی اپنے پہ ناز کرنے لگے انہوں نے آج جو سنتوں کا آچرن دیکھا جو سادگی ہے کہن میں ہمارے اے نیرجؔ کسی پہ اور بھی کیا ایسا بانکپن دیکھا
badan pe jis ke sharaafat kaa pairahan dekhaa
جتنا کم سامان رہے گا اتنا سفر آسان رہے گا جتنی بھاری گٹھری ہوگی اتنا تو حیران رہے گا اس سے ملنا نا ممکن ہے جب تک خود کا دھیان رہے گا ہاتھ ملیں اور دل نہ ملیں ایسے میں نقصان رہے گا جب تک مندر اور مسجد ہیں مشکل میں انسان رہے گا نیرجؔ تو کل یہاں نہ ہوگا اس کا گیت ودھان رہے گا
jitnaa kam saamaan rahegaa
اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے جس میں انسان کو انسان بنایا جائے جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے آگ بہتی ہے یہاں گنگا میں جھیلم میں بھی کوئی بتلائے کہاں جا کے نہایا جائے پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کے لیے ہر اندھیرے کو اجالے میں بلایا جائے میرے دکھ درد کا تجھ پر ہو اثر کچھ ایسا میں رہوں بھوکا تو تجھ سے بھی نہ کھایا جائے جسم دو ہو کے بھی دل ایک ہوں اپنے ایسے میرا آنسو تیری پلکوں سے اٹھایا جائے گیت انمن ہے غزل چپ ہے رباعی ہے دکھی ایسے ماحول میں نیرجؔ کو بلایا جائے
ab to mazhab koi aisaa bhi chalaayaa jaae
جب چلے جائیں گے ہم لوٹ کے ساون کی طرح یاد آئیں گے پرتھم پیار کے چمبن کی طرح ذکر جس دم بھی چھڑا ان کی گلی میں میرا جانے شرمائے وہ کیوں گاؤں کی دلہن کی طرح میرے گھر کوئی خوشی آتی تو کیسے آتی عمر بھر ساتھ رہا درد مہاجن کی طرح کوئی کنگھی نہ ملی جس سے سلجھ پاتی وہ زندگی الجھی رہی برمہا کے درشن کی طرح داغ مجھ میں ہے کہ تجھ میں یے پتہ تب ہوگا موت جب آئے گی کپڑے لیے دھوبن کی طرح ہر کسی شخص کی قسمت کا یہی ہے قصہ آئے راجہ کی طرح جائے وہ نردھن کی طرح جس میں انسان کے دل کی نہ ہو دھڑکن نیرجؔ شاعری تو ہے وہ اخبار کے کترن کی طرح
jab chale jaaeinge ham lauT ke saavan ki tarah





