SHAWORDS
Hameed Almas

Hameed Almas

Hameed Almas

Hameed Almas

poet
1Sher
1Shayari
12Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

sarhad-e-gul se nikal kar ham judaa ho jaaeinge

سرحد گل سے نکل کر ہم جدا ہو جائیں گے کل تمہاری قید خوشبو سے رہا ہو جائیں گے ذہن میں احساس رخصت ہی نہ ہوگا شام تک بڑھتے بڑھتے دن کے لمحے یوں ہوا ہو جائیں گے چھوڑ جاؤ دامن امروز میں بھی کچھ نہ کچھ ورنہ تم سے طائر فردا خفا ہو جائیں گے جب نہ ہو کار نفس تو پھر ہمارے ساتھ ساتھ یہ زمین و آسماں دونوں فنا ہو جائیں گے سامنے ہے ساعت آخر کا ان دیکھا عذاب عمر بھر کہتے رہے اب بے نوا ہو جائیں گے

غزل · Ghazal

jitne achchhe log hain vo mujh se vaabasta rahe

جتنے اچھے لوگ ہیں وہ مجھ سے وابستہ رہے میرے سارے بول ان کے لب سے پیوستہ رہے سب پرندے لا رہے ہیں آسمانوں سے خبر میرے گھر آنگن میں آ کر کب وہ پر بستہ رہے وہ طریق خوف و دہشت پر عمل پیرا سہی میں یہ کہتا ہوں کہ قتل و خوں بھی شائستہ رہے باوجود ہم نشینی اس سے کچھ پایا نہ فیض دل بھی آزردہ رہا حالات بھی خستہ رہے کم سے کم باقی رہے سب کے دلوں میں رسم و راہ یہ مناسب ہے گھروں کے درمیاں رستہ رہے سرحد امکاں سے آگے تھیں یہی تاریکیاں کیا ضروری ہے اندھیرا ہر جگہ ڈستا رہے عمر بھر کرتے رہے الماسؔ ملنے سے گریز کیجیئے تحقیق کیوں وہ راز سربستہ رہے

غزل · Ghazal

churaa ke mere taaq se kitaab koi le gayaa

چرا کے میرے طاق سے کتاب کوئی لے گیا مری تمام عمر کا حساب کوئی لے گیا یہ واقعہ ہے جب لٹی مرے چمن کی آبرو لرزتی شاخ رہ گئی گلاب کوئی لے گیا وہی تو اک ذریعۂ نجات میرے پاس تھا مگر مرے ضمیر کا ثواب کوئی لے گیا سوال بن کے روبرو کھڑی ہوئی تھی زندگی مرا لہو نچوڑ کر جواب کوئی لے گیا مرے بدن میں چبھ رہی تھیں سوئیاں سی رات بھر سحر ہوئی تو لطف اضطراب کوئی لے گیا چھپا لیا ہے میں نے سارا درد اپنی روح میں تسلیوں کا ظاہری نقاب کوئی لے گیا

غزل · Ghazal

asar-e-aah-e-naa-rasaa dekho

اثر آہ نارسا دیکھو اب ہوا چاہتا ہے کیا دیکھو وحی نازل ہوئی محبت کی پھر ہوا مہرباں خدا دیکھو ہم وہیں آ گئے ہیں پھر شاید یہ جگہ بھی ہے آشنا دیکھو بڑھ گئی اور بھی تصرف سے دولت نغمہ و نوا دیکھو راہ تخلیق کی حمید الماسؔ ابتدا ہے نہ انتہا دیکھو

غزل · Ghazal

us ke karam se hai na tumhaari nazar se hai

اس کے کرم سے ہے نہ تمہاری نظر سے ہے موسم دلوں کا درد کے روشن شجر سے ہے جس سے مرے وجود کے پہلو عیاں ہوئے شاید مرا معاملہ اس کے ہنر سے ہے حائل ہوا نہ کوئی تعلق کی راہ میں دائم تمام سلسلہ بنت سحر سے ہے آیا نہ وہ حرم میں امامت کے واسطے کچھ ربط ہی عجیب اسے اپنے گھر سے ہے اپنی گلی میں نسب ہے وہ سنگ بے نوا کہتے ہیں گرچہ واسطہ اس کو سفر سے ہے اس کے سوا نہ دل کی حکایت کوئی پڑھے منسوب میری داستاں اک دیدہ ور سے ہے محسوس کس طرح ہو مجھے دھوپ کا عذاب الماسؔ کاروبار مرا باد تر سے ہے

غزل · Ghazal

jab parinde darakhton se jaane lage

جب پرندے درختوں سے جانے لگے ہم نئے موسموں کو بلانے لگے راستے میں کہیں روشنی رہ گئی شام ہی سے اندھیرے ڈرانے لگے اپنا چہرہ ہی دیکھا نہیں خوف سے نت نئے آئنے جگمگانے لگے اب نفس میں حرارت ہی باقی نہیں ذہن میں وسوسے سرسرانے لگے مانگتے ہیں لہو امتحاں کے لیے لوگ یوں بھی ہمیں آزمانے لگے صبح ہم سے شگفتہ لبی چھن گئی رات میں واقعے سب فسانے لگے

Similar Poets