girya-o-zaari kaa saamaan uThaa lete hain
hijr mein 'mir' kaa divaan uThaa lete hain

Hamza Bilal
Hamza Bilal
Hamza Bilal
Popular Shayari
2 totalna raavan hai kahaani mein na siitaa zindagaani mein
magar banvaas phir bhi chal rahaa hai kyaa kiyaa jaae
Ghazalغزل
گریہ و زاری کا سامان اٹھا لیتے ہیں ہجر میں میرؔ کا دیوان اٹھا لیتے ہیں کوئی لیلیٰ بھی نہیں اپنی کہانی میں مگر سر پہ ہم دشت و بیابان اٹھا لیتے ہیں ہم کو تلوار سے رغبت تو نہیں ہے سائیں ہاں مگر ہو کے پریشان اٹھا لیتے ہیں ایسے تاجر کہ جنہیں سود گوارا ہو فقط راہ الفت میں وہ نقصان اٹھا لیتے ہیں میں مخاطب ہوں کسی اور منافق سے میاں آپ کیوں ہاتھ میں قرآن اٹھا لیتے ہیں بے جھجھک آپ محبت کو جتایا کیجے ہم حسینوں کے تو احسان اٹھا لیتے ہیں
girya-o-zaari kaa saamaan uThaa lete hain
4 views
وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے بتاؤ کیا تماشا ہو رہا ہے مجھے سچی محبت کا گماں تھا یہاں پر بس دکھاوا ہو رہا ہے ہمیں سکھلا رہے ہیں گر سبھی کو ہمیں سے پھر چھلاوا ہو رہا ہے رقیبوں پر عنایت کر رہے ہو مرے غم کا مداوا ہو رہا ہے وہ سنتا ہی نہیں ہے شعر میرے ہنر اپنا یہ ضائع ہو رہا ہے بہت معصوم بن کر پوچھتے ہیں تمہیں حمزہؔ بھلا کیا ہو رہا ہے
vafaaon kaa jo daavaa ho rahaa hai
4 views
اس تعلق کو نبھاؤ تو کوئی شعر کہوں تم اگر سامنے آؤ تو کوئی شعر کہوں ڈوب جانے پہ ہی گہرائی پتہ چلتی ہے آنکھ سے آنکھ ملاؤ تو کوئی شعر کہوں میں کسی مونالیزا کا نہیں قائل جاناں اپنی تصویر دکھاؤ تو کوئی شعر کہوں آپ کی چپ سے ہیں خاموش فضائیں ساری آپ ہونٹوں کو ہلاؤ تو کوئی شعر کہوں تم ستاروں کو گنو اور میں دیکھوں تم کو ساتھ اک رات بتاؤ تو کوئی شعر کہوں حضرت قیس کو کل شہر میں دیکھا تو کہا دشت میں خاک اڑاؤ تو کوئی شعر کہوں وصل کے دور میں کب شعر ہوا کرتے ہیں تم مجھے چھوڑ کے جاؤ تو کوئی شعر کہوں
is ta'alluq ko nibhaao to koi she'r kahun
4 views
عجب میں ہوں عجب ہی دل ہے جاناں یہ پاگل تجھ پہ ہی مائل ہے جاناں جسے سب کہہ رہے ہیں اپنا رہبر وہی ہے ہاں وہی قاتل ہے جاناں یہاں حامی نہیں کوئی ہمارا یہ پورا شہر ہی بزدل ہے جاناں زمانے کے ستم ہیں بے تحاشا ترا غم ساتھ میں شامل ہے جاناں ہماری موت کا باعث بنے گا لبوں کے پاس جو اک تل ہے جاناں نہیں اگلے جنم کا بھی دلاسہ مسلماں ہوں بڑی مشکل ہے جاناں
ajab main huun ajab hi dil hai jaanaan
4 views
بجھتی آنکھوں میں حسیں خواب کہاں آتے ہیں اب سر بام وہ مہتاب کہاں آتے ہیں بزم اغیار میں بیٹھا ہوں تماشا بن کر دل دکھانے مرے احباب کہاں آتے ہیں ہاتھ رکھ لیتا ہوں دل پر میں تڑپ کر دیکھو مجھ کو بھی ہجر کے آداب کہاں آتے ہیں ہم سے دیوانے میسر ہی نہیں دنیا کو سیپ میں گوہر نایاب کہاں آتے ہیں اس محبت کے سفر میں ہے اذیت حمزہؔ دشت کے بیچ میں تالاب کہاں آتے ہیں
bujhti aankhon mein hasin khvaab kahaan aate hain
3 views
ان گرم آنسوؤں کی روانی میں ساتھ دے اے شام ان کی یاد دہانی میں ساتھ دے بنواس کاٹ لیں گے مگر ایک شرط ہے شبری ہماری رام کہانی میں ساتھ دے پیری میں بھی تو خواہشیں ہو سکتی ہیں جواں وہ دل ہی کیا جو صرف جوانی میں ساتھ دے صحرا سے آئے قیس یہ فرہاد کوہ سے کوئی تو ہو جو اشک فشانی میں ساتھ دے نادانیوں سے مصرع اول بگڑ گیا اللہ میرا مصرع ثانی میں ساتھ دے
in garm aansuon ki ravaani mein saath de
2 views





