SHAWORDS
Hashim Raza Jalalpuri

Hashim Raza Jalalpuri

Hashim Raza Jalalpuri

Hashim Raza Jalalpuri

poet
3Sher
3Shayari
25Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

haadisa ishq mein darpesh huaa chaahtaa hai

حادثہ عشق میں درپیش ہوا چاہتا ہے دل شہنشاہ سے درویش ہوا چاہتا ہے عشق کو ضد ہے کہ تعمیر کرے شہر امید حسن کم بخت بد اندیش ہوا چاہتا ہے اس علاقے سے مرا کوئی تعلق بھی نہیں یہ علاقہ کہ مرا دیش ہوا چاہتا ہے میرے اشعار میں غزلوں میں مرے گیتوں میں ایک کا ذکر کم و بیش ہوا چاہتا ہے جاہ کی چاہ نہیں خواہش منصب بھی نہیں میرے اندر کوئی درویش ہوا چاہتا ہے مالک صوت و صدا شاعر گمنام رضا تیری دہلیز پہ اب پیش ہوا چاہتا ہے

غزل · Ghazal

visaal-o-hijr ke janjaal mein paDaa huaa huun

وصال و ہجر کے جنجال میں پڑا ہوا ہوں میں عرش رو کہاں پاتال میں پڑا ہوا ہوں وہی گھٹن، وہی معمول زندگی، وہی غم کہاں میں جشن نئے سال میں پڑا ہوا ہوں یہاں سے نکلوں کسی اور کا شکار بنوں اسی لئے تو ترے جال میں پڑا ہوا ہوں گریباں چاک، دھواں، جام، ہاتھ میں سگریٹ شب فراق، عجب حال میں پڑا ہوا ہوں پہنچ چکا ہے زمانہ زمیں سے چاند تلک کہاں میں زلف، نظر، گال میں پڑا ہوا ہوں

غزل · Ghazal

har makaan aabaad thaa yaan har makin dil-shaad thaa

ہر مکاں آباد تھا یاں ہر مکیں دل شاد تھا اس نگر کا نام یارو پہلے فیض آباد تھا کیا بلا تھا وہ مصور جس کی ہر تصویر میں بلبلیں آزاد تھیں اور قید میں صیاد تھا حضرت آدم نے بھی جانا گناہوں کے طفیل یہ جہاں برباد ہے کہ وہ جہاں برباد تھا مرنے والے کو میاں پہلی محبت کی طرح نرسری اسکول کا پہلا سبق بھی یاد تھا عشق زادوں میں پروٹوکال کا جھگڑا نہیں قیس جس جنگل میں تھا آخر وہیں فرہاد تھا جس کو ڈکشن کہہ رہے ہیں مفتیان ریختہ یہ نیا لہجہ غریب شہر کی ایجاد تھا محفل شعر و سخن میں کل کی شب ہاشمؔ رضا کیا کہوں میرے علاوہ ہر کوئی استاد تھا

غزل · Ghazal

badan se ruuh ham-aaghosh hone vaali thi

بدن سے روح ہم آغوش ہونے والی تھی پھر اس کے بعد سبک دوش ہونے والی تھی نصیب پڑھ کے مرا علم غیب کی دیوی یقین جانئے بے ہوش ہونے والی تھی نہ صرف تیغ کہ پی کر مرے لہو کی شراب زمین دشت بھی مدہوش ہونے والی تھی نگار خانۂ دل میں یہ دھڑکنوں کی گھڑی ترے نہ آنے سے خاموش ہونے والی تھی میں ایک لڑکا وفاداریوں کا پرچم دار وہ ایک لڑکی جفا کوش ہونے والی تھی مری جوانی تلاش معاش میں ہاشمؔ وطن سے دور فراموش ہونے والی تھی

غزل · Ghazal

amir-e-shahr tujhe kab dhiyaan meraa hai

امیر شہر تجھے کب دھیان میرا ہے نئی سڑک پہ پرانا مکان میرا ہے زمیں کے چاند نماؤں کی حیثیت کیا ہے کہ چاند ہے جو سر آسمان میرا ہے اب انتظار ہے کس کا اچھالیے سکہ یقین آپ کا ہے اور گمان میرا ہے تری کتاب بدن کا میں پہلا قاری ہوں جہاں جہاں بھی لگا ہے نشان میرا ہے میں اپنے نام سے پہچانا جاتا ہوں ہاشمؔ کوئی قبیلہ ہے نہ خاندان میرا ہے

غزل · Ghazal

tamaasha ahl-e-mohabbat ye chaar-su karte

تماشہ اہل محبت یہ چار سو کرتے دل و دماغ اور آنکھیں لہو لہو کرتے وہ روشنی سے بھری جھیل کے کنارے پر شکستہ روح، دریدہ بدن رفو کرتے ہمارے بارے میں تفتیش کرنا چاہتے تھے تو جان جان پرندوں سے گفتگو کرتے جمال و حسن سے لبریز جب زمانہ ہے تری بساط ہی کیا تیری آرزو کرتے زمیں پہ چاند ستارے بچھا کے اے ہاشمؔ فلک پہ پھول سجانے کی آرزو کرتے

Similar Poets