miri aarzu-e-rusvaa na chhupegi 'hosh' mujh se
ki miri nigaah mein hai mire dard kaa fasaana

Hosh Bilgrami
Hosh Bilgrami
Hosh Bilgrami
Popular Shayari
2 totaljo tujhe khayaal hotaa ye miraa na haal hotaa
na tiri nigaah badli na badal sakaa zamaana
Ghazalغزل
فکر ہستی ہے نہ احساس اجل یہ خرد ہے یا دماغوں کا خلل زندگی بے کشمکش ملتی نہیں آندھیوں سے کھیل طوفانوں میں چل چھا رہی ہیں عبرتیں ہی عبرتیں حلقۂ اوہام ہستی سے نکل یہ محبت کی رہ دشوار ہے ڈگمگاتے ہیں قدم ناداں سنبھل غم سے ہوتی ہے حقیقت آشکار مضطرب موجوں میں کھلتا ہے کنول وقت کی آواز سننا چاہئے وقت کا فرمان ہوتا ہے اٹل غم اگر قسمت میں ہو لکھا ہوا ہوشؔ کام آتے نہیں سعی و عمل
fikr-e-hasti hai na ehsaas-e-ajal
مآل کار نہ کچھ بھی ہوا تو کیا ہوگا نہ ہم رہے نہ زمانہ رہا تو کیا ہوگا میں ہنس رہا ہوں زمانہ کی شاد کامی پر چراغ عیش جو گل ہو گیا تو کیا ہوگا مجھے فریب نہ دے اے طلسم خواب و خیال رخ حیات اگر پھر گیا تو کیا ہوگا ضمیر دہر میں وہ زندگی کی لہر کہاں دلوں میں سوز محبت رہا تو کیا ہوگا تلاش منزل ہستی ضرور ہے لیکن نشان راہ نہ گر مل سکا تو کیا ہوگا تمہیں یقیں ہے کہ ہے کھیل رقص بیتابی جو میرے دل کو سکوں آ گیا تو کیا ہوگا مآل موسم گل ہے خزاں تو پھر اے ہوشؔ ہوئی بھی دعوت آب و ہوا تو کیا ہوگا
maaal-e-kaar na kuchh bhi huaa to kyaa hogaa
سناؤں تمہیں زندگی کی کہانی غم جاودانی غم جاودانی نہ سمجھا وہ اسرار ہستی نہ سمجھا یہاں جس نے غم کی حقیقت نہ جانی محبت میں اک درس عبرت بنے گی مری نا مرادی مری سخت جانی محبت کی دنیا لٹی جا رہی ہے جوانی اور اس پر کسی کی جوانی تصور میں ہیں عہد ماضی کی باتیں نہ وہ سر خوشی ہے نہ وہ سرگرانی نہ جانے کہاں تک یہ دنیا سنے گی کسی کا فسانہ کسی کی زبانی مجھے ہوشؔ یہ درس غم نے دیا ہے کہ ہستی کا دھوکا ہے اک شادمانی
sunaaun tumhein zindagi ki kahaani
وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ مری زندگی تصور مری عشرتیں فسانہ نہ حضوریوں کی خواہش نہ وصال کی تمنا مجھے اب بھی ہے تعارف وہی ان سے غائبانہ جو تجھے خیال ہوتا یہ مرا نہ حال ہوتا نہ تری نگاہ بدلی نہ بدل سکا زمانہ یہ جہاں کی ایک کروٹ یہ خزاں کا ایک دھوکا یہ ہوائیں بھیگی بھیگی یہ بہار کا ترانہ کوئی خواب تھا یہ شاید جو نظر میں پھر رہا ہے وہ مری نیاز مندی وہ کسی کا آستانہ نہ ترا سراغ پایا نہ سکوں کا راز پایا مری زندگی تھی گویا غم دل کا اک بہانہ مری آرزوئے رسوا نہ چھپے گی ہوشؔ مجھ سے کہ مری نگاہ میں ہے مرے درد کا فسانہ
vahi meri naa-muraadi vahi gardish-e-zamaana
محبت کی فطرت ہے یہ بے قراری کوئی کیا کرے گا مری غم گساری وہی کامیابی کے اسرار سمجھا محبت کی بازی یہاں جس نے ہاری تمہارے اشاروں پہ چلتی ہے دنیا نہ مختار یاں ہیں نہ بے اختیاری مرے دل کو پتھر خدارا نہ سمجھو نگاہیں پھر اس پر نگاہیں تمہاری محبت کی قسمت میں لکھی ہوئی ہے یہی درد مندی یہی اشک باری زمانہ مرا سوز غم کیا سمجھتا کہ ہر سانس ہے اک نئی شعلہ باری غم دل سناتا ہوں میں ہوشؔ ان کو مگر کوئی دیکھے مری بے قراری
mohabbat ki fitrat hai ye be-qaraari
نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر کسی طرح سے نہ بدلی پھری ہوئی تقدیر ضمیر دہر سے اندیشۂ خزاں نہ گیا بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر تعینات میں الجھی ہوئی ہے فکر حیات مرے زوال کی تمہید ہے مری تعمیر اب اعتراف خطا پر نہ اس نگاہ سے دیکھ کہ ہو نہ جائے کہیں مجھ سے پھر کوئی تقصیر زبان عام میں کہتے ہیں کائنات جسے حقیقت غم دل کی ہے مختصر تفسیر نہیں خدا کی زمیں تنگ اے چمن والو کریں گے اور کہیں ہم اب آشیاں تعمیر زمانہ ہوشؔ بدلنے کو ہے نئی کروٹ بجھے پڑے ہیں بہت دن سے قلب و روح و ضمیر
na kaam fikr se niklaa na chal saki tadbir





