SHAWORDS
I

Ilyas Ishqi

Ilyas Ishqi

Ilyas Ishqi

poet
5Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

عشقیؔ صاحب لکھنا ہے تو کوئی نئی تحریر لکھو اب تک تم نے خواب لکھے اب خوابوں کی تعبیر لکھو اس الجھن کو سلجھانے کی کون سی ہے تدبیر لکھو عشق اگر ہے جرم تو مجرم رانجھا ہے یا ہیر لکھو جہاں بھی قصر شیریں دیکھو خسروؔ کی جاگیر لکھو کوہ جہاں حائل ہوا اس پر خوں سے جوئے شیر لکھو دشت سے آزادی کی ہوائیں ان کو بلانے آتی ہیں اہل جنوں کو روکنے والی کون سی ہے زنجیر لکھو شہر سخن کے عزت دارو کچھ تو کسی کا پاس کرو کوئی تو ہوگا جس کو آخر تم صاحب توقیر لکھو ہم وطنوں کے درد کا درماں ایسا کچھ دشوار نہیں نام وطن ہے اسم اعظم خاک وطن اکسیر لکھو اپنی کمندیں پھینک کے جس کو قید کیا ہے ظلمت نے وہ سورج کب ابھرے گا کب پھیلے گی تنویر لکھو اپنے عہد کی سفاکی پر یہ خاموشی طنز نہیں کوئی تو ہوگا اس کا سبب کیوں بیٹھے ہو دلگیر لکھو جب تک سر سے خوں نہ بہے گا کوہ کنی ہے خام خیال تیشے کو خلاق کہو یا پتھر کو تصویر لکھو ڈھا دے جو انسان کے دل میں رنگ و نسل کی دیواریں کوئی تو دستور محبت ایسا عالم گیر لکھو ہر ہر دور کے لکھنے والے حاشیے اس کے لکھتے ہیں اپنے عہد میں نسخۂ دل کی تم بھی کوئی تفسیر لکھو حرف کی طاقت بے پایاں ہے حرف کے ہیں امکان بہت حرف کو زندہ کرنا سیکھو پھر چاہے تقدیر لکھو دل پر جس کے نقش نہ ابھریں وہ کیا ابرو کیسی نظر کتنا ہی تم تیر نظر کو ابرو کو شمشیر لکھو روشن کیسے ہوگا سواد حرف جو خون دل نہ جلا چربہ تم غالبؔ کا اتارو چاہے برنگ میرؔ لکھو اپنے دکھڑے لکھ لکھ کر دیوان تو تم نے جمع کیا دل کو جو بدلے اب کوئی ایسا شعر پر تاثیر لکھو

'ishqi'-saahib likhnaa hai to koi nai tahrir likho

غزل · Ghazal

یہ بہار وہ ہے جہاں رہی اثر خزاں سے بری رہی جو صلیب و دار میں ڈھل گئی وہی چوب خشک ہری رہی ملی جب کبھی خبر جہاں تو جہاں سے بے خبری رہی کسی اور سے نہیں کچھ گلہ خجل اپنی دیدہ وری رہی وہی اک خرابیٔ بے کراں جو ترے جہاں کا نصیب ہے اسی رست و خیز سے آج تک مرے دل میں بے خطری رہی مری زندگی کی عروس نو تجھے اس کی کوئی خبر بھی ہے وہ تھی کس کی سرخیٔ خون دل تری مانگ میں جو بھری رہی کوئی قریہ کوئی دیار ہو کہیں ہم اکیلے نہیں رہے تری جستجو میں جہاں گئے وہیں ساتھ در بدری رہی وہی آگ اپنا نصیب تھی کہ تمام عمر جلا کیے جو لگائی تھی کبھی عشق نے وہی آگ دل میں بھری رہی وہی اک صداقت حرف تھی کھلی پھول بن کے جو آگ میں وہی اک دلیل حیات تھی جو گواہ با خبری رہی نہ اثر فسوں کوئی کر سکا نہ وہ میرے دل میں اتر سکا کوئی عکس ہی نہ ابھر سکا رہا شیشہ اور نہ پری رہی میں ہلاک لذت گفتگو ہی سہی مگر اسے کیا کروں جو فراز دار سے کی گئی وہی ایک بات کھری رہی ہنر آج عشقیؔ بے نوا کا خجل ہے روح سراجؔ سے وہی اک خلش جو متاع فن تھی ثبوت بے ہنری رہی

ye bahaar vo hai jahaan rahi asar-e-khizaan se bari rahi

غزل · Ghazal

سمجھانے والوں نے کتنا ان کو سمجھایا لوگو پھر بھی دھوکا دل والوں نے ہر پھر کر کھایا لوگو نگری نگری پھرا مسافر دکھی رہی کایا لوگو ویرانے میں چین سے سویا پا کے گھنا سایا لوگو راجا پرجا گیانی مورکھ جگ سے خالی ہاتھ گئے کس کو خبر کس نے کیا کھویا کس نے کیا پایا لوگو فاصلے کی اور وقت دوری دل کا قرب مٹا نہ سکا کیسا کیسا پیارا چہرہ دھیان میں دھندلایا لوگو کہاں تلک ہے اس کا تانا بانا یہ معلوم نہیں سانس کی اس الجھی ڈوری کو کس نے سلجھایا لوگو ان آنکھوں نے جو کچھ دیکھا کون اسے سچ مانے گا وقت کی دھوپ میں چاند سا چہرہ کیسے سنو لایا لوگو دنیا داری کا ہر پہلو برت کے دیکھا عشقیؔ نے گانٹھ گرہ کی کھو کر اس نے سب کچھ بھر پایا لوگو

samjhaane vaalon ne kitnaa un ko samjhaayaa logo

غزل · Ghazal

گرچہ قلم سے کچھ نہ لکھیں گے منہ سے کچھ نہیں بولیں گے پھر بھی جلوس دار چلا تو ساتھ ہم اس کے ہو لیں گے وقت آیا تو خون سے اپنے داغ ندامت دھو لیں گے سایۂ زلف میں جاگنے والے سایۂ دار میں سو لیں گے کون سے ساحل پر یہ سفینے اپنا لنگر کھولیں گے رخ پہ ہوا کے ہو لیں گے تو دریا دریا ڈولیں گے جن ملاحوں کو طوفاں سے تند ہوا نے پار کیا کیا اب ساحل پر آ کر وہ اپنی ناؤ ڈبو لیں گے جب بھی دشت وفا میں رقص آبلہ پا یاں ہووے گا اہل وفا اس سے پہلے ہی راہ میں کانٹے بو لیں گے لفظوں سے احساس کا رشتہ جس لمحے تک قائم ہے سچے سمجھو یا جھوٹے کچھ موتی ہم بھی پرو لیں گے نفسا نفسی کے عالم میں کون کسی کا ہاتھ بٹائے اپنا اپنا بوجھ ہے عشقیؔ فرداً فرداً ڈھو لیں گے

garche qalam se kuchh na likheinge munh se kuchh nahin boleinge

غزل · Ghazal

پریت نگر کی ریت نہیں ہے ایسا اوچھا پن بابا اتنی سدھ بدھ کس کو یہاں جو سوچے تن من دھن بابا ان کی کوئی ٹھور نہیں ہے سانجھ کہیں ہیں بھور کہیں پریت کے روگے بنجارے ہیں بستی ہو یا بن بابا لاکھ جتن سے جڑ نہ سکے گا پہلے بتائے دیتے ہیں ٹوٹ گیا تو ٹوٹ گیا بس من کا یہ درپن بابا اس کی بالک ہٹ کے آگے گھر چھوڑا بیراگ لیا دیکھیں کیا دن دکھلاتا ہے اب یہ مورکھ من بابا بین جو اپنے پاس نہ ہوتی ہم جوگی بھی بھٹک جاتے کیا کیا روپ بدل کر آئی مایا کی ناگن بابا ہم جو مگن ہیں دھیان میں اپنے اس کو بھی دھوکا جانو کس سے سلجھی سانس کے تانے بانے کی الجھن بابا اب دکھ سکھ کا بھید بتانے آئے ہو جب عشقیؔ کا پریت دھرم ہے پریت کرم ہے پریت سے ہے جیون بابا

prit-nagar ki riit nahin hai aisaa ochhaa-pan baabaa

غزل · Ghazal

وقت وقت کی بات ہے یا دستور ہے دنیا کا سائیں دن ڈھلتے ہی بڑھ جاتا ہے قد سے خود سایا سائیں ڈھونڈنے والے پا لیتی ہیں انت سمندر کا سائیں تھاہ ملی نہیں جس کی کسی کو دل ہے وہ دریا سائیں منزل عشق میں ایسے ایسے ہوش ربا کچھ موڑ ملے راہ دکھانے والے گھر کا بھول گئے رستا سائیں عشق کے طوفانی دریا میں جو ڈوبا وہ پار گیا کچے گھڑے نے بیچ بھنور میں کس کا ساتھ دیا سائیں یہ داتا کی دین ہے بادل گھر کے سمندر پر برسا اور کنارے پیاسا کوئی قطرے کو ترسا سائیں جو طوفان آیا تھا اس کے اب کوئی آثار نہیں قلزم درد میں دل کا سفینہ کب کا ڈوب گیا سائیں کان میں میرے چپکے چپکے کون یہ کہتا ہے عشقیؔ ہر دن دنیا وہی پرانی ہر شب خواب نیا سائیں

vaqt vaqt ki baat hai yaa dastur hai duniyaa kaa saain

Similar Poets