khudaa jaane girebaan kis ke hain aur haath kis ke hain
andhere mein kisi ki shakl pahchaani nahin jaati

Iqbal Naved
Iqbal Naved
Iqbal Naved
Popular Shayari
6 totalkhvaahishon ke peD se girte hue patte na chun
zindagi ke sehn mein ummid kaa paudaa lagaa
raat bhar koi na darvaaza khulaa
dastakein deti rahi paagal havaa
pheink de baahar ki jaanib apne andar ki ghuTan
apni aankhon ko lagaa de ghar ki har khiDki ke saath
miri khvaahish hai duniyaa ko bhi apne saath le aauun
bulandi ki taraf lekin kabhi pasti nahin jaati
ab itni zor se har ghar pe dastakein denaa
agar javaab na aae to dar nikal jaae
Ghazalغزل
دوستوں کے ہو بہو پیکر کا اندازہ لگا ایک پتھر کے بدن پر کانچ کا چہرہ لگا دیکھنے والی نگاہوں میں اگر تضحیک ہے کون کہتا تھا بھرے بازار میں میلہ لگا خواہشوں کے پیڑ سے گرتے ہوئے پتے نہ چن زندگی کے صحن میں امید کا پودا لگا تیرے اندر کی خزاں مایوس کر دے گی تجھے کھڑکیوں میں پھول رکھ دیوار پر سبزہ لگا وقت ہر دکھ کا مسیحا ہو نہیں سکتا نویدؔ زخم اپنے دل پہ مت احساس کا گہرا لگا
doston ke hu-ba-hu paikar kaa andaaza lagaa
زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے نہ جانے کون سا منظر کدھر نکل جائے اب آفتاب سوا نیزے پر اترنا ہے گرفت شب سے ذرا یہ سحر نکل جائے ثمر گرا کے بھی آندھی کی خو نہیں بدلی یہی نہیں کہ جڑوں سے شجر نکل جائے اب اتنی زور سے ہر گھر پہ دستکیں دینا اگر جواب نہ آئے تو در نکل جائے میں چل پڑا ہوں تو منزل بھی اب ملے گی نویدؔ یہ راستہ مجھے لے کر جدھر نکل جائے
zamin madaar se apne agar nikal jaae
یہ زمیں ہم کو ملی بہتے ہوئے پانی کے ساتھ اک سمندر پار کرنا ہے اسی کشتی کے ساتھ عمر یونہی تو نہیں کٹتی بگولوں کی طرح خاک اڑنے کے لیے مجبور ہے آندھی کے ساتھ جانے کس امید پر ہوں آبیاری میں مگن ایک پتہ بھی نہیں سوکھی ہوئی ٹہنی کے ساتھ میں ابھی تک رزق چننے میں یہاں مصروف ہوں لوٹ جاتے ہیں پرندے شام کی سرخی کے ساتھ پھینک دے باہر کی جانب اپنے اندر کی گھٹن اپنی آنکھوں کو لگا دے گھر کی ہر کھڑکی کے ساتھ جان جا سکتی ہے خوشبو کے تعاقب میں نویدؔ سانپ بھی ہوتا ہے اکثر رات کی رانی کے ساتھ
ye zamin ham ko mili bahte hue paani ke saath
رات بھر کوئی نہ دروازہ کھلا دستکیں دیتی رہی پاگل ہوا وقت بھی پہچان سے منکر رہا دھند میں لپٹا رہا یہ آئنا کوئی بھی خواہش نہ پوری ہو سکی راستے میں لٹ گیا یہ قافلا وہ پرندہ ہوں جسے ہوتے ہی شام بھول جائے اپنے گھر کا راستا ہم سفر سب اجنبی ہوتے گئے جیسے جیسے راستہ کٹتا گیا ہم کنارے آ لگے تھک کر نویدؔ اور دریا عمر بھر چلتا رہا
raat bhar koi na darvaaza khulaa
اگرچہ پار کاغذ کی کبھی کشتی نہیں جاتی مگر اپنی یہ مجبوری کہ خوش فہمی نہیں جاتی خدا جانے گریباں کس کے ہیں اور ہاتھ کس کے ہیں اندھیرے میں کسی کی شکل پہچانی نہیں جاتی مری خواہش ہے دنیا کو بھی اپنے ساتھ لے آؤں بلندی کی طرف لیکن کبھی پستی نہیں جاتی خیالوں میں ہمیشہ اس غزل کو گنگناتا ہوں کہ جو کاغذ کے چہرے پر کبھی لکھی نہیں جاتی وہی رستے وہی رونق وہی ہیں عام سے چہرے نویدؔ آنکھوں کی لیکن پھر بھی حیرانی نہیں جاتی
agarche paar kaaghaz ki kabhi kashti nahin jaati





