"kursi hai tumhara ye janaza to nahin hai kuchh kar nahin sakte to utar kyon nahin jaate"

Irtiza Nishat
Irtiza Nishat
Irtiza Nishat
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"qayamat ki dhamki 'azabon ka Dar abhi tak khuda se hua kuchh nahin"
qayaamat ki dhamki 'azaabon kaa Dar
abhi tak khudaa se huaa kuchh nahin
kursi hai tumhaaraa ye janaaza to nahin hai
kuchh kar nahin sakte to utar kyon nahin jaate
Ghazalغزل
ghar se daftar aur phir daftar se ghar karti hui
گھر سے دفتر اور پھر دفتر سے گھر کرتی ہوئی چل رہی ہے ریل پٹری پر سفر کرتی ہوئی یہ جو میرے آسماں پر چھائی کالی رات ہے یہ مجھے لگتی نہیں ہرگز سحر کرتی ہوئی ہر قدم پر میں لرزتا کانپتا دم توڑتا عمر سارے کام بے خوف و خطر کرتی ہوئی جی رہا ہوں بے خبر بے ہوش گرد و پیش سے جس طرح اک بھیڑ ریوڑ میں سفر کرتی ہوئی شاعری ہے ٹوٹے شیشے کالے کاغذ کا ادب بے حسی کی سوچ قصہ مختصر کرتی ہوئی تیز بارش میں امنڈتے بادلوں کی گھن گرج وادیوں میں تیرتی جھیلوں کو تر کرتی ہوئی میرے آگے کیوں کسی کا جل نہیں سکتا چراغ کیوں ہوا چلتی نہیں مجھ پر اثر کرتی ہوئی زندگی پیری فقیری شاعری صورت گری زندگی اک ویشیا بھی رات بھر کرتی ہوئی میں کہاں پاتا سراغ عیش و آسائش نشاطؔ میرے آگے میری بستی تھی بسر کرتی ہوئی
na raas aai agar hangaama-aaraai to kyaa hogaa
نہ راس آئی اگر ہنگامہ آرائی تو کیا ہوگا کسی کی ہو گئی میری یہ تنہائی تو کیا ہوگا میں اس کی سرکشی کو دیکھتا ہوں اور کڑھتا ہوں چٹانوں سے اگر یہ موج ٹکرائی تو کیا ہوگا مرے بارے میں یہ احساس تم کو ہو چکا ہوگا اگر اس شخص کو زنجیر پہنائی تو کیا ہوگا یہاں میں اجنبی ہوں اور سب ذی حیثیت انساں مدد کی پیشکش بالفرض ٹھکرائی تو کیا ہوگا مرے لہجے میں گھبراہٹ کا عنصر ڈھونڈنے والو اسی میں کھو گئی ساری توانائی تو کیا ہوگا ملو گے تم تو بھرائے ہوئے لہجے میں پوچھوں گا مکمل ہو چکے گی میری رسوائی تو کیا ہوگا مثالیں دو مگر نا قابل تردید ہوں ایسی علامت استعارے کے نہ کام آئی تو کیا ہوگا نشاطؔے یہ محبت اور نفرت کھیل ہیں دونوں بنے اک دوسرے کے ہم تماشائی تو کیا ہوگا
afsurda bahut hai dil-e-naakaam bahut hai
افسردہ بہت ہے دل ناکام بہت ہے کٹ جائے اگر خیر سے یہ شام بہت ہے درد دل بیتاب کا سوچو نہ مداوا یارو مجھے اس درد میں آرام بہت ہے ہم راہ مرے تجھ کو کسی نے نہیں دیکھا کہنے کو ترے ساتھ مرا نام بہت ہے سوچا ہوا پورا کبھی ہونے نہیں دیتا یہ وقت جو اس کام میں بدنام بہت ہے کچھ کرنے کی زحمت نہ کریں آپ گوارا ڈھانے کو ستم گردش ایام بہت ہے ہر شخص کو حق ہے کہ ہر اک شے کو وہ جانے کیا چیز بہت خاص ہے کیا عام بہت ہے معنی نہیں بن پڑتے کبھی شور و شغف کے دلدل کی طرح دل میں تو کہرام بہت ہے صحرا میں خبردار ابھی قیس نہ بننا اے اہل جنوں جذب دروں خام بہت ہے سنتے ہیں وہی اصل میں شاعر ہے نشاطؔے مشہور بہت ہے کہیں گمنام بہت ہے
tumhaare murgh-zaar par mire mazaar par kabhi
تمہارے مرغزار پر مرے مزار پر کبھی کبھی نہ حرف آ سکا بھری بہار پر کبھی دہائی تم کو اک وسیع اور گہری جھیل کی چلے بھی آؤ آنسوؤں کی رود بار پر کبھی کہاں سے کیجئے بھلا شروع اپنی ذات کو کہ پھر کہیں نہ رک سکے یہ اختصار پر کبھی جو ہو سکے تو ایک پل ذرا عقب نما میں دیکھ کہ ایسی آنکھ تھی کسی کی تیری کار پر کبھی بتائے دے رہا ہوں میں ابھی سے ایک بات کو کیا ہے غور آپ نے خدا کی مار پر کبھی نہ صرف میرا قتل ہی کیا مجھے مٹا دیا کہ میری نسل میں کوئی چڑھے نہ دار پر کبھی ہمارا کیا ہے حوصلہ بھی ہار دیں تو کیا عجب کہ بس چلا نہ جبر پر نہ اختیار پر کبھی جوے میں جیت ہار کے سوا تو کچھ نہیں نشاطؔ اسی میں جیت ہے تری کہ سوچ ہار پر کبھی
baazaar mein bhi garmi-e-baazaar kyon nahin
بازار میں بھی گرمئ بازار کیوں نہیں دیکھیں گے لوگ آج کا اخبار کیوں نہیں کہتے تھے آپ ایک ہی جیسے ہیں آپ ہم میں قید ہوں تو آپ گرفتار کیوں نہیں پروا نہ کی اصول پرستی کے سامنے وہ یار کیوں نہیں ہے میں عیار کیوں نہیں نرگس کے پھول میرے جنازے پہ ڈال کے کہتے ہو کیوں پسند کا اظہار کیوں نہیں قدموں سے اب تو سمت کا احساس بھی گیا رکتی نہیں ہے وقت کی رفتار کیوں نہیں حالات کو مزید بگاڑا تو فائدہ کیا کر رہے ہیں آپ خبردار کیوں نہیں اک دوسرے کے خون کے پیاسے تو ہیں نشاطؔ کوئی کسی کا مونس و غم خوار کیوں نہیں
raah mein meri agar aae to mar jaaeinge aap
راہ میں میری اگر آئے تو مر جائیں گے آپ کیا مجھے یوں ہی نظر انداز کر جائیں گے آپ ایک پل آسودگی کا ایک لمحہ عشق کا مجھ سے ہم آغوش ہوتے ہی نکھر جائیں گے آپ سطح پر مجھ کو چھلکنے کی نہ دعوت دیجئے ایک قطرہ بھی اگر ٹپکا تو بھر جائیں گے آپ اک ادا معصومیت اور ایک تہمت معصیت کب تلک بچتے رہیں گے ہم کدھر جائیں گے آپ بدشگونی کی علامت پیش خیمہ موت کا دیکھیے ہم جان دے دیں گے اگر جائیں گے آپ قبر جیسی نا پسندیدہ جگہ بھی ارتضٰیؔ دل کبھی ہرگز نہ چاہے گا مگر جائیں گے آپ





