palkon pe gham-e-hijr ke sab diip jalaae
nindon ke shabistaan mein bhaari miri aankhein

Isma Hadia
Isma Hadia
Isma Hadia
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
میرے تو روز و شب سے خسارہ نہیں گیا شاید کہ تم کو دل سے پکارا نہیں گیا بے ربط ہو گئی ہے ترے بعد اس طرح پھر زندگی کو ہم سے گزارا نہیں گیا محفوظ میری آنکھیں میں رخصت کا وقت ہے ان دونوں کھڑکیوں سے نظارہ نہیں گیا چہرے پہ ہے عیاں وہی تحریر دل شکست مجھ سے تو اور روپ بھی دھارا نہیں گیا کشتی وفا کی ڈوبی تو بحر یقین میں موجیں گئی ہیں ساتھ کنارہ نہیں گیا ٹوٹا فلک سے جو بھی زمیں زاد بن گیا واپس پلٹ کے پھر وہ ستارہ نہیں گیا اے ہادیہؔ سنوار دی دنیا کی رہ گزار لیکن نصیب اپنا سنوارا نہیں گیا
mere to roz-o-shab se khasaara nahin gayaa
خواب زخموں کی طرح میر کی غزلوں جیسا مجھ کو اک شخص ملا ہے مری سوچوں جیسا جس کی باتوں میں ہو عنبر کی عرق افشانی جس کا انداز ہمیشہ ہو گلابوں جیسا یوں لگا جیسے اسے جانتی ہوں صدیوں سے میں نے اک شخص کو پایا مرے خوابوں جیسا بات کرتا تھا مگر بات بدل جاتا تھا اس کا لہجہ تھا کئی الجھے سوالوں جیسا صبح کی کرنوں کے جیسی ہے محبت اس کی اس کا انداز محبت ہے اجالوں جیسا جانے والے کو خبر کیا کہ بچھڑ کر اس سے لمحہ صدیوں میں گزرتا ہے عذابوں جیسا زندگی اپنی جو کہتا تھا ہمیشہ مجھ کو اب مرا ذکر وہ کرتا ہے حوالوں جیسا
khvaab zakhmon ki tarah miir ki ghazlon jaisaa
کچھ اور لگ رہی ہے یہ تمہیں خطوں کی بات اگرچہ جھوٹ نہیں تھی محبتوں کی بات محبتوں میں ضرورت کے رنگ شامل تھے کھلا یہ راز کہ ہے ساری حوصلوں کی بات نہ جانے کون سا احساس اس کو بھایا ہے ہجوم شہر میں لایا ہے بیکسوں کی بات مہک رہے ہیں در و بام تیری خوشبو سے کہ اشک آنکھوں میں ہیں اور راحتوں کی بات مجھے بتائے گئے سارے چاہتوں کے الم جلا جلا کے سنائیں گے راستوں کی بات مرے خیال میں پنہاں کسی کی سوچیں ہیں کھلا یہ راز کہ ہے ساری آئنوں کی بات یہ دل عجیب مسافر ڈٹا ہوا ہے ابھی تھکے تھکے سے قدم اور منزلوں کی بات
kuchh aur lag rahi hai ye tumhein khaton ki baat
کمال رکھتے ہیں اپنی وہی جوانی میں لگا کے آگ جو بیٹھے ہوئے ہیں پانی میں گئے دنوں کے دکھائی دئے سبھی منظر رفاقتوں سے جڑی ہر کسی نشانی میں تمام خواب مری زندگی کے بہہ نکلے تری جدائی میں اشکوں کی اس روانی میں جسے بھی دیکھیے رنج و الم میں ڈوبا ہے عجیب درد ہے ہر شخص کی کہانی میں اکیلی میں ہی نہیں ہوں وفا کے زنداں میں بہت سے اور ہیں اس قید رائیگانی میں مجھے تو دشت تمنا کی دھوپ کام آئی اے ہادیہؔ مری مٹی کی سائبانی میں
kamaal rakhte hain apni vahi javaani mein
میں تجھ سے اپنی رفاقتوں کا حساب لکھوں تو آنکھوں آنکھوں حسین رنگوں کے خواب لکھوں بچھڑ کے تجھ سے تجھی کو سوچوں تجھی کو چاہوں کہ نام تیرے ہی اپنے دل کی کتاب لکھوں نہ کچھ سمجھ میں جو آئے دل کی تو رو پڑوں میں کہ ہجر میں یہ گزرتے لمحے عذاب لکھوں یہ میری خانہ خرابیوں پہ سوال اٹھے چلے بھی آؤ کہ دہر کو میں جواب لکھوں حیات اپنی تو خشک پتی سے خشک تر ہے کبھی تو یوں ہوگا زندگی کامیاب لکھوں اداس چہرے پہ یوں چمکتی ہوں میری آنکھیں کبھی تبسم کے نام رنگ گلاب لکھوں
main tujh se apni rafaaqaton kaa hisaab likkhun
کسی بچپن میں بنائی ہوئی کشتی جیسا ساتھ تیرا تھا مگر دھوپ کی نرمی جیسا میں مسافر تھی کہ منزل ہی نہیں تھی جس کی تو مرے ساتھ کسی ریل کی پٹری جیسا پھول شاخوں پہ کوئی کھل ہی نہیں پایا تھا موسم وصل کسی ہجر کی سختی جیسا سختیاں بولتی رہتی تھیں ترے لہجے میں اور مرا دل یہ کسی کانچ کی چوڑی جیسا ہم ترے وعدے کی زنجیر لیے بیٹھے رہے جاگتی آنکھ میں اک خواب تھا لوری جیسا درد ان آنکھوں سے دریا کی طرح نکلا ہے ہادیہؔ ہم تو سمجھتے تھے سرابی جیسا
kisi bachpan mein banaai hui kashti jaisaa





