SHAWORDS
Jafar Shirazi

Jafar Shirazi

Jafar Shirazi

Jafar Shirazi

poet
1Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتا راز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتا خوف رسوائی سے کر دیتا ہے حیراں ایسا میری آنکھوں کو سمندر نہیں ہونے دیتا موم کر دیتا ہے جب لوٹ کے آ جاتا ہے مجھ کو فرقت میں وہ پتھر نہیں ہونے دیتا دیکھتا ہوں تو کبھی چاند کبھی پھول ہے وہ اپنی صورت مجھے ازبر نہیں ہونے دیتا جی میں ہے اڑ کے چلا جاؤں جہاں رہتا ہے وہ مرا گھر بھی مرا گھر نہیں ہونے دیتا جب بھی ملتا ہے تو بس ٹوٹ کے ملتا ہے مجھے اپنے غم کا مجھے خوگر نہیں ہونے دیتا روٹھ بھی جاتے ہیں جعفرؔ تو منا لینے میں مجھ کو اپنے سے وہ بہتر نہیں ہونے دیتا

apne ehsaas se baahar nahin hone detaa

غزل · Ghazal

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں شہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میں پائمال سبزے پر دیکھ کر گرے پتے اب زمین سے خود کو کس طرح اٹھاؤں میں ان اکیلی راتوں میں ان اکیلے رستوں پر کس کے ساتھ آؤں میں کس کے ساتھ جاؤں میں ایک ہی سی تنہائی ایک ہی سا سناٹا دشت کیا ہے دل کیا ہے کیا تجھے بتاؤں میں دیکھ کیسے دن آئے دیکھ میں نہ کہتا تھا تو قریب بھی آئے اور تجھے بلاؤں میں آج سب میں گھل مل جاؤں مجھ کو کیا خبر کل تک کس کو یاد آؤں میں کس کو بھول جاؤں میں کتنے کام دنیا نے دے دیئے مجھے جعفرؔ اشک غم گراؤں میں بار غم اٹھاؤں میں

jaan aise khvaabon se kis tarah chhuDaaun main

غزل · Ghazal

ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیا آندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیا طوفاں کی زد نہ شور تلاطم مجھے بتاؤ میں موج میں نہیں ہوں کہ دریا اتر گیا کیا کیا رہی کنار محبت کی دھن مجھے جن پانیوں میں اس نے اتارا اتر گیا اک کشمکش میں اب ہیں سمندر پڑے ہوئے صحرا کی تہہ میں پھر کوئی پیاسا اتر گیا بکھرا پڑا ہے خاک پہ یوں چاندنی کا جسم جیسے مری ہی روح میں تیشہ اتر گیا جعفرؔ کبھی نہ یہ میرے وہم و گماں میں تھا میں اور اس کے دھیان سے ایسا اتر گیا

arz-o-samaa pe rang thaa kaisaa utar gayaa

غزل · Ghazal

عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہے کون آسمانوں سے آئنے گراتا ہے میں نے روپ دھارا ہے اس کی روح کا اور وہ میرے نقش ہی میرے سامنے گراتا ہے عمر بھر اٹھائے گا دکھ مرے بکھرنے کا آنکھ کی بلندی سے کیوں مجھے گراتا ہے شعلۂ محبت اور آب اشک اے ناداں روشنی کو دریا میں کس لئے گراتا ہے وہ ہوا کا جھونکا بھی میرا سخت دشمن ہے شاخ سے جو پتے کو زور سے گراتا ہے جذب کر نہ لے جعفرؔ سوچ لہر کی تجھ کو تو کہاں سمندر میں کنکریں گراتا ہے

aks jaa-ba-jaa apni zaat ke giraataa hai

غزل · Ghazal

ہوا کا شور صدائے سحاب میرے لئے جہان جبر کا ہر اضطراب میرے لیے سلگتا جاتا ہوں میں اور پڑھتا جاتا ہوں کھلا پڑا ہے زمانے کا باب میرے لیے میں منتظر تھا جہاں پر گلاب کھلنے کا وہیں پریشاں تھی بوئے گلاب میرے لیے یہ میری عمر کی شب یہ اڑی ہوئی نیندیں نہ کوئی خواب نہ افسون خواب میرے لیے تباہ کر دیا عہد جواں کی باتوں نے شباب اس کے لئے تھا شراب میرے لیے جہاں ہے نشۂ خواب سحر میں کھویا ہوا ہے سر پہ آیا ہوا آفتاب میرے لئے رہا ہے دھیان میں اک جسم چاند سا جعفرؔ ہوئی وہاں ہے شب ماہتاب میرے لئے

havaa kaa shor sadaa-e-sahaab mere liye

غزل · Ghazal

بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑا ہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑا بڑے سکون سے دیکھا ہے جلتے لمحوں کو ہماری آنکھ میں ورنہ دھواں کہاں نہ پڑا کٹھن بھی ایسا نہ تھا میری تیری صلح کا کام کوئی بھی شخص مرے تیرے درمیاں نہ پڑا ہوئے ہیں خاک خموشی کے دشت میں کھو کر ہمارے کان میں ہی شور کارواں نہ پڑا بلا کی دھوپ ہے جعفرؔ کسی کو ہوش نہیں پڑا ہے ابر کا سایا کہاں کہاں نہ پڑا

ba-sath-e-aab koi aks-e-naa-tavaan na paDaa

Similar Poets