"kar ke khud apne saare subuton ko mustarad ungli uTha raha huun main apne vajud par"

Jahangeer Nayab
Jahangeer Nayab
Jahangeer Nayab
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalkar ke khud apne saare subuton ko mustarad
ungli uThaa rahaa huun main apne vajud par
Ghazalغزل
ik justuju sadaa hi se zehn-e-bashar mein hai
اک جستجو سدا ہی سے ذہن بشر میں ہے جب سے ملی زمین مسلسل سفر میں ہے ہر چند میرے ساتھ اداسی سفر میں ہے روشن چراغ شوق مگر چشم تر میں ہے ملاح کہہ رہا ہے کہ ساحل ہے بس قریب لیکن مجھے پتہ ہے کہ کشتی بھنور میں ہے تم سے کبھی جو بول نہ پایا میں ایک بات بن کر خلش وہ آج بھی میرے جگر میں ہے بربادیوں کی زد پہ فقط شاخ گل نہیں گلشن تمام نرغۂ برق و شرر میں ہے جب سے میں ان کے حلقۂ بیعت میں آ گیا نایابؔ ایک روشنی فکر و نظر میں ہے
main jab bhi koi manzar dekhtaa huun
میں جب بھی کوئی منظر دیکھتا ہوں ذرا اوروں سے ہٹ کر دیکھتا ہوں کبھی میں دیکھتا ہوں اس کی رحمت کبھی میں اپنی چادر دیکھتا ہوں نظر کا زاویہ بدلا ہے جب سے میں کوزے میں سمندر دیکھتا ہوں کبھی میرے لیے تھے پھول جن میں اب ان ہاتھوں میں پتھر دیکھتا ہوں سبھی ہیں مبتلائے خود فریبی عجب دنیا کا منظر دیکھتا ہوں نہیں بدلاؤ کے آثار کچھ بھی ابھی حالات ابتر دیکھتا ہوں مقدر میں لکھی ویرانیوں میں ذرا سا رنگ بھر کر دیکھتا ہوں نظر آتا ہے مدفن خواہشوں کا کبھی جب اپنے اندر دیکھتا ہوں سنا ہے آگ ہے اس کا سراپا چلو باہوں میں بھر کر دیکھتا ہوں بصیرت مجھ میں ہے نایابؔ ایسی میں ہر قطرے میں گوہر دیکھتا ہوں
harf se taasir lafzon se maani le gayaa
حرف سے تاثیر لفظوں سے معنی لے گیا جاتے جاتے وہ مری جادو بیانی لے گیا اس سے تھیں منسوب جو یادیں سہانی لے گیا چھین کر مجھ سے سبھی اپنی نشانی لے گیا شاہراہ زیست پر مجھ کو اکیلا چھوڑ کر جانے والا مجھ سے لطف زندگانی لے گیا میز پر ننھا سا اک کاغذ کا ٹکڑا چھوڑ کر زندگی کی ہر خوشی وہ ناگہانی لے گیا ہم ادھر مصروف تھے اور وقت کا سیل رواں کیا پتا کب چھین کر ہم سے جوانی لے گیا مدتوں سے ساکت و جامد ہے یہ نایاب دل کون اس دریا کی موجوں کی روانی لے گیا
main ne koshish ki bahut lekin kahaan yakjaa huaa
میں نے کوشش کی بہت لیکن کہاں یکجا ہوا صفحۂ ہستی کا شیرازہ رہا بکھرا ہوا ذہن کی کھڑکی کھلی دل کا دریچہ وا ہوا تب جہاں کے درد سے رشتہ مرا گہرا ہوا کیا پتہ کب کون اس کی زد پہ آ جائے کہاں وقت کی رفتار سے ہر شخص ہے سہما ہوا کس کی یاد آئی معطر ہو رہے ہیں ذہن و دل کس کی خوشبو سے ہے سارا پیرہن مہکا ہوا پیڑ کے نیچے شکاری جال پھیلائے ہوئے اور پرندہ شاخ پر بیٹھا ڈرا سہما ہوا دو قدم بھی اب تمہارے ساتھ چلنا تھا محال راہ تم نے خود الگ کر لی چلو اچھا ہوا زندگی ہر زاویے سے دیکھتا ہوں میں تجھے ہے مری فکر و نظر کا دائرہ پھیلا ہوا چھپ گئی پانی میں اپنی چھب دکھا کر جل پری آج پھر نایابؔ میرے ساتھ اک دھوکہ ہوا
khud apne aap se ruThaa huaa huun
خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا ہوں سمجھتے ہیں وہ میں ان سے خفا ہوں حقائق سے چرا کر آنکھ اپنی میں کن سایوں کے پیچھے بھاگتا ہوں کوئی تو راستہ ہوگا بتانا ترے دل تک پہنچنا چاہتا ہوں بظاہر ہے ہنسی ہونٹوں پہ میرے مگر اندر سے میں ٹوٹا ہوا ہوں جہاں خود کو مقفل کر رکھا تھا میں اس کمرے کی چابی کھو چکا ہوں یہ کس نے مجھ کو بس میں کر لیا ہے اشاروں پر میں کس کے چل رہا ہوں اگرچہ حال ہے تاریک میرا ستارہ آنے والے وقت کا ہوں تپا ہوں آتش دوراں میں نایابؔ تو اب جا کر کہیں کندن بنا ہوں
junun shauq yaqin zaabte se aai hai
جنون شوق یقیں ضابطے سے آئی ہے اڑان مجھ میں مرے حوصلے سے آئی ہے مجھے بھی تو کبھی بین السطور میں رکھتا پھر آج ایک صدا حاشیے سے آئی ہے بھلانا جب کبھی چاہا ہے میں نے ماضی کو نکل کے یاد تری حافظے سے آئی ہے جسے خیال کا مرکز کبھی بنایا تھا سنہری دھوپ اسی دائرے سے آئی ہے یقین کر لو تو آئیں گے سب نظر اپنے تمہارے دل میں کجی واہمے سے آئی ہے کیا ہے میں نے خود اپنا محاسبہ اکثر تمیز مجھ میں اسی تجربے سے آئی ہے جو میں نے سوچ کا بدلا ہے زاویہ نایابؔ ہر ایک چیز نظر قاعدے سے آئی ہے





