"jangal jangal aag lagi hai dariya dariya paani hai nagri nagri thaah nahin hai log bahut ghabra.e hain"

Jameel Azimabadi
Jameel Azimabadi
Jameel Azimabadi
Sherشعر
jangal jangal aag lagi hai dariya dariya paani hai
جنگل جنگل آگ لگی ہے دریا دریا پانی ہے نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں
kunj-e-qafas hi jis ka muqaddar hua 'jamil'
کنج قفس ہی جس کا مقدر ہوا جمیلؔ اس کی نظر میں دور خزاں کیا بہار کیا
sabr ki aanch se patthar bhi pighal jaata hai
صبر کی آنچ سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے بت بنے آج وہ بیٹھے ہیں سرہانے میرے
miri taqdir men shayad koi ta.abir nahin
مری تقدیر میں شاید کوئی تعبیر نہیں رہ گئے یوں ہی دھرے خواب سہانے میرے
jhuuT ka Danka bajta tha jis vaqt 'jamil' is nagri men
جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں
Popular Sher & Shayari
7 total"kunj-e-qafas hi jis ka muqaddar hua 'jamil' us ki nazar men daur-e-khizan kya bahar kya"
"sabr ki aanch se patthar bhi pighal jaata hai but bane aaj vo baiThe hain sirhane mere"
"miri taqdir men shayad koi ta.abir nahin rah ga.e yuun hi dhare khvab suhane mere"
"jhuuT ka Danka bajta tha jis vaqt 'jamil' is nagri men har raste har moD pe ham ne sach ke alam lahra.e hain"
jangal jangal aag lagi hai dariyaa dariyaa paani hai
nagri nagri thaah nahin hai log bahut ghabraae hain
kunj-e-qafas hi jis kaa muqaddar huaa 'jamil'
us ki nazar mein daur-e-khizaan kyaa bahaar kyaa
Ghazalغزل
khet shaadaab hain gulshan mein bhi raanaai hai
کھیت شاداب ہیں گلشن میں بھی رعنائی ہے ایک مدت پہ دعاؤں کی پذیرائی ہے نکہت و رنگ کا پیغام صبا لائی ہے باوفا کتنی میرے دیش کی پروائی ہے چاندنی بحر تخیل میں اتر آئی ہے حجلۂ نور میری یاد کی گہرائی ہے لالہ و گل کی قسم عظمت صحرا کی قسم ابر رحمت کا ہر اک شخص تمنائی ہے شکر ہے جذبۂ الفت کے تھپیڑے کھا کر کشتئ عزم اب طوفاں سے نکل آئی ہے کٹ گئی رات مری سعیٔ مسلسل کے طفیل روشنی صبح درخشاں کی خبر لائی ہے دشمن جاں بھی تری بات کے قاتل ہیں جمیلؔ تیرے ہر شعر میں اخلاق ہے سچائی ہے
yaad aate hain jab ahbaab puraane mere
یاد آتے ہیں جب احباب پرانے میرے کرب احساس سے جھک جاتے ہیں شانے میرے مری تقدیر میں شاید کوئی تعبیر نہیں رہ گئے یوں ہی دھرے خواب سہانے میرے ورد کرتا رہا میں حرف صداقت جن پر معتبر ہیں وہی تسبیح کے دانے میرے مری شہرت تو ہے احباب کی ممنون کرم خوب بڑھ بڑھ کے سناتے ہیں فسانے میرے بزم اغیار کا ماحول بھی مانوس لگا ہر نظر لوگ ملے جانے بیگانے میرے صبر کی آنچ سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے بت بنے آج وہ بیٹھے ہیں سرہانے میرے مطمئن ہوں میں جمیلؔ اپنی شکیبائی پر اس زمانے میں بھی ہیں ہوش ٹھکانے میرے
bojh hasti kaa utar jaaegaa aakhir ik din
بوجھ ہستی کا اتر جائے گا آخر اک دن وقت چپکے سے گزر جائے گا آخر اک دن شاخ گل پر یہ گل تر کی حفاظت کب تک ایک جھونکے سے بکھر جائے گا آخر اک دن میرے نالے کو نہ یوں تم نظر انداز کرو عرش تک اس کا اثر جائے گا آخر اک دن حوصلہ ہے تو پھر اندیشۂ فردا کیسا کام بگڑا بھی سنور جائے گا آخر اک دن چند پھولوں کے تبسم پہ قناعت کیسی باغ ہی سارا نکھر جائے گا آخر اک دن
likhnaa hai sar-guzasht qalam naaz se uThaa
لکھنا ہے سر گذشت قلم ناز سے اٹھا ہر نقطۂ حیات کو آغاز سے اٹھا ہر ماسوا کے خوف کو جس نے مٹا دیا نعرہ وہ لا تذر کا میرے ساز سے اٹھا جو بھی بھرم تھا چاند ستاروں کا کھل گیا پردہ کچھ ایسا جرأت پرواز سے اٹھا وہ شور جس سے عظمت شاہی لرز گئی تبریز و قم سے مشہد و شیراز سے اٹھا افسردہ انجمن ہے فسردہ ہیں اہل دل یہ کون آج جلوہ گہہ ناز سے اٹھا یہ نونہال باغ تمنا کے پھول ہیں آغوش دل میں ان کو ذرا ناز سے اٹھا مر جاؤں گا تو لوگ کہیں گے یہی جمیلؔ اک مرد حق کی لاش ہے اعزاز سے اٹھا
toD ke naataa ham-sajnon se pag pag vo pachtaae hain
توڑ کے ناتا ہم سجنوں سے پگ پگ وہ پچتائے ہیں جب جب ان سے آنکھ ملی ہے تب تب وہ شرمائے ہیں روپ نگر کو چھوڑ کے جب سے آس نگر کو آئے ہیں صحرا صحرا دھوپ کڑی ہے پیڑ نہ کوئی سائے ہیں جنگل جنگل آگ لگی ہے دریا دریا پانی ہے نگری نگری تھاہ نہیں ہے لوگ بہت گھبرائے ہیں سچائی ہے امرت دھارا سچائی انمول سہارا سچ کے رستے چل کے سب نے ٹھور ٹھکانے پائے ہیں دولت تو ہے آنی جانی روپ نگر کی رام کہانی دھن کے لوگ بھی دھرتی پر کب سکھ سے رہنے پائے ہیں شیشہ جب بھی ٹوٹے گا جھنکار فضا میں گونجے گی جب ہی کومل دیش دلارے پتھر سے ٹکرائے ہیں جھوٹ کا ڈنکا بجتا تھا جس وقت جمیلؔ اس نگری میں ہر رستے ہر موڑ پہ ہم نے سچ کے علم لہرائے ہیں
ik murgh-e-chaman vaqt-e-sahar bol rahaa hai
اک مرغ چمن وقت سحر بول رہا ہے صیاد کا ہر راز نہاں کھول رہا ہے جذبات کی لہروں پہ ترنم کے یہ نغمے یہ کون ہے کانوں میں جو رس گھول رہا ہے حق بات کی عظمت کا تو قائل ہے زمانہ سچائی کا موتی بہت انمول رہا ہے کیوں راز ترے دل کا ہوا جاتا ہے افشا جادو ہے جو سر چڑھ کے ترے بول رہا ہے ہر بات کسوٹی پہ جو رکھتا ہے زمانہ ہر حرف تمنا کا تری تول رہا ہے جب سر سے کفن باندھ کے تو گھر سے چلا ہے کیوں عزم ترا وقت سفر ڈول رہا ہے کہتے ہیں جمیلؔ آپ کو بیگانۂ ہستی یہ راز سر بزم کوئی کھول رہا ہے





