aa bhi jaae havaa kaa jhonkaa gar
sab diye to bujhaa nahin jaataa

Javed Mehdi
Javed Mehdi
Javed Mehdi
Popular Shayari
2 totalmasala ye hai us ke gaanv ko
dusraa raasta nahin jaataa
Ghazalغزل
الجھتے رہتے ہیں جانے کیوں بار بار مجھ سے یہاں پہ کچھ لوگ ہیں جو جلتے ہیں یار مجھ سے میں ایک دن کھل کے بول بیٹھا تھا آخرت پر بگڑ گئے اس کے بعد سب دنیا دار مجھ سے عجیب دکھ ہے میں آج اس میں کھٹک رہا ہوں جو آنکھ دیکھی نہیں گئی اشک بار مجھ سے پلٹ کے آ جا کہ بات بس میں نہیں رہی اب سنبھل نہیں پا رہا دل بے قرار مجھ سے یہ سب طفیل غم شب ہجر ہے مری جاں جو شعر ہونے لگا ہے اب شاندار مجھ سے ہوا کچھ ایسے کہ میں بڑھاپے کو آن پہنچا پھر اس سے آگے ہوا نہیں انتظار مجھ سے کسی کی باتوں میں آ گیا ہے وہ شخص مہدیؔ وگرنہ چاہت تو تھی اسے بے شمار مجھ سے
ulajhte rahte hain jaane kyon baar-baar mujh se
چراغ کا قد بڑھانے والوں کی خیر یا رب ہوا کو دشمن بنانے والوں کی خیر یا رب مسافروں کو جو دھوپ میں چھاؤں دے رہے ہیں یہ پیڑ پودے لگانے والوں کی خیر یا رب ہم اس سے پہلے تو صرف نفرت کو جانتے تھے ہمیں محبت سکھانے والوں کی خیر یا رب میں ڈر رہا ہوں کہ بھاؤ روٹی کا بڑھ گیا ہے یہ زہر سستا ہے کھانے والوں کی خیر یا رب یہ خود ہی مجھ کو بلندیوں پر بٹھا رہے ہیں کہ مجھ کو نیچا دکھانے والوں کی خیر یا رب میں صدقے جاؤں کہ کتنی شیریں زباں ہے اردو چراغ اردو جلانے والوں کی خیر یا رب ہم ایسے شاعر انہیں کے دم پر اچھل رہے ہیں سخن کی بزمیں سجانے والوں کی خیر یا رب
charaagh kaa qad baDhaane vaalon ki khair yaa rab
کتنا میں اور چل کے دکھاؤں مرے خدا دکھنے لگے ہیں اب مرے پاؤں مرے خدا ہر پل کی دھوپ میرے بدن کو جلا نہ دے لکھ دے مرے نصیب میں چھاؤں مرے خدا پھر کیا مجھے پرندے بنا لیں گے اپنا دوست گھر میں اگر میں پیڑ لگاؤں مرے خدا ہر شخص اپنے آپ میں گم ہو کے رہ گیا ایسے میں اب میں کس کو بلاؤں مرے خدا سوئے نہیں یہ لوگ تو مردہ ہیں سب کے سب ان کو بتا میں کیسے جگاؤں مرے خدا تجھ کو یہ ناگوار گزرنا ہے ورنہ میں شکوہ کروں تماشا لگاؤں مرے خدا کوشش یہی ہے میری جہاں بھی اندھیرا ہو پہلا دیا وہاں میں جلاؤں مرے خدا
kitnaa main aur chal ke dikhaaun mire khudaa
تغیراتی کمال ہونے میں دن لگیں گے ہمیں دوبارہ بحال ہونے میں دن لگیں گے ہم اتنی جلدی کبھی کسی پر کھلے نہیں ہیں تمہیں ہمارا ملال ہونے میں دن لگیں گے ابھی ابھی تو جدا ہوئے ہو ابھی کہاں یہ ہمارے بارے سوال ہونے میں دن لگیں گے ہماری آنکھیں تو رتجگوں نے کرید ڈالیں تمہاری آنکھوں کو لال ہونے میں دن لگیں گے یہ جسم بے حس ہے یار لیکن مرا نہیں ہے سنو ابھی انتقال ہونے میں دن لگیں گے
taghayyuraati kamaal hone mein din lageinge
ایسا بھی کیا ہوا ہے مرے گھر کے سامنے ہر کوئی آ کھڑا ہے مرے گھر کے سامنے یہ کون شخص ہے جو دکھوں سے لدھی ہوئی گاڑی لگا گیا ہے مرے گھر کے سامنے اک تو مجھے بھی پینے پلانے کا شوق ہے اس پر یہ میکدہ ہے مرے گھر کے سامنے کیا سوچ کر میں نکلوں ٹہلنے بہ وقت شام جنگل بہت گھنا ہے مرے گھر کے سامنے میرے نصیب میں ہی نہیں دیکھنا اسے یوں تو وہ رہ رہا ہے مرے گھر کے سامنے فرصت ملے تو ایک ملاقات کیجیے محفوظ اک جگہ ہے مرے گھر کے سامنے خیرات دے تو دی ہے تجھے اے بھکاریو اب کس لیے رکا ہے مرے گھر کے سامنے جاویدؔ چل کے دیکھ کہیں خود تو ہی نہیں یہ جو مرا پڑا ہے مرے گھر کے سامنے
aisaa bhi kyaa huaa hai mire ghar ke saamne
یہ جو غربت کا مارا لگ رہا ہے محبت میں بھی ہارا لگ رہا ہے نہ جانے آسماں پر کیا ہے روشن زمیں سے تو ستارا لگ رہا ہے حقیقت میں ہمارا کچھ نہیں پر ہمیں سب کچھ ہمارا لگ رہا ہے میاں یہ آنکھ طے کرتی ہے ہم کو کوئی کب کتنا پیارا لگ رہا ہے کبھی فرصت میں یاد آئیں گے تم کو ابھی تو دل تمہارا لگ رہا ہے
ye jo ghurbat kaa maaraa lag rahaa hai





