SHAWORDS
K

Kaifi Chirayyakoti

Kaifi Chirayyakoti

Kaifi Chirayyakoti

poet
3Shayari
17Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

سو داغ تمناؤں کے ہم کھائے ہوئے ہیں گل جتنے ہیں اس باغ میں مرجھائے ہوئے ہیں شرمندہ ہوں میں اپنی دعاؤں کے اثر سے وہ آج پریشان ہیں گھبرائے ہوئے ہیں خودداریٔ گیسو کا ہے اس رخ پہ یہ عالم جھکنا جو پڑا ان کو تو بل کھائے ہوئے ہیں اب تم بھی ذرا حسن جہاں سوز کو روکو ہم تو دل بے تاب کو سمجھائے ہوئے ہیں اے دست کرم پھینک دے کونین کو اس میں دامن کو ترے سامنے پھیلائے ہوئے ہیں پھوڑیں گے جبیں اب ترے در پر ترے محتاج برباد ہیں تقدیر کے ٹھکرائے ہوئے ہیں آتا ہے بڑھا بحر کرم جوش میں کیفیؔ ہم اپنے گناہوں پہ جو شرمائے ہوئے ہیں

sau daagh tamannaaon ke ham khaae hue hain

غزل · Ghazal

کر کے دل نالاں سے مرے ساز کسی نے دی ہے مجھے پردے سے یہ آواز کسی نے اس دل کا ہے جو درد وہی جان ہے دل کی سمجھا نہ کبھی عشق کا یہ راز کسی نے وا باب قفس اور ہوں میں باب قفس پر جیسے کہ اڑا لی پر پرواز کسی نے تقدیر میں جو کچھ مری ہنسنا ہے کہ رونا بخشا وہی دل کو مرے انداز کسی نے ہر اشک کا قطرہ تھا فسانہ مرے دل کا دیکھا نہ مرا دیدۂ غماز کسی نے دی مجھ کو تڑپ وہ بھی بقدر دل بے تاب میں کیا کہ یہ سمجھا نہ ترا راز کسی نے ہر شعر ہے ڈوبا ہوا تاثیر میں کیفیؔ بخشا ہے مجھے خامۂ اعجاز کسی نے

kar ke dil-e-naalaan se mire saaz kisi ne

غزل · Ghazal

بے تاب پاس شمع کے پروانہ آ گیا کیا بات ہے کہ ہوش میں دیوانہ آ گیا ساقی کی بارگاہ میں توبہ ہوئی قبول خود ڈھونڈھتا ہوا مجھے مے خانہ آ گیا سجدوں کا میرے ناز اٹھانے کے واسطے کعبے کے سامنے در جانانہ آ گیا دامن کو میرے دیکھ کے حسرت کے ہاتھ میں یاد ان کو اپنا لطف کریمانہ آ گیا مجھ کو مرے سوال پہ بخشا ہے دو جہاں اب اعتبار طرز فقیرانہ آ گیا تھی شیخ و برہمن کی مے و انگبیں پہ بحث اتنے میں بڑھ کے کیفیؔ دیوانہ آ گیا

be-taab paas shama ke parvaana aa gayaa

غزل · Ghazal

جو کچھ تھا مقدر میں گوارا تو نہیں تھا در پردہ کہیں ان کا اشارا تو نہیں تھا جتنی تھی کھٹک سانس کی کل نغمۂ جاں تھی کیا تم نے مجھے ہنس کے پکارا تو نہیں تھا تا زیست مجھے جان حزیں بخشنے والے اس میں کوئی انداز تمہارا تو نہیں تھا رو رو کے قیامت کا لیا نام کسی نے کوئی تری امید کا مارا تو نہیں تھا ٹوٹے ہوئے کیوں دل کو مرے دیکھ رہے ہو آنسو تھا مری صبح کا تارا تو نہیں تھا مدت سے بڑا نام ہے فردوس کا کیفیؔ گیسو کو کہیں اس نے سنوارا تو نہیں تھا

jo kuchh thaa muqaddar mein gavaaraa to nahin thaa

غزل · Ghazal

اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دن ایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دن رخ پہ ہے سرخیٔ حیا رنگ نگاہ سرمگیں جان بہار بن گئے حسن کی سادگی کے دن زندگی امیدوار ایک ادا عتاب کی آنکھ میں کٹ گئی تھی رات ہائے وہ برہمی کے دن پاؤں بڑھا کے چل دیا اور میں دیکھتا رہا آہ شباب بے خطر ہائے ہنسی خوشی کے دن کیفیؔٔ بے قرار اب دل سے بنے گی کس طرح ہوش کی بات رہ گئی کٹ گئے بے خودی کے دن

uf miri zindagi ki raat uf miri zindagi ke din

غزل · Ghazal

کہو دیر و حرم یا نام اپنا آستاں رکھ دو سر تسلیم خم ہے تم جہاں چاہو وہاں رکھ دو گھٹا کر قید آزادی بڑھا دو غم اسیری کا قفس کو آشیاں میں یا قفس میں آشیاں رکھ دو تسلی دینے والو ہم تہی دستان قسمت ہیں سر دامن جو ممکن ہو تو دل کی دھجیاں رکھ دو ضرورت جان کی دل کو میں بے پروائے ہستی ہوں جہاں دل ہے وہیں اب میری جان ناتواں رکھ دو خدا کہلاؤ یا کچھ اور سب کچھ مجھ کو کہنا ہے ادھر آؤ مرے منہ میں تمہیں اپنی زباں رکھ دو وفا کا راز اس مجمع میں کھولا جا نہیں سکتا سوا محشر کے کوئی اور روز امتحاں رکھ دو محبت اور تسلی اس پہ ہوش زندگی کیفیؔ نہیں اٹھتا اگر کاندھے سے یہ بار گراں رکھ دو

kaho dair-o-haram yaa naam apnaa aastaan rakh do

Similar Poets