tum bhi is shahr mein ban jaaoge patthar jaise
hansne vaalaa yahaan koi hai na rone vaalaa

Kailash Mahir
Kailash Mahir
Kailash Mahir
Popular Shayari
3 totaljaane kyaa soch ke ham tujh se vafaa karte hain
qarz hai pichhle janm kaa so adaa karte hain
rishta-e-dard ki miraas mili hai ham ko
ham tire naam pe jiine ki khataa karte hain
Ghazalغزل
شعلہ ہے پھول پھول چمن تک نہ آئیو شادابیٔ بہار سے دھوکا نہ کھائیو مدت ہوئی وہ کوئے ملامت اجڑ گیا اب کے برس چراغ وفا مت جلائیو دامن سے ہم نے گرد تعلق بھی جھاڑ دی آسودگان ہجر کے اب منہ نہ آئیو ان مسکراہٹوں میں دبی ہے غموں کی آنچ چہرے کے روپ رنگ سے دھوکا نہ کھائیو اتنے برے تو جی کے نہیں زود رنج لوگ آشفتگان شوق پہ تہمت نہ لائیو پتھر نہ ڈال دے کوئی جھولی میں دن ڈھلے ماہرؔ فقیر بن کے صدا مت لگائیو
sho'la hai phul-phul chaman tak na aaiyo
تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہے ہر غم کو چراغ سر دیوار کرے ہے وہ پرسش غم ہو کہ ترا لطف و کرم ہو دیوانہ تو ہر بات سے انکار کرے ہے مدت ہوئی ہم شہر تمنا سے چلے آئے کیوں ہم سے صبا ذکر رخ یار کرے ہے بے ربط سی نظروں میں وہ انداز تعلق ہر مرحلۂ زیست کو دشوار کرے ہے زنجیر نہ پہنی کہ گریباں نہ کیا چاک یوں بھی کوئی رسوا سر بازار کرے ہے
tanhaai jahaan zikr-e-rukh-e-yaar kare hai
در و دیوار سے سایہ بھی نہ ابھرا کوئی اب ترے شہر میں ہوگا بھی نہ ہم سا کوئی ہر دریچے میں کھڑا ہے کوئی گوتم بن کر گھر کی تنہائی کا اب نام نہ لے گا کوئی وہی ٹوٹا ہوا لمحہ تھا مقدر اپنا جیسے جگ بیت گئے خواب نہ دیکھا کوئی ایک دیوار تھی خوشبو کی جو حائل ہی رہی جسم در جسم مرے سامنے آیا کوئی
dar-o-divaar se saaya bhi na ubhraa koi
منہ دیکھے کی باتیں ساری وعدے رنگیں خواب سنہرے دلی جا کر بھول نہ جانا پھول بدن یہ چاند سے چہرے تم کو تو اپنا سمجھا تھا تم سب سے بیگانے ٹھہرے تم نے دل میں جھانکا ہوتا کتنے زخم ہیں کتنے گہرے لاکھ پجاری دیپ جلائیں خوں ٹپکائیں جی سے جائیں بت خانے میں ریت سدا کی سارے صنم ہی گونگے بہرے بیتا ہوا ہر لمحہ مجھ سے اپنی قیمت مانگ رہا ہے کیسی بھیانک تنہائی ہے چاروں طرف ہیں ہنستے چہرے اپنی ہی صورت دیکھ کے ماہرؔ پہروں پہروں روئے بھی ہم کس کو اپنا میت بناتے لوگ تجارت پیشہ ٹھہرے
munh dekhe ki baatein saari vaa'de rangin khvaab sunahre
یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلے پارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلے دیکھیے کون ہے شوریدہ سروں کا ہم گام زلف شب رنگ چلے سایۂ دیوار چلے اپنی آشفتہ سری اب تو متاع جاں ہے نقد دل نقد سکوں تیرے لیے ہار چلے عشق میں اس سے حسیں داد جنوں کیا ماہرؔ زندگی تیری تمنا میں تجھے ہار چلے
ye bhi kyaa kam hai ki is bazm se hushiyaar chale
پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پن مجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پن دل کے رنگ محل میں جیسے برسوں کوئی نہ جھانکا ہو تصویروں کی بے نور آنکھیں شیشہ شیشہ دھندلا پن کتنی بار لہو رویا ہے کتنی بار جلے ہیں چراغ کتنے غموں کی آنچ میں نکھرا درد کا میٹھا میٹھا پن ہم ٹھہرے درویش جنم سے پیار کیا تو آ بیٹھے ہم سے کیا یہ تیکھی نظریں ہم سے کیا بیگانہ پن انجانے لوگوں تک پہنچا ذکر تمہاری چاہت کا گلی گلی مشہور ہوا ہے ماہرؔ کا دیوانہ پن
purab des ki yaadein laayaa phir mausam kaa tikhaa-pan





