SHAWORDS
Kalim Tahiri

Kalim Tahiri

Kalim Tahiri

Kalim Tahiri

poet
1Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

آنکھ سے آنسو ڈھلکے ڈھلکے جیسے ساغر چھلکے چھلکے جھونکے ہوا کے ہلکے ہلکے سپنوں سے آنچل ڈھلکے ڈھلکے ٹیڑھے میڑھے ان رستوں پر چلئے سنبھل کے چلئے سنبھل کے ہم نے تو پہچان لیا ہے وہ آئے ہیں روپ بدل کے ان کی قسمت سارے اجالے اپنا مقدر صرف دھندلکے اتنا کہوں گا آپ کلیمؔ اب خواب نہ دیکھو تاج محل کے

aankh se aansu Dhalke Dhalke

غزل · Ghazal

تیری محفل میں روشنی نہ ہوئی آج بھی دور تیرگی نہ ہوئی زندگی سے تو موت بہتر ہے ایسے جینے میں زندگی نہ ہوئی دوسری داستاں سناتے کیا پہلی روداد ختم ہی نہ ہوئی ایک اور زندگی ہے موت کے بعد یعنی یہ زیست عارضی نہ ہوئی چاہئے دوستی کو رنگ وفا آشنائی ہی دوستی نہ ہوئی ہم تو انسان دوست ہیں ایسے کوئی صورت بھی اجنبی نہ ہوئی ہم نے غم بھر لئے ہیں دامن میں جب میسر کوئی خوشی نہ ہوئی کیا کلیمؔ انتظار صبح حسیں لوگ کہتے ہیں شام ہی نہ ہوئی

teri mahfil mein raushni na hui

غزل · Ghazal

کسی بھی طور گلستاں کا کاروبار چلے چمن پہ آئے پھبن باد نوبہار چلے فضا خموش ہے اور دل بھی ہے اداس اداس خدا کے واسطے ایسے میں ذکر یار چلے ہمارے زخم کے ٹانکے بھی آج کھل جائیں کچھ اس ادا سے ابھی باد نوبہار چلے ہمیں زمانے نے سمجھا ترا ہی دیوانہ تو ہم بھی کر کے گریباں کو تار تار چلے کلیمؔ کو تو تری بزم بھی نہ راس آئی وہ اپنی دھن میں اٹھے اور سوئے دار چلے

kisi bhi taur gulistaan kaa kaarobaar chale

غزل · Ghazal

ہر گام تصور تھا تمہارا مرے آگے منزل کا بہت صاف تھا رستہ مرے آگے اک ہیچ حقیقت ہے یہ دنیا مرے آگے قطرہ یہ رہا صورت دریا مرے آگے کیا چیز ہے دنیا کا بھروسہ مرے آگے جب تیرا سہارا ہے سہارا مرے آگے اندازہ مرے غم کا لگائے گا کوئی کیا ہے میری تمنا کا جنازہ مرے آگے احساس وجود غم دل کو نہ مٹاؤ ہے باعث تسکیں یہ تماشا مرے آگے دل رہ ہی گیا ٹوٹ کے اک ضرب نظر سے کمزور تھا کیسا یہ کھلونا مرے آگے لو ہیبت تاریکیٔ شب توڑ چلی دم آتا ہے نظر دور اجالا مرے آگے اک عمر کے افسانے تمہیں کیسے سناؤں معلوم نہیں وقت ہے کتنا مرے آگے دھڑکن مرے دل کی بڑھی جاتی ہے سراپا پھر عشق کا شاید ہوا سودا مرے آگے ممکن ہی نہیں ہے یہ کلیمؔ ان کو بھلا دوں جب ہے مرے ایماں کا تقاضا مرے آگے

har-gaam tasavvur thaa tumhaaraa mire aage

غزل · Ghazal

اس کی باتوں میں بڑی فکر ہے گہرائی ہے لوگ اسے کہتے ہیں دیوانہ ہے سودائی ہے آج کیا بات ہوئی آج مرے دل کے قریب آپ کے دل کے دھڑکنے کی صدا آئی ہے دیکھنے والا سمجھ جاتا ہے اس کا مفہوم خامشی میں بھی بڑی قوت گویائی ہے آپ کی بات پہ میں آج یقیں کیوں نہ کروں آپ نے میری محبت کی قسم کھائی ہے آپ کو ایک نظر آج ہی دیکھا ہے کلیمؔ ایسا لگتا ہے کہ برسوں کی شناسائی ہے

us ki baaton mein baDi fikr hai gahraai hai

غزل · Ghazal

کوئی بھی بات منانے میں دیر لگتی ہے کسی کو اپنا بنانے میں دیر لگتی ہے ہمیشہ خود کو جتانے میں دیر لگتی ہے کوئی مقام بنانے میں دیر لگتی ہے مکاں کو توڑنا چاہو تو چار دن کافی مگر مکان بنانے میں دیر لگتی ہے اجاڑ دیتے ہیں شہروں کو زلزلے پل میں اور ایک شہر بسانے میں دیر لگتی ہے یہ دیکھنا ہے مری بات ناگوار نہ ہو کوئی بھی بات بتانے میں دیر لگتی ہے کسی کو دوست بنانا کلیمؔ آساں ہے مگر اسی کو نبھانے میں دیر لگتی ہے

koi bhi baat manaane mein der lagti hai

Similar Poets