"hamesha aap ko samjha ki aap apne hain hamesha aap ne samjha ki dusre hain ham"

Kamal Jafari
Kamal Jafari
Kamal Jafari
Sherشعر
hamesha aap ko samjha ki aap apne hain
ہمیشہ آپ کو سمجھا کہ آپ اپنے ہیں ہمیشہ آپ نے سمجھا کہ دوسرے ہیں ہم
bikhra bikhra huun ek muddat se
بکھرا بکھرا ہوں ایک مدت سے رفتہ رفتہ سنور رہا ہوں میں
zalzala nepal men aaya ki hindostan men
زلزلہ نیپال میں آیا کہ ہندوستان میں زلزلہ کے نام سے تھرا اٹھا سارا جہاں
sitam-e-garmi-e-sahra mujhe ma.alum na tha
ستم گرمیٔ صحرا مجھے معلوم نہ تھا خشک ہو جائے گا دریا مجھے معلوم نہ تھا
qarib rah ki bhi tu mujh se duur duur raha
قریب رہ کے بھی تو مجھ سے دور دور رہا یہ اور بات کہ برسوں سے تیرے پاس ہوں میں
Popular Sher & Shayari
10 total"bikhra bikhra huun ek muddat se rafta rafta sanvar raha huun main"
"zalzala nepal men aaya ki hindostan men zalzale ke naam se tharra uTha saara jahan"
"sitam-e-garmi-e-sahra mujhe ma.alum na tha khushk ho ja.ega dariya mujhe ma.alum na tha"
"qarib rah ki bhi tu mujh se duur duur raha ye aur baat ki barson se tere paas huun main"
qarib rah ki bhi tu mujh se duur duur rahaa
ye aur baat ki barson se tere paas huun main
hamesha aap ko samjhaa ki aap apne hain
hamesha aap ne samjhaa ki dusre hain ham
bikhraa bikhraa huun ek muddat se
rafta rafta sanvar rahaa huun main
zalzala nepal mein aayaa ki hindostaan mein
zalzale ke naam se tharraa uThaa saaraa jahaan
sitam-e-garmi-e-sahraa mujhe maalum na thaa
khushk ho jaaegaa dariyaa mujhe maalum na thaa
Ghazalغزل
aavaaz apne dil ki huun baang-e-daraa nahin
آواز اپنے دل کی ہوں بانگ درا نہیں آئے نہ میرے پاس جو درد آشنا نہیں غیروں سے بھی نباہ تمہارا نہ ہو سکا کیا اب بھی یہ کہو گے کہ تم بے وفا نہیں چہروں پہ اختلاف صداؤں میں انتشار اس شہر سنگ دل میں کوئی ہم نوا نہیں یوں گمرہی میں آج ہے ہر شخص مبتلا جیسے زمانے بھر میں کوئی رہنما نہیں منزل کدھر ہے اور کدھر راستہ کمالؔ وہ کیا بتائے جس کو خود اپنا پتا نہیں
dil ki aavaaz jo alfaaz mein Dhaali hui hai
دل کی آواز جو الفاظ میں ڈھالی ہوئی ہے آرزوؤں کے چمن زار کی پالی ہوئی ہے ہم اسیران محبت ہیں ہمیں کیا معلوم کس کی دستار سر بزم اچھالی ہوئی ہے ہر طرف دار و رسن کے ہیں مراکز تو رہیں سرفروشوں سے یہ دنیا کہیں خالی ہوئی ہے اس کی تہہ میں ہیں نہاں سینکڑوں انداز فسوں رسم تقریب جو محفل سے نکالی ہوئی ہے خواب و تعبیر کی رقصندہ شگفتہ سی کلی دامن شوق میں مدت سے سنبھالی ہوئی ہے خواہ غیروں سے ہو یا اپنے عزیزوں سے کمالؔ گفتگو میری ہوئی ہے تو مثالی ہوئی ہے
dasht-e-gham se guzar rahaa huun main
دشت غم سے گزر رہا ہوں میں تیرگی میں نکھر رہا ہوں میں وقت نے قدر کی نہیں ورنہ وقت کا ہم سفر رہا ہوں میں بکھرا بکھرا ہوں ایک مدت سے رفتہ رفتہ سنور رہا ہوں میں خود نمائی کی ہر بلندی سے زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں شکر تیرا کہ اے جنون سفر خود سے بھی بے خبر رہا ہوں میں نام میرا کمالؔ ہے لیکن عمر بھر بے اثر رہا ہوں میں
gul-o-saman ki tarah dil mein hans rahe hain ham
گل و سمن کی طرح دل میں ہنس رہے ہیں ہم یہ اور بات بظاہر بجھے بجھے ہیں ہم کوئی بھی واہمہ گمراہ کر نہیں سکتا ترے خیال کی زنجیر میں بندھے ہیں ہم کبھی تو الجھا کئے کیسے کیسے لوگوں سے کبھی تو ایسے ہوا خود سے لڑ پڑے ہیں ہم نگار خانے میں تصویر خستہ تر کی طرح کسی کے سامنے کب سے سجے ہوئے ہیں ہم کئے ہیں اوروں پہ تنقید و تبصرے لیکن خود اپنا جائزہ اب تک نہ لے سکے ہیں ہم ہمیشہ آپ کو سمجھا کہ آپ اپنے ہیں ہمیشہ آپ نے سمجھا کہ دوسرے ہیں ہم کمالؔ ہم سے خوشامد کسی کی ہو نہ سکی اس اعتبار سے مشہور سرپھرے ہیں ہم
ham bayaabaan se gulistaan ki taraf aa na sake
ہم بیاباں سے گلستاں کی طرف آ نہ سکے رغبت خار رہی پھول ہمیں بھا نہ سکے آج تک راہ حقیقت میں رہے میرے قدم مجھ کو بدلے ہوئے حالات بھی بہکا نہ سکے یوں تو کہنے کو نمائندہ ہیں اسلاف کے ہم ان کے قدموں کی مگر گرد کو بھی پا نہ سکے ان بہاروں سے خدا دور ہمیشہ رکھے جن سے اپنے دل برگشتہ کو بہلا نہ سکے دکھ بھرے دن ہوں کہ ہوں غم کی بھیانک راتیں آج تک ہم کسی ماحول میں گھبرا نہ سکے کیسے انسان سے انسان ملیں گے دل سے اپنے ذہنوں سے جب اوہام کے بت ڈھا نہ سکے ایسے جینے سے تو حاصل نہیں کچھ فیض کمالؔ روشنی بن کے اندھیروں پہ اگر چھا نہ سکے
dhuaan hi dhuaan shaah-raahon mein thaa
دھواں ہی دھواں شاہراہوں میں تھا مرا شہر شعلوں کی بانہوں میں تھا حیا کا ذرا شائبہ تک نہیں کسی کی نشیلی نگاہوں میں تھا بڑے پیار سے آج مجھ سے ملا جو حائل کبھی میری راہوں میں تھا بظاہر تو تھا وہ فرشتہ صفت مگر میرے جھوٹے گواہوں میں تھا ملی بے گناہی کی اس کو سند جو ڈوبا سراپا گناہوں میں تھا کمالؔ آج وہ بھی حریفوں میں ہے جو برسوں مرے خیر خواہوں میں تھا





