SHAWORDS
Kamal Jafari

Kamal Jafari

Kamal Jafari

Kamal Jafari

poet
5Sher
5Shayari
18Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

aavaaz apne dil ki huun baang-e-daraa nahin

آواز اپنے دل کی ہوں بانگ درا نہیں آئے نہ میرے پاس جو درد آشنا نہیں غیروں سے بھی نباہ تمہارا نہ ہو سکا کیا اب بھی یہ کہو گے کہ تم بے وفا نہیں چہروں پہ اختلاف صداؤں میں انتشار اس شہر سنگ دل میں کوئی ہم نوا نہیں یوں گمرہی میں آج ہے ہر شخص مبتلا جیسے زمانے بھر میں کوئی رہنما نہیں منزل کدھر ہے اور کدھر راستہ کمالؔ وہ کیا بتائے جس کو خود اپنا پتا نہیں

غزل · Ghazal

dil ki aavaaz jo alfaaz mein Dhaali hui hai

دل کی آواز جو الفاظ میں ڈھالی ہوئی ہے آرزوؤں کے چمن زار کی پالی ہوئی ہے ہم اسیران محبت ہیں ہمیں کیا معلوم کس کی دستار سر بزم اچھالی ہوئی ہے ہر طرف دار و رسن کے ہیں مراکز تو رہیں سرفروشوں سے یہ دنیا کہیں خالی ہوئی ہے اس کی تہہ میں ہیں نہاں سینکڑوں انداز فسوں رسم تقریب جو محفل سے نکالی ہوئی ہے خواب و تعبیر کی رقصندہ شگفتہ سی کلی دامن شوق میں مدت سے سنبھالی ہوئی ہے خواہ غیروں سے ہو یا اپنے عزیزوں سے کمالؔ گفتگو میری ہوئی ہے تو مثالی ہوئی ہے

غزل · Ghazal

dasht-e-gham se guzar rahaa huun main

دشت غم سے گزر رہا ہوں میں تیرگی میں نکھر رہا ہوں میں وقت نے قدر کی نہیں ورنہ وقت کا ہم سفر رہا ہوں میں بکھرا بکھرا ہوں ایک مدت سے رفتہ رفتہ سنور رہا ہوں میں خود نمائی کی ہر بلندی سے زینہ زینہ اتر رہا ہوں میں شکر تیرا کہ اے جنون سفر خود سے بھی بے خبر رہا ہوں میں نام میرا کمالؔ ہے لیکن عمر بھر بے اثر رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

gul-o-saman ki tarah dil mein hans rahe hain ham

گل و سمن کی طرح دل میں ہنس رہے ہیں ہم یہ اور بات بظاہر بجھے بجھے ہیں ہم کوئی بھی واہمہ گمراہ کر نہیں سکتا ترے خیال کی زنجیر میں بندھے ہیں ہم کبھی تو الجھا کئے کیسے کیسے لوگوں سے کبھی تو ایسے ہوا خود سے لڑ پڑے ہیں ہم نگار خانے میں تصویر خستہ تر کی طرح کسی کے سامنے کب سے سجے ہوئے ہیں ہم کئے ہیں اوروں پہ تنقید و تبصرے لیکن خود اپنا جائزہ اب تک نہ لے سکے ہیں ہم ہمیشہ آپ کو سمجھا کہ آپ اپنے ہیں ہمیشہ آپ نے سمجھا کہ دوسرے ہیں ہم کمالؔ ہم سے خوشامد کسی کی ہو نہ سکی اس اعتبار سے مشہور سرپھرے ہیں ہم

غزل · Ghazal

ham bayaabaan se gulistaan ki taraf aa na sake

ہم بیاباں سے گلستاں کی طرف آ نہ سکے رغبت خار رہی پھول ہمیں بھا نہ سکے آج تک راہ حقیقت میں رہے میرے قدم مجھ کو بدلے ہوئے حالات بھی بہکا نہ سکے یوں تو کہنے کو نمائندہ ہیں اسلاف کے ہم ان کے قدموں کی مگر گرد کو بھی پا نہ سکے ان بہاروں سے خدا دور ہمیشہ رکھے جن سے اپنے دل برگشتہ کو بہلا نہ سکے دکھ بھرے دن ہوں کہ ہوں غم کی بھیانک راتیں آج تک ہم کسی ماحول میں گھبرا نہ سکے کیسے انسان سے انسان ملیں گے دل سے اپنے ذہنوں سے جب اوہام کے بت ڈھا نہ سکے ایسے جینے سے تو حاصل نہیں کچھ فیض کمالؔ روشنی بن کے اندھیروں پہ اگر چھا نہ سکے

غزل · Ghazal

dhuaan hi dhuaan shaah-raahon mein thaa

دھواں ہی دھواں شاہراہوں میں تھا مرا شہر شعلوں کی بانہوں میں تھا حیا کا ذرا شائبہ تک نہیں کسی کی نشیلی نگاہوں میں تھا بڑے پیار سے آج مجھ سے ملا جو حائل کبھی میری راہوں میں تھا بظاہر تو تھا وہ فرشتہ صفت مگر میرے جھوٹے گواہوں میں تھا ملی بے گناہی کی اس کو سند جو ڈوبا سراپا گناہوں میں تھا کمالؔ آج وہ بھی حریفوں میں ہے جو برسوں مرے خیر خواہوں میں تھا

Similar Poets