"hamara daur andheron ka daur hai lekin hamare daur ki muTThi men aftab bhi hai"

Kanval Ziai
Kanval Ziai
Kanval Ziai
Sherشعر
hamara daur andheron ka daur hai lekin
ہمارا دور اندھیروں کا دور ہے لیکن ہمارے دور کی مٹھی میں آفتاب بھی ہے
hamara khuun ka rishta hai sarhadon ka nahin
ہمارا خون کا رشتہ ہے سرحدوں کا نہیں ہمارے خون میں گنگا بھی چناب بھی ہے
chand sanson ke liye bikti nahin khuddari
چند سانسوں کے لئے بکتی نہیں خودداری زندگی ہاتھ پہ رکھی ہے اٹھا کر لے جا
jis men chhupa hua ho vajud-e-gunah-o-kufr
جس میں چھپا ہوا ہو وجود گناہ و کفر اس معتبر لباس پہ تیزاب ڈال دو
Popular Sher & Shayari
8 total"hamara khuun ka rishta hai sarhadon ka nahin hamare khuun men ganga bhi chanab bhi hai"
"chand sanson ke liye bikti nahin khuddari zindagi haath pe rakkhi hai uTha kar le ja"
"jis men chhupa hua ho vajud-e-gunah-o-kufr us mo'atabar libas pe tezab Daal do"
hamaaraa daur andheron kaa daur hai lekin
hamaare daur ki muTThi mein aaftaab bhi hai
hamaaraa khuun kaa rishta hai sarhadon kaa nahin
hamaare khuun mein gangaa bhi chanaab bhi hai
chand saanson ke liye bikti nahin khuddaari
zindagi haath pe rakkhi hai uThaa kar le jaa
jis mein chhupaa huaa ho vajud-e-gunaah-o-kufr
us mo'atabar libaas pe tezaab Daal do
Ghazalغزل
bahut dinon se khulaa dar talaash kartaa huun
بہت دنوں سے کھلا در تلاش کرتا ہوں میں اپنے گھر میں کھڑا گھر تلاش کرتا ہوں پلک پہ قطرۂ شبنم اٹھائے صدیوں سے ترے کرم کا سمندر تلاش کرتا ہوں نظر میں جیت کی تصدیق کا سوال لیے گلی گلی میں سکندر تلاش کرتا ہوں بدن بدن سے خلوص و وفا کی خوشبوئیں میں سونگھ کر نہیں چھوکر تلاش کرتا ہوں لبوں کی پیاس بجھانے کے واسطے ساقی کسی بزرگ کا ساغر تلاش کرتا ہوں جواہرات کے اک ڈھیر پر کھڑا ہو کر نئی پسند کا پتھر تلاش کرتا ہوں تو آندھیوں کے تشدد کی بات کرتا ہے میں اپنے ٹوٹے ہوئے پر تلاش کرتا ہوں
zamaane ko lahu piine ki lat hai
زمانے کو لہو پینے کی لت ہے مگر پھر بھی یہاں سب خیریت ہے ہماری شخصیت کیا شخصیت ہے ہر اک تیور دکھاوے کی پرت ہے ہمارا گھر بہت چھوٹا ہے لیکن ہمارا گھر ہماری سلطنت ہے یہ قطرہ خون کا دریا بنے گا ابھی انسان زیر تربیت ہے تعارف ہم سے اپنی ذات کا بھی ابھی اہل کرم کی معرفت ہے لکھے ہیں گیت برساتوں کے جس پر ہمارے گھر پہ اس کاغذ کی چھت ہے مری آنکھوں میں تلخی اس جہاں کی ترے چہرے پہ خوف عاقبت ہے
kahaan tak baDh gai hai baat likhnaa
کہاں تک بڑھ گئی ہے بات لکھنا مرے گاؤں کے سب حالات لکھنا جواں بیٹوں کی لاشوں کے علاوہ ملی ہے کون سی سوغات لکھنا کوئی سوتا ہے یا سب جاگتے ہیں وہاں کٹتی ہے کیسے رات لکھنا لہو دھرتی میں کتنا بو چکے ہو نئی فصلوں کی بھی اوقات لکھنا کہاں جلتا رہا دھرتی کا سینہ کہاں ہوتی رہی برسات لکھنا ہماری سر زمیں کس رنگ میں ہے وہاں بہتے لہو کی ذات لکھنا میں چھپ کر گھر میں آنا چاہتا ہوں لگی ہے کس گلی میں گھات لکھنا
roz falak se nam barseinge
روز فلک سے نم برسیں گے پیار کے بادل کم برسیں گے موت نے آنچل جب لہرایا آنگن میں ماتم برسیں گے قطرہ قطرہ خون کا بن کر اس دھرتی پر ہم برسیں گے زلف کھلے گی پروائی کی گلشن پر موسم برسیں گے اب کے برس برسات میں بھائی دکھ برسیں گے غم برسیں گے بن کر رسوائی کے آنسو تیری آنکھ سے ہم برسیں گے ہم وہ دیوانے ہیں جن پر پتھر اب پیہم برسیں گے
ruh-e-ajdaad ko jhinjhoD diyaa bachchon ne
روح اجداد کو جھنجھوڑ دیا بچوں نے سارے حالات کا رخ موڑ دیا بچوں نے آخری ایک کھلونا تھا روایت کا وقار باتوں باتوں میں جسے توڑ دیا بچوں نے گھر کا ہر شخص نظر آتا ہے بت پتھر کا جب سے رشتوں کو نیا موڑ دیا بچوں نے زندگی آج ہے اک ایسے اپاہج کی طرح لا کے جنگل میں جسے چھوڑ دیا بچوں نے آج کے دور کی تہذیب کا پتھر لے کر ایک دیوانے کا سر پھوڑ دیا بچوں نے زد میں آ جائیں گے سب شہر سبھی گاؤں بھی موج دریا کو کدھر موڑ دیا بچوں نے سب بزرگوں کے تبسم کو دکھاوا کہئے ورنہ یہ سچ ہے کہ دل توڑ دیا بچوں نے
harfon kaa dil kaanp rahaa hai lafzon ki divaar ke pichhe
حرفوں کا دل کانپ رہا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے کس قاتل کا نام لکھا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے خون سے جلتا ایک دیا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے آج بھی کتنی گرم ہوا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے کروٹ لے کر ایک قیامت جاگنے والی ہے اب شاید کہنے کو اک سناٹا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے سہما سہما کھویا کھویا کب سے بیٹھا سوچا رہا ہوں کس نے مجھ کو قید کیا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے سب جانے پہچانے چہرے میں بھی تو بھی یہ بھی وہ بھی لاشوں کا اک شہر بسا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے لفظوں کی دیوار کے آگے عکس ابھر آیا ہے کس کا خنجر لے کر کون کھڑا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے روح غزل پر تنہائی میں جانے کتنے وار ہوئے ہیں مصرع مصرع تھراتا ہے لفظوں کی دیوار کے پیچھے





