tark-e-taalluqaat pe royaa na tu na main
lekin ye kyaa ki chain se soyaa na tu na main

Khalid Ahmad
Khalid Ahmad
Khalid Ahmad
Popular Shayari
4 totalvo gali ham se chhuTti hi nahin
kyaa karein aas TuTti hi nahin
qumqumon ki tarah qahqahe jal bujhe
mez par chaae ki pyaaliyaan rah gaiin
phuul se baas judaa fikr se ehsaas judaa
fard se TuuT gae fard qabile na rahe
Ghazalغزل
حال ہوا جب پوچھنے آئی ہم مجبوروں سے کوئی بات کہاں بن پائی ہم مجبوروں سے آج سبھی دکھ آنسو بن کر آنکھ میں تیر گئے کھیل رہی تھی کھیل خدائی ہم مجبوروں سے وہ بے پردہ وہ بے پروا وہ یک سر یک تال بات کرے یا وہ ہرجائی ہم مجبوروں سے پاؤں توڑ کے بیٹھ رہے ہیں راہ کے پتھر بھی چاہ رہے تھے راہ نمائی ہم مجبوروں سے کس آہٹ کی بہار سے پگ پگ دھول کے پھول کھلے کس موسم نے ٹھوکر کھائی ہم مجبوروں سے کس کے لمس کے عکس نما ہیں خوشبو کے جھونکے پوچھ نہ بیٹھے گل صحرائی ہم مجبوروں سے بال نچوڑ کے جھٹکے کس نے دکھ کے دل بادل پوچھ رہی ہے یہ پروائی ہم مجبوروں سے درد کے رخ دروازے رکھیں چاند کے رخ کھڑکی کاش کرائے وہ چنوائی ہم مجبوروں سے کار نمو آغاز رہے گا گور ہو یا گلشن رت نے سیکھی گل آرائی ہم مجبوروں سے آنکھیں ہونٹوں کے تالے بھی کھلتے دیکھیں گی دنیا چھین تو لے گویائی ہم مجبوروں سے راہ دکھانے والے کس دن کس پل آ پہنچیں کب چھن جائے یہ بینائی ہم مجبوروں سے نور چراغ طاق تغافل دل تاریک نہ کر بول کچھ اے ماہ یکتائی ہم مجبوروں سے زہر پیالہ پی لو خالدؔ سلگ اٹھو خالدؔ کیا کیا کہتی تھی شہنائی ہم مجبوروں سے
haal havaa jab puchhne aai ham majburon se
بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے لب رسیلے نہ رہے نین نشیلے نہ رہے اشک برسے تو دروں خانۂ جاں سیل گیا درد چمکا تو در و بام بھی گیلے نہ رہے پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدا فرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے ٹیس اٹھتی ہے مگر چیخ نہیں ہو پاتی تیرے پھینکے ہوئے پتھر بھی نکیلے نہ رہے موت نے چھین لیا رنگ بھی نم بھی خالدؔ آنکھ بھی سوکھ گئی ہونٹ بھی نیلے نہ رہے
baat se baat nikalne ke vasile na rahe
اک گام سر راہ سپاس آئی نہ دنیا دریوزۂ عقبیٰ تھا سو راس آئی نہ دنیا محروم رہی صحبت مردان رضا سے کس حسن کی دہشت تھی کہ پاس آئی نہ دنیا ناچی ہے برہنہ سر بازار ہمیشہ اک بار تہ تار لباس آئی نہ دنیا اے راندۂ دنیا تجھے کیا غم کہ مجھ ایسے پروردۂ دنیا کو بھی راس آئی نہ دنیا خالدؔ افق خاک رہا رنگ میں غلطاں مجھ تک کبھی لے کر تری باس آئی نہ دنیا
ik gaam sar-e-raah-e-sipaah aai na duniyaa
پھر وہی مہرباں ہوا آئی اے مری بے چراغ تنہائی بین کرنے لگیں نہ سناٹے پاسداران گوش و گوپائی کس نے توفیق سے سوا پایا دل نے غم آنکھ نے نمی پائی عشق کا اجر ہے دل رسوا پارسائی عذاب دانائی یہ اسی شہر کے منارے ہیں اے تحیر سرشت بینائی! چار جانب وہی دھندلکے ہیں گمرہو! پھر وہی گلی آئی نا سپاسوں میں با وقار نہ بن اے مری بے وقار گویائی
phir vahi mehrbaan huaa aai
کس بات پہ گر گئے نظر سے پوچھے تو صدف صف گہر سے اے دشت نورد دل پلٹ بھی اے خاک بہ سر نکل بھی گھر سے ہم غرق جمال کیا بتائیں کس آن گزر گیا وہ سر سے ہر چند غبار راہ تھے ہم نکلے نہ حصار رہ گزر سے دستک کی طرح جو ابھرے خالدؔ کس دھن میں پلٹ گئے تھے در سے
kis baat pe gir gae nazar se
غم فراہم ہیں مگر ان کی فراوانی نہیں اے گراں جانی یہاں کوئی بھی آسانی نہیں چار سو اک برف بستہ عہد نم کا راج ہے دھوپ میں حدت نہیں دریاؤں میں پانی نہیں یاد ہے کیا کام ہے اس شہر کا کیا نام ہے سب کچھ اس جیسا ہے لیکن آسماں دھانی نہیں زندگی کے دکھ ازل سے زندگی کے ساتھ ہیں لوگ فانی ہیں مگر لوگوں کے دکھ فانی نہیں زندگی بھر صرف اسے پوجا مگر گھر بیٹھ کر پاسداران وفا کا کام دربانی نہیں اک شجر کے کوئی دو پتے بھی اک جیسے نہ تھے میری دنیا میں کسی شے کا کوئی ثانی نہیں
gham faraaham hain magar un ki faraavaani nahin





